بلاگ

  • اب بچے ڈاؤن سنڈرم کا شکار نہیں ہوں گے؟؟

    جنین کی سطح پر ڈاؤن سنڈرم جیسے عارضے کا علاج کیا جا سکے تو یہ کروڑوں والدین کے لیے خوش خبری ہوگی

    سائنس کی دنیا میں روز کوئی نہ کوئی حیران کن خبر گردش میں آتی ہے لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو انسانی سوچ کے دائرے کو وسعت دے دیتی ہیں۔ حال ہی میں جاپان کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق نے دنیا بھر کے طبّی اور سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خبر یہ ہے کہ اب بچے ڈاؤن سنڈرم کا شکار نہیں ہوں گے۔ بظاہر یہ جملہ ایک سادہ اطلاع لگتا ہے مگر اس کے اندر ایک ایسا انقلاب پوشیدہ ہے جو اگر حقیقت بن جائے تو انسانی جینوم کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہوگا۔ڈاؤن سنڈرم ایک جینیاتی عارضہ ہے جو انسانی کروموسوم نمبر21 کی ایک اضافی کاپی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
    یعنی قدرتی طور پر ہر انسان کے پاس23 جوڑے کروموسوم ہوتے ہیں لیکن ڈاؤن سنڈرم کے مریضوں میں 21واں کروموسوم تین بار موجود ہوتا ہے۔ اسی اضافی کروموسوم کے باعث بچے کی ذہنی نشونما سست رہتی ہے جسمانی ساخت میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں اور اکثر دل، معدے یا اعصابی نظام کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر ایک ہزار میں سے قریباً ایک بچہ اس کیفیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ سائنس دان دہائیوں سے اس راز کو سلجھانے کی کوشش میں ہیں کہ کیا اس اضافی کروموسوم کو ختم یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔


    حال ہی میں جاپان کی میا ئو یونیورسٹی کے محققین نے ایک تجربہ کیا جس نے دنیا بھر کے جینیاتی ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ انہوں نے CRISPR-Cas9 نامی جینی ترمیمی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انسانی خلیات سے اضافی کروموسوم21 کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو پچھلے کچھ برسوں میں جینی ایڈیٹنگ کے میدان میں انقلاب برپا کر چکی ہے۔ کریسپرایک طرح کی جینی قینچی ہے جو خلیے کے اندر موجود ڈی این اے کے مخصوص حصوں کو کاٹ سکتی ہے۔ جاپانی سائنس دانوں نے اس قینچی کو اس طرح ترتیب دیا کہ یہ اضافی کروموسوم کو پہچان کر اسے خلیے سے خارج کر دے جبکہ باقی دو نارمل کاپیاں محفوظ رہیں۔ابتدائی تجربات لیبارٹری کے ماحول میں کیے گئے جہاں انسانی فائبروبلاست اور سٹیم خلیات پر یہ عمل آزمایا گیا۔ حیرت انگیز طور پر خلیات میں اضافی کروموسوم کے ہٹنے کے بعد ان کی کارکردگی بہتر ہونے لگی۔


