پاکستانتازہ ترینکاروبار
محکمہ خوراک سونے کی چڑیا یا چیف سیکرٹری بے بس؟عظمان چودھری نے تاحال اے ڈی سی وہاڑی کا چارج نہ لیا،عوام خوار
چیف سیکرٹری کی تبدیلی کی افواہوں پر افسرشاہی کی من مانیاں، عظمان چودھری پر آٹا مہنگا کرنے اور اختیارات سے تجاوز کے سنگین الزامات،نئی جگہ اختیارات میں کمی یا کارروائی کا خوف سوالیہ نشان

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)پنجاب میں چیف سیکرٹری کی تبدیلی کی گردش کرتی افواہوں کے ساتھ ہی صوبائی افسرشاہی کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اعلیٰ حکام کے انتظامی احکامات کو ہوا میں اڑائے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، جس کی تازہ مثال محکمہ خوراک کے سابق ڈپٹی فوڈ کنٹرولرمحمد عظمان چودھری بن گئے ہیں جن کو حال ہی میں7اگست کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وہاڑی تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکاہے۔
ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب نے 7 اگست 2026ء کو افسران کے تبادلوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے فوری جوائننگ کی ہدایت کی تھی، مگر کئی دن گزر جانے کے بعد بھی موصوف نے پرانے عہدے کا چارج نہیں چھوڑا۔
آٹا مہنگا کرنے اور اختیارات سے تجاوز کے سنگین الزامات
محکمہ خوراک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عظمان چودھری کے خلاف نااہلی، کرپشن، اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی سنگین شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ان کی ناقص حکمت عملی اور عدم توجہی کے باعث علاقے میں آٹے کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہوا، جس نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا۔ اس کے علاوہ مل مالکان کو نوازنے اور قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اختیارات سے تجاوز کرنے کے سنگین الزامات بھی ان کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں۔
نئی جگہ اختیارات میں کمی یا کارروائی کا خوف؟
سیاسی و انتظامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ محمد عظمان چودھری آخر کس خوف یا مفاد کے تحت پرانی کرسی سے چپکے ہوئے ہیں؟ کیا انہیں نئی جگہ اختیارات اور مبینہ مالی فوائد میں کمی کا خدشہ ہے، یا پھر انہیں ڈر ہے کہ چارج چھوڑتے ہی ان کی نااہلی اور آٹے کی گرانفروشی کی اندرونی فائلیں کھل جائیں گی؟
ضلع وہاڑی میں انتظامی امور التوا کا شکار
دوسری جانب ان کا تبادلہ ضلع وہاڑی کے ایک اہم ترین عہدے پر کیا گیا ہے جہاں ان کی عدم موجودگی کے باعث وہاڑی جیسا بڑا زرعی ضلع شدید انتظامی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ ایک افسر کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عوام کے روزمرہ امور التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔
چیف سیکرٹری کی کمزوری یا بڑی پشت پناہی؟
صوبائی کیڈر میں اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا چیف سیکرٹری پنجاب کی گرفت انتظامیہ پر کمزور ہو چکی ہے، یا پھر آٹا بحران اور اختیارات کے تجاوز کے الزامات میں گھیرے اس افسر کی پشت پر محکمہ خوراک کے کسی اعلیٰ حکمران یا طاقتور شخصیت کا ہاتھ ہے؟
عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی گرانی کے ذمہ دار اور حکم عدولی کرنے والے افسر کے خلاف فوری انکوائری قائم کر کے سخت ترین قانونی اور نظم و ضبط کی کارروائی کی جائے۔



