انسانیت کی نیلامی

کبھی کبھی تاریخ قوموں کو ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں خاموش رہنا بھی جرم بن جاتا ہے۔ آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے انسانیت کو بھی بازار میں لا کھڑا کیا ہے؟
دنیا بھر میں طاقت اور مفادات کا کھیل جاری ہے۔ کہیں جنگ کی آگ گھروں کو جلا رہی ہے، کہیں بھوک معصوم بچوں سے بچپن چھین رہی ہے، کہیں مہنگائی نے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات کھلی سڑکوں، ٹوٹے گھروں اور خالی برتنوں میں سنائی دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ سستی اگر کوئی چیز ہوئی ہے تو وہ انسان کی جان اور اس کی عزتِ نفس ہے۔
پاکستان میں یہ المیہ صرف خبر نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہے۔
تباہ کن سیلابوں نے بستیاں نگل لیں۔ کھیت، مویشی، گھرسب کچھ پانی میں بہہ گیا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ ایک لمحے میں نسلوں کی کمائی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد مہنگائی کا طوفان آیا۔ آٹا، چینی، بجلی، دوائی—سب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے گئے۔ ایک باپ خالی جیب لیے گھر آتا ہے اور بچوں کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر نظریں جھکا لیتا ہے۔ ایک ماں اپنی بھوک چھپا کر بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ نوجوان ڈگریاں لیے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر مواقع ناپید ہیں۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں، یہ انسانیت کی آزمائش ہے۔
یہی ہے “انسانیت کی نیلامی” جب انسان کی قدر اس کی انسانیت سے نہیں بلکہ اس کی مالی حیثیت سے لگائی جائے۔ جب اقتدار کی سیاست عوام کی بھوک سے زیادہ اہم ہو جائے۔ جب وسائل چند ہاتھوں میں قید ہوں اور اکثریت محرومی میں جکڑی رہے۔ جب فیصلے اشرافیہ کے مفاد میں ہوں اور قیمت عام آدمی ادا کرے۔
دنیا میں طاقتور ممالک معاہدوں اور پالیسیوں کی بات کرتے ہیں، مگر کمزور معاشروں کی چیخیں اُن کاغذوں میں دب جاتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ اُن کندھوں پر ہے جن کا قصور سب سے کم تھا۔ اور ہمارے اپنے نظام کی کمزوریاں، بدانتظامی اور خود غرضی اس زخم کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔
پھر بھی، اس اندھیرے میں روشنی کی کرن موجود ہے۔
جب سیلاب آیا اور زمین نے ساتھ چھوڑ دیا، تب پاکستان کی مسلح افواج سب سے آگے کھڑی تھیں۔ جوانوں نے تیز پانیوں میں کود کر جانیں بچائیں، بچوں کو کندھوں پر اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچایا، راشن اور دوائیں دور دراز علاقوں تک پہنچائیں، عارضی کیمپ قائم کیے۔ یہی سپاہی ہماری پیچیدہ اور کٹھن سرحدوں پر برف اور آگ کے درمیان ڈٹے رہتے ہیں۔ کئی اپنے لہو سے اس سرزمین کو سینچ دیتے ہیں تاکہ ہم سکون کی سانس لے سکیں۔ قوم ان قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
مگر آج وقت کا تقاضا ہے کہ عسکری قیادت اور تمام بااختیار حلقے اُن عوام کی طرف بھی پوری توجہ دیں جو ہر لمحہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جو خاموشی سے ٹوٹ رہے ہیں۔ جو ہر سیکنڈ مہنگائی، بے یقینی اور محرومی کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ کیونکہ یہ ملک صرف طاقت کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کا نہیں، یہ اُن مزدوروں، کسانوں، اساتذہ، طلبہ اور محنت کشوں کا بھی ہے جن کے کندھوں پر ریاست کھڑی ہے۔
اگر عام آدمی زندہ نہ رہ سکا، اگر متوسط اور غریب طبقہ ہی ختم ہو گیا، تو کوئی محل، کوئی پروٹوکول، کوئی اختیار محفوظ نہیں رہے گا۔ جب بنیاد کمزور ہو جائے تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ اگر عوام کی سانس گھٹتی رہی تو اس کا اثر ہر دروازے تک پہنچے گا۔
اقتدار، دولت اور اختیار رکھنے والوں سے میرا سیدھا سوال ہے: اگر عوام ہی باقی نہ رہے تو آپ کس پر حکمرانی کریں گے؟ اگر نوجوانوں کے خواب مر گئے تو مستقبل کس کا ہوگا؟ اور اُس دن جب سب کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، جب آپ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے، تو کیا جواب دیں گے؟ کیا آپ کہہ سکیں گے کہ آپ نے انسانیت کو نیلام ہونے سے بچانے کی پوری کوشش کی تھی؟
اس حوالے سے چند اشعار
یہ کیسی منڈی سجی ہے، یہ کیسا سماں ہے
جہاں انسان بکتا ہے اور ضمیر بے زباں ہے
کسی ماں کی آنکھ نم ہے، کسی بچے کی فریاد ہے
مگر ایوانوں میں خاموشی ہے، بس اقتدار کی بات ہے
کسی کے چولہے میں راکھ ہے، کسی کے محل میں جشن ہے
یہ کیسا عدل کا سورج ہے جو صرف طاقتور کے بس میں ہے
گلیوں میں بھوک چیختی ہے، سڑکوں پہ خواب مرتے ہیں
مگر تخت کے سائے میں سب سوال دب جاتے ہیں
اے اہلِ اختیار سنو، یہ آہ رائیگاں نہ جائے گی
یہ آنسوؤں کی قیمت ہے، تاریخ گواہی دے جائے گی
کل جب رب کے حضور کھڑے ہو کر نظریں جھکاؤ گے
کیا کہو گے؟ انسان بچایا تھا… یا اسے نیلام کر آئے ہو؟