    ان خلیات میں توانائی کا توازن بہتر ہوا، آکسیڈیٹو دباؤ کم ہوا اور خلیاتی تقسیم کی رفتار میں بہتری دیکھی گئی۔ یوں لگنے لگا جیسے خلیات اپنی نارمل حالت کی طرف واپس جا رہے ہوں۔ یہ کامیابی اپنی جگہ ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی لیبارٹری میں انسانی خلیات سے اضافی کروموسوم کو مؤثر طریقے سے ہٹایا گیا۔مگر یہ کہنا کہ اب بچے ڈاؤن سنڈرم کا شکار نہیں ہوں گے سائنسی لحاظ سے ابھی قبل از وقت ہے۔ یہ تجربہ انسان یا حیوان پر نہیں بلکہ محض خلیاتی سطح پر کیا گیا ہے۔ خلیہ ایک مکمل جاندار نہیں ہوتا بلکہ جاندار کا ایک ننھا حصہ ہوتا ہے۔ انسانی جسم اربوں خلیات پر مشتمل ہےجن میں ہر ایک کی اپنی ساخت، کردار اور جینی سرگرمی ہوتی ہے۔ اگر ایک خلیہ درست ہو جائے تو بھی پورے نظام کو درست کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ کریسپر ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک خطرہ موجود رہتا ہے کہ کہیں وہ غلط جگہ ڈی این اے کو نہ کاٹ دے جسے سائنسی زبان میں ’’آف ٹارگٹ ایفیکٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو مرض ختم ہونے کے بجائے کوئی نیا جینیاتی عارضہ جنم لے سکتا ہے۔تحقیق کرنے والے سائنس دان خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ابھی یہ صرف پہلا قدم ہے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں اس تکنیک کو جانوروں کے خلیات پر آزمایا جائے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا پورے جاندار کی سطح پر بھی یہ ممکن ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہی انسانی سطح پر تجربات کا آغاز کیا جا سکے گا۔


    اگر سب کچھ کامیاب رہا تو شاید اگلے دس سے پندرہ برسوں میں یہ ٹیکنالوجی عملی شکل اختیار کر لے۔ لیکن تب بھی اخلاقی، سماجی اور قانونی سوالات اپنی جگہ قائم رہیں گے۔یہ سوالات معمولی نہیں ہیں۔ اگر سائنس دان واقعی انسانی جنین کے جینز میں تبدیلی لانے کے قابل ہو جائیں تو کیا ہم قدرتی تنوع کو ختم نہیں کر دیں گے؟ کیا ہر وہ بچہ جس میں کسی طرح کا جینیاتی فرق ہو، پیدا ہونے سے پہلے ہی مسترد کر دیا جائے گا؟ ڈاؤن سنڈرم کے شکار بچوں میں محبت، احساس اور معصومیت کی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ وہ اگرچہ جسمانی یا ذہنی طور پر مختلف ہوتے ہیں مگر ان کا وجود ہمیں انسانیت کا ایک نرم اور حساس پہلو دکھاتا ہے۔ کیا سائنس اس تنوع کو مٹا کر ایک ایسا معاشرہ بنا دے گی جہاں صرف ’’کامل‘‘ بچے پیدا ہوں؟پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جینی ترمیمی ٹیکنالوجی ابھی مہنگی اور محدود طبقے تک رسائی رکھتی ہے۔ اگر اسے بیماریوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کارِ خیر ہے مگر اگر اسے صرف’’بہتر نسل‘‘ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ ایک نئی قسم کی طبقاتی تفریق کو جنم دے گی۔ امیر والدین اپنے بچوں کے جین بہتر کروا سکیں گے جبکہ غریب بچے قدرت کے بھروسے پر رہ جائیں گے۔ یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں امیری اور غریبی کے درمیان صرف دولت نہیں بلکہ جینیاتی فرق بھی حائل ہوگا۔معذوری کے حقوق کی تحریکیں پہلے ہی اس خیال کے خلاف ہیں کہ کوئی بھی انسان غلط پیدا نہیں ہوتا ہے۔
    ان کے نزدیک معذوری کوئی جرم نہیں بلکہ ایک انسانی کیفیت ہے۔ اگر سائنس دان ہر فرق کو مٹانے کے درپے ہو گئے تو وہ افراد جو آج دنیا کو اپنے انداز میں خوبصورت بناتے ہیں شاید کل وجود ہی میں نہ رہیں۔ دنیا میں جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کی کوشش قابلِ تعریف ہے مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اگر اخلاقیات سے خالی ہو جائے تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔اس تحقیق کے معاشی اور سیاسی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ جینی ترمیمی صنعت تیزی سے ایک بڑا کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ بڑی کمپنیاں اور سرمایہ کار ان ٹیکنالوجیز میں سرمایہ لگا رہے ہیں کیونکہ مستقبل میں ان سے اربوں ڈالر کے منافع کی امید ہے۔


