پاکستانکالم

مسلم لیگ کے خالق سر میاں محمد شفیع

( سپیڈ بریکر ،میاں حبیب)

تاریخ میں شخصیات اپنے کردار کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں اربوں لوگ اس دنیا میں آئے لیکن ہمیں تاریخ میں چند لوگوں کا ذکر ملتا ہے یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے کچھ کر دکھایا جو ویژن رکھتی تھیں ان شخصیات نے اپنے لیے نہیں قوم کے لیے زندگی بسر کی یہ خاصیت بھی بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے سوچتے ہیں ایسی ہی ایک شخصیت سر میاں محمد شفیع کی آج برسی ہے جی اسی سر میاں محمد شفیع کی برسی جس نے 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں محمدن ایجوکیشنل کانفرنس جس کی صدارت نواب وقار الملک نے کی جبکہ میزبانی نواب سلیم اللہ نے کی تھی اس اجلاس میں نواب محسن الملک مولانا محمد علی جوہر سمیت اہم افراد شامل تھے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کی تشکیل اسی اجلاس میں سر انجام پائی اور اسی اجلاس میں سر میاں محمد شفیع اور ان کے رفقاء نے مسلمانان ہند کی جماعت کا نام آل انڈیا مسلم لیگ تجویز کیا تھا یہ مسلمانان ہند کا ایک نمائندہ اجلاس تھا جس میں 3 ہزار اہم افراد شریک تھے سر میاں محمد شفیع 10 مارچ 1869 کو باغبانپورہ کے آرائیں میاں خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے باغبانپورہ سے مڈل مشن ہائی سکول رنگ محل سے میٹرک کیا وہ ایف سی کالج گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی زیر تعلیم رہے وہ اعلی تعلیم کے لیے لندن چلے گئے جہاں سے انہوں نے بار ایٹ لاء کیا ان کے کزن چچا زاد بھائی میاں شاہ دین پہلے ہی لندن میں زیر تعلیم تھے دونوں بھائیوں نے مل کر لندن میں انجمن اسلامیہ بنائی جس کے پہلے صدر عبدالرحیم اور سیکرٹری شاہ دین تھے 1890 میں میاں محمد شفیع کو صدر بنایا گیا وہ 1892 میں وطن واپس آ گئے اور ہوشیار پور سے وکالت شروع کی وہ الہ آباد ہائیکورٹ میں بھی پریکٹس کرتے رہے تاہم بعد ازاں وہ لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کرنے لگے ان کا شمار برصغیر کے نامور وکلاء میں ہوتا تھا وہ محمڈن ایجوکیشن کانفرنس میں سر سید احمد خان کے ہم نوا تھے سر میاں محمد شفیع کے خاندان نے بہت سے سیاستدان اور وکیل پیدا کیے جنہوں نے پاکستان اور بر صغیر کے مسلمانوں کی خدمت کی جن میں پاکستان کے پہلے چیف جسٹس میاں عبدالرشید، بیگم شاہنواز، میاں شاہ دین، میاں افتخار الدین اور میاں بشیر احمد شامل ہیں ۔بیرسٹر سر میاں محمد شفیع مسلم لیگ کے بانی رکن تھے انہوں نے مسلم لیگ کی پنجاب شاخ قائم کی جس کے وہ پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور بعد میں صدر منتخب ہوئے جبکہ ان کے ساتھ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) جنرل سیکرٹری بنے۔ سر میاں محمد شفیع کی قیادت میں پنجاب کے ہر ضلع میں مسلم لیگ کے دفاتر قائم ہوئے ان کی دو صاحبزادیوں بیگم جہاں آرا شاہ نواز اور بیگم گیتی آرا بشیر احمد نے بھی بڑی شہرت پائی انھوں نے تحریک پاکستان میں پنجاب کی خواتین میں سیاسی شعور اُجاگر کیا۔ سر شفیع برٹش انڈیا دور میں بانی چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی،ممبر قانون ساز اسمبلی برٹش انڈیا،وزیر تعلیم اور بعد میں وزیر قانون برٹش انڈیا رہے۔ انہوں نے 1931 میں لندن میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ گول میز کانفرنس میں برصغیر کے مسلمانوں کی نمائندگی بھی کی۔ سر شفیع کا شمار برصغیر کے معروف بیرسٹر حضرات میں ہوتا تھا۔ وہ 1917 میں پنجاب بار کونسل کے پہلے مسلمان صدر کے طور پر منتخب ہوئے انھوں نے 1919 میں لاہور میں ہونے والی پہلی پنجاب صوبائی بار کانفرنس کی صدارت بھی کی۔ وہ اپنے آبائی علاقے باغبانپورہ کے علاوہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی بے شمار یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرتے تھے۔ انہیں تعلیم میں خصوصی دلچسپی تھی انھوں نے پنجاب مسلم ایجوکیشنل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ وہ یونیورسٹی کے فنڈ کے لیے تین لاکھ (اس وقت یہ ایک بہت بڑی رقم تھی) جمع کرنے میں کامیاب ہوئے انھوں نے پنجاب کے عوام کو باشعور بنانے کے لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دی انھوں نے پنجاب بھر میں تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے اپنی جائیداد سے خطیر رقم عطیہ کی۔ وہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے صدر بھی رہے۔ بیرسٹر سر میاں محمد شفیع نے اپنے قبیلے کی بہتری کے لیے انتھک محنت کی۔ انہوں نے 1915 میں انجمن آرائیاں ہند کی بنیاد رکھی اور اسی سال لاہور میں پہلا اجلاس ہوا ۔ اس موقع پر پنجاب بھر سے آرائیں برادری کے نمائندوں نے سر میاں محمد شفیع کو سربراہ تسلیم کیا ۔ ان کی فیملی نے سابقہ ضلع مظفر گڑھ موجودہ ضلع لیہ تحصیل چوبارہ میں ایک بہت بڑا زرعی رقبہ انجمن کو عطیہ کیا اور انہوں نے ہمیشہ قبیلے کو متحد رہنے، ملک کی بہتری کے لیے کام کرنے اور تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔ بیرسٹر سر میاں محمد شفیع کا انتقال 7 جنوری 1932 کو ہوا اور انہیں اپنے آبائی قبرستان باغبانپورہ لاہور میں سپرد خاک کیا گیا ۔ پنجاب کے اس نامور بیٹے کو الوداع کرنے کے لیے لاہور میں ان کے جنازے میں 50 ہزار سے زائد شہریوں نے شرکت کی۔ اللہ تعالی سر میاں محمد شفیع کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ سر میاں محمد شفیع کے لگائے گئے پودے کی آبیاری کا بیڑہ آج کل میاں محمد سعید ڈیرے والا نے اٹھایا ہوا ہے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیرسٹر سر میاں محمد شفیع مرحوم کے مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ بلا تفریق انسانیت کی خدمت پر عمل پیرا ہیں سر میاں شفیع کی خصوصی تلقین کے مطابق نوجوانوں کے لیے تعلیم و تربیت کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے روشناس کروانے اور روزگار کمانے کے قابل بنانے کے لیے مفت کمپیوٹر کورسز کروانے کا اہتمام کر رکھا دور دراز دیہات میں خواتین کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کیے ہیں لاہور میں وسیع دستر خوان کا انتظام کر رکھا ہے کرونا کے دوران ان کی خدمات کو پنجاب حکومت نے خصوصی طور پر سراہا سیلاب زلزلہ اور قدرتی آفات کے موقع پر ملک بھر میں ریلیف کے کاموں میں مدد کی غریب بچیوں کی مشترکہ شادیوں اور رمضان المبارک میں بڑے پیمانے پر راشن کی تقسیم کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے جلد ہی مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے غریب ذہین بچوں کے لیے اکیڈمی قائم کی جا رہی ہے اور دور دراز سے لاہور میں آنے والے مستحق طلباء کے لیے ہوسٹل کا انتظام کیا جا رہا ہے زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں آئیں ہم بھی آج اس دھرتی کے عظیم سپوت سر میاں محمد شفیع کو یاد کریں اور ان کے خدمت کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button