    لیکن جب منافع انسانی جان پر بھاری پڑنے لگے تو سچ اور مفاد کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے جینی ترمیم پر سخت ضابطے عائد کیے ہوئے ہیں تاکہ کوئی انسان اپنی مرضی کے مطابق نئی نسل ’’ڈیزائن‘‘ نہ کر سکے۔سائنس اگر احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے ایک نئی امید بن سکتی ہے۔ اگر کسی دن واقعی ممکن ہو گیا کہ جنین کی سطح پر ڈاؤن سنڈرم جیسے عارضے کا علاج کیا جا سکے تو یہ کروڑوں والدین کے لیے خوش خبری ہوگی۔
    ایسے والدین جو ہر لمحہ اپنے خاص بچوں کی فکر میں رہتے ہیں جن کی راتیں اسپتالوں میں گزرتی ہیں اور جو اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں ان کے لیے یہ سائنسی پیش رفت ایک نعمت سے کم نہیں ہوگی۔ لیکن یہی پیش رفت اگر غیر ذمہ داری سے استعمال ہوئی تو یہ انسان کو انسان سے مختلف درجوں میں بانٹ دے گی۔فی الحال جاپانی سائنس دانوں کی یہ کوشش ایک امید کی کرن ہے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان اب اس سطح تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ قدرت کے رازوں کو سمجھنے اور ان میں مداخلت کرنے لگا ہے۔
    مگر سوال یہ نہیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمیں یہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی کبھی علم کی انتہا پر پہنچ کر انسان کو رک جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے خالق اور فطرت کے درمیان موجود نازک توازن کو بگاڑ نہ دے۔اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ جاپانی تحقیق نے ابھی صرف دروازہ کھولا ہے منزل ابھی دور ہے۔ ڈاؤن سنڈرم کا مکمل خاتمہ ایک خوبصورت خواب ضرور ہے مگر اسے حقیقت بننے کے لیے ابھی طویل اور احتیاط بھرا سفر درکار ہے۔ یہ سفر صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سائنس کو انسان کے تابع رکھنا چاہتے ہیں یا انسان کو سائنس کے تابع۔

  • ٹمبا باوومااور گوتم گھمبیر

    جنوبی افریقہ نے بھارت کو 408 رنز کے بھاری مارجن سے گوہاٹی میں ہرا کر ٹیسٹ سیرہز 2 ۔0 سے جیت لی ، اس سال آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو ہراہا ،پھر پاکستان سے ایک ایک سے ٹیسٹ سیریز برابر کی اب بھارت 2 ۔0 سے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔

    پہلے کولکتہ اب گوہاٹی ، بھارت کو پچھلے سال نیوزی لینڈ میں بھی 3 ۔0 سے ٹیسٹ سیریز میں ہراہا تھا یہ بھارت کی ہوم گرائونڈ میں مسلسل پانچویں شکست ہے سارا ملبہ کوچ گوتم گھمبیر پر گر رہا ہے جن کے بارے تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ وہ ریڈ بال کرکٹ کے اچھے کوچ نہیں ہیں ، انکی کوچنگ میں بھارت آسٹریلیا سے 3 ۔1 سے ہارا آسٹریلیا میں انگلینڈ سے انکے گھر میں 2 ۔2 سے برابر رہے ۔

    ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی کمزوڑ ٹیموں سے چاروں ٹیسٹ میچز جیت لیے ، مگر نیوزی لینڈ نے بھارت میں 3 ۔0 اور سائوتھ افریقہ نے 2 ۔0 سے کامیابی حاصل کی ، گوتم کی کوچنگ میں بھارت نے ون ڈے چیمپئنز ٹرافی کی فاتح رہی اور ٹی ٹونٹی ایشیا کپ کی ونر رہی ، عین مکمن ہے گوتم گھمبیر کی کوچنگ وائٹ بال کرکٹ تک محدود کر دی جائے ان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ سپیشلسٹ بیٹرز کو موقع نہیں دیتے۔

    آل رائونڈرز پر انحصار کرتے ہیں ، اجناکا رانیے اور سرفراز خان جیسے ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین بیٹرز ٹیم سے باہر روی چندران ایشیون دل برداشہ ہو کر کرکٹ چھوڑ گئے اب محمد شامی بھی چیف سلیکٹر اجیت اگرکار اور کوچ گوتم گھمبیر کی گڈ بکس میں نہیں ہیں ، جنوبی افریقہ کے کپتان لاوڈ باووما ہنسی کرونئے اور گراہم سمتھ کے بعد سائوتھ افریقہ کے بہترین کپتان بن چکے ہیں انکی کپتانی میں سائوتھ افریقہ نے 13 میں سے 12 ٹیسٹ جیتے اور ایک ڈرا کیا ہے ، اس ٹیسٹ سیریز کے دیگر ہیروز ، متشامی ، مارکو جنسن اور ساہمن ہارمر ہیں۔

  • خواجہ غلام فرید:برصغیر کی صوفی روایت کا درخشاں نام

    خواجہ غلام فرید برصغیر کی صوفی روایت کا ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں مذہبی، فکری اور ثقافتی سطح پر جو اثرات چھوڑے وہ آج بھی اتنے ہی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت صرف ایک شاعر یا صوفی تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کی اجتماعی پہچان کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کا کلام، خاص طور پر کافی، عشقِ حقیقی، انسانی دکھوں اور وسیب کی روحانی فضا کا معتبر حوالہ ہے۔
    انیسویں صدی برصغیر کی تاریخ میں شدید سیاسی تبدیلیوں کی صدی تھی۔ پنجاب میں سکھ سلطنت کے زوال اور برطانوی اقتدار کے قیام کے بعد سماجی و معاشرتی ڈھانچے میں نئی کشمکش پیدا ہوئی۔ مذہبی تحریکوں نے نئے رجحانات اختیار کیے اور روحانیت کی طرف لوگوں کی رجوع بڑھی۔ اسی پس منظر میں 1840ء کی دہائی میں چچران شریف میں خواجہ غلام فرید کی پیدائش ہوئی۔ ان کا خاندان سندھ کے معروف سہروردیہ مشائخ سے تھا جو بعد ازاں چشتیت سے وابستہ ہوگیا۔ بچپن میں یتیمی کا داغ اور پھر بڑے بھائی خواجہ فخر الدین کی سرپرستی نے انہیں روحانیت کے ماحول میں پروان چڑھنے کا موقع دیا۔ بعد ازاں بہاولپور کے نواب صادق محمد خان چہارم کے دربار میں ان کی تعلیم نے انہیں وسیع علمی ورثہ فراہم کیا۔
    1875ء میں حج کی ادائیگی کے بعد ان کا چولستان کے صحرا کی طرف طویل چلہ نشینی اختیار کرنا ایک بڑا روحانی موڑ ثابت ہوا۔ اسی ریاضت نے ان کی شاعری کو وہ گہرائی اور سوز دیا جو آج بھی سرائیکی کلام میں اپنی مثال آپ ہے۔
    خواجہ فرید کی فکر کی بنیاد قرآن، حدیث، تصوف اور برصغیر کی روایتی وحدت الوجودی فکر پر استوار تھی۔ ان کی شاعری میں ہندی بھکتی تحریک، فارسی روایات، پنجابی سلوک اور سرائیکی فطری ماحول سب کے رنگ ملتے ہیں۔
    ان کی شخصیت کے کئی نمایاں پہلو ہیں جن میں سرفہرست عشقِ حقیقی کا تصور ہے۔ ان کے نزدیک عشق ہی حیات کی اصل قوت ہے، جو انسان کو ذات سے کائنات تک لے جاتا ہے۔
    محبتِ رسول ﷺ
    ان کی کافیوں میں نعتیہ جذبہ ایک سچے درویش کی عقیدت کا اظہار ہے۔
    وہ ظلم، ناانصافی اور سماجی تقسیم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
    سرائیکی وسیب کی محبت
    روہی (چولستان) ان کی شاعری کا مرکزی استعارہ ہے۔ صحرا، ہوا، میلوں، رنگوں اور خانہ بدوشوں کی زندگی ان کے کلام میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
    خواجہ غلام فرید نے سرائیکی، فارسی، اردو، پنجابی، سندھی، پشتو اور ہندی میں لکھا، لیکن ان کی شہرت کا مرکز سرائیکی کافی ہے۔ ان کی اہم تصانیف میں دیوانِ فرید کافی مشہور ہے۔ ان کا سرائیکی کلام، جس کی کافیوں نے زبان و بیان کے نئے در وا کیے۔
    مناقبِ محبوبیہ،فارسی نثر، جس میں روحانی نکات کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
    فوائدِ فریدیہ،مریدین اور صوفی حلقوں کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔
    مسنوی مدنِ عشق، عشق کی روحانی معراج پر مبنی فارسی مثنوی پر مشتمل ہیں۔
    خواجہ فرید کی کافی میں چند بنیادی خصوصیات نمایاں ہیں:
    اسلوب کی سادگی کے ساتھ ساتھ کلام میں تاثیر بھی ہے۔ الفاظ انتہائی سادہ مگر معنی آفاقی۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور عام لوگ دونوں ان کی شاعری سے یکساں لطف لیتے ہیں۔
    روہی، ہنسلی، اونٹ، صحرا، میلوں کا سفر اور مشکیزہ یہ سب علامات ہیں جو انسان اور خدا کے تعلق کو بیان کرتی ہیں۔
    ان۔کی شاعری میں جابجا عشق اور درد کا امتزاج ملتا ہے۔ غلام فرید کی شاعری میں عشق کبھی وصال کی امید ہے، کبھی ہجر کا دریا بن کر سامنے آتا ہے۔
    ان کی شاعری میں موسیقیت کے ساتھ ساتھ صوتی حسن بھی ہے۔ ان کی کافیوں میں صوتی تکرار، ردھم اور دھن کا ایسا توازن ہے جو لوک موسیقی کے لیے موزوں ترین ہے۔
    ان کے ہاں کائنات کی ہر شے میں ایک ہی حقیقت کا ظہور نظر آتا ہے۔
    خواجہ غلام فرید نے 19ویں صدی کے سیاسی انتشار میں روحانیت کا ایسا پیغام دیا جو انسان کو نفرت سے دور کرکے محبت کی طرف بلاتا ہے۔ جب خطے میں معاشرتی بے چینی تھی، انہوں نے وسیب کے لوگوں کو محبت، صبر اور برداشت کا درس دیا۔
    ان کی شاعری میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے مظالم کے خلاف ہلکی مگر مؤثر مزاحمت بھی ملتی ہے۔ وہ کسی سیاسی تحریک کا حصہ نہیں تھے، لیکن ان کا شعری احتجاج معاشرتی بیداری کا ذریعہ بنتا ہے۔
    خواجہ غلام فرید کا اثر آج تین اہم حوالوں سے دیکھا جاتا ہے جن میں سرفہرست سرائیکی زبان اور ثقافت ہے۔ ان کی شاعری نے سرائیکی کو ادبی سطح پر نئی شناخت بخشی۔ آج کا سرائیکی ادب انہی کے قائم کیے ہوئے فنی اصولوں پر کھڑا ہے۔
    وہ چشتیت کے عظیم نمائندہ ہیں۔ ان کے مزار پر ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں، جس سے ان کے روحانی اثر کا اندازہ ہوتا ہے۔
    ان کی کافیوں نے لوک موسیقی کو نئی سمت دی۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی سے لے کر عبدالستار ٹوانہ، شفقت امانت علی اور صنم ماروی تک بے شمار فنکار ان کی کافیوں کو گاتے ہیں۔
    خواجہ غلام فرید کی شخصیت علمی، روحانی اور ادبی لحاظ سے ایک ایسا سنگ میل ہے جو صرف سرائیکی وسیب تک محدود نہیں بلکہ پورے برصغیر کی شناخت ہے۔ ان کا کلام عشق، انسانیت، تغیر اور وقت کے احساس کا ایسا مجموعہ ہے جس نے انہیں اردو، فارسی اور سرائیکی روایت کا لازوال شاعر بنا دیا یے۔
    ان کی شاعری صرف مطالعے کا موضوع نہیں بلکہ دل کے سفر کی رہنما کتاب ہے۔ وہ شاعرِ وسیب ہی نہیں بلکہ شاعرِ انسانیت بھی ہیں۔

  • کیا ہم انتخابی عمل سے لا تعلق ہو چکے ہیں؟

    حالیہ ضمنی انتخابات کی سب سے تشویشناک بات بہت ہی کم ٹرن آئوٹ ہے، عوام میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت ہی کم رہی جو بہت ہی تشویش ناک بات ہے اگر صرف 15 سے 17 فیصد لوگ اپنا حق رائےدہی استعمال کرتے ہیں تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عوام کا انتخابی عمل سے اعتبار اٹھ چکا ہے ۔

    یہ بات جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے مگر وطن عزیر میں اصل جمہوریت رہی ہی کب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آج تک شفاف الیکشن نہیں ہوئے مگر جو کچھ 8 فروری 2024 کو ہوا جس طرح عوامی فیصلے کو طاقت وروں نے جوتے کی نوک پر رکھا اور فارم 47 کی حکومت عوام پر مسلط کی گئی اس نے سماج میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

    عوام کو اس بات پر یقین ہو گیا ہے کہ ہمارے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے فارم 45 میں فاتح کو جس طرح فارم 47 میں شکست خوردہ دکھایا جاتا ہے اس نے انتخابی عمل سے عوام کی بےزاری کو عیاں کر دیا ہے اسکی ذمہ داری جہاں طاقت کے اصل مراکز پر عائد ہوتی ہے وہاں نام نہاد سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دارہیں جو کہنے کو جمہوری ہیں مگر مورثیت کی بد ترین مثالیں ہیں۔

    جب تک ہیت متدرہ کی انتخابی عمل سے لاتعلقی نہیں ہوتی اور چیف الیکشن کمشنر سے جان نہیں چھوٹ جاتی تب تک ایسا مردہ الیکشن دیکھنے کو ملے گا ، پاکستان میں جو جمہوریت نافذ ہے وہ صدائے جمہور ہرگز نہیں ہے لفظ جمہور عوام کے بارے میں کہا جاتا ہے ادھر کہاں ہے عوام اور کہاں ہے انکی رائے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو حالات کس نہج پر جا سکتے ہیں ، اسکی مثالیں ہم کو اڑوس پڑوس سری لنکا نیپال اور بنگلہ دیش میں مل جاتی ہیں۔

    پاکستان کی ایک اکائی کشمیر میں بھی جھلک دیکھنے کو ملی تھی مگر کیا پاکستان میں ایسی ملک گیر تحریک چل سکتی ہے جسے سری لنکا نیپال اور بنگلہ دیش کے عوام نے حکمران اشرفیہ کو اٹھا کر طاقت کے ایوانوں سے باہر پھنک دیا تھا ہنوز وطن عزیز میں تو یہ سب ناممکن لگتا ہے کیونکہ ہمارا مزاج انقلابی نہیں ہے ہم الیکشن میں جا کر صرف ووٹ ڈالنے تک یقین رکھتے ہیں مگر ووٹ چوری ہونے پر کوئی ردعمل نہیں دیتے بس گھر بیٹھ کر دو چار گالیاں نکال کر غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں ہیں۔

    مگر اب کی بار تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے انتخابی عمل کا حصہ بننے کو بھی ہم تیار نہیں کیونکہ ہم نے یقین کر لیا ہے کہ ہم جس کو ووٹ ڈالیں گیں نتیجہ وہی نکلے گا جو ہیت متدرہ کی منشا ہو گا لہذا ووٹ ڈالنے جانا ہی نہیں چاہیے ، بدقسمتی سے یہ عوامی سوچ ہمارے سماج کے لیے بہت خطرناک ہے افسوس صد افسوس ہماری حکمران اشرفیہ یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔

  • اپسٹین لیکس۔۔۔ کیا عمران خان کا نام بھی آ رہا ہے؟؟

    دنیا میں بہت سے اسکینڈل سامنے آتے ہیں مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ جیفری اپسٹین کا معاملہ ایسا ہی ایک تاریک باب ہے جس میں طاقت و بلیک میلنگ اور جرم کی ایک عجیب اور خوف ناک کہانی موجود ہے۔ اپسٹین بظاہر ایک کامیاب امریکی ارب پتی لگتا تھا مگر اس کی اصل طاقت اس کے آس پاس موجود وہ لوگ تھے جو دنیا کی سیاست و معیشت اور میڈیا پر اثر رکھتے تھے۔

    اپسٹین کا اصل کھیل پیسے سے نہیں بلکہ تعلقات سے چلتا تھا اور اس نے انہی تعلقات کو استعمال کر کے ایک ایسا نیٹ ورک بنا لیا جو کئی سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اس نیٹ ورک کے کام کرنے کا آغاز اس وقت ہوا جب اپسٹین نے نیویارک اور فلوریڈا میں بڑی بڑی شخصیات کے ساتھ تعلقات بنانا شروع کیے۔ وہ خود کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرتا تھا جو سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں مشورہ دیتا ہے مگر اصل میں وہ کہیں بھی کوئی ایسا کاروبار نہیں چلا رہا تھا جس سے اربوں کی آمدنی ہوتی۔

    لوگ حیران تھے کہ بغیر کسی بڑی کمپنی یا کھلے کاروبار کے یہ شخص دولت کہاں سے لا رہا ہے۔ بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ اس کی اصل کمائی ان تعلقات سے تھی جو وہ طاقتور لوگوں کے درمیان بناتا تھا اور پھر انہی تعلقات کے بدلے وہ فائدے حاصل کرتا تھا۔ اپسٹین کے نیٹ ورک کا بنیادی حصہ اس کے گھر اور اس کے نجی جزیرے سے چلتا تھا۔

    نیویارک کے اس کے مینشن میں سیکڑوں کیمروں کا سسٹم لگا ہوا تھا۔ مختلف کمروں میں خفیہ کیمرے تھے جن کے بارے میں متاثرہ لڑکیوں اور ملازمین نے عدالت میں گواہی دی کہ وہ کیمرے مہمانوں کی ویڈیوز بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ یہی وہ ویڈیوز تھیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپسٹین انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا تھا۔ کوئی طاقتور شخص اس کے گھر میں آتا اپسٹین اسے نوجوان لڑکیوں سے ملواتا اور خفیہ ریکارڈنگ ہو جاتی۔ یہی ریکارڈنگ اس کے پاس ’’ طاقت‘‘ بن کر رہتی تھی۔

    اس نیٹ ورک میں لڑکیوں کو لانے کا کام صرف اپسٹین نہیں کرتا تھا۔ گیسلین میکسویل اس کی سب سے اہم ساتھی تھی۔ وہ ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتی تھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور سماجی تقریبات میں بڑے لوگوں سے تعلقات رکھتی تھی۔ عدالت میں گواہوں نے بیان دیا کہ میکسویل نوجوان لڑکیوں کو نوکری یا ماڈلنگ کے جھوٹے وعدوں سے لاتی تھی۔ لڑکیوں کو شروع میں مالش و اسسٹنٹ کے کام یا ماڈلنگ کے تربیتی پروگرام کا لالچ دیا جاتا۔ پھر انہیں اپسٹین کے گھروں میں لے جایا جاتا اور دھیرے دھیرے انہیں ایسے ماحول میں ڈال دیا جاتا جہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا تھا۔

    کئی لڑکیوں نے عدالت میں بتایا کہ جب وہ پہلی بار اپسٹین کے گھر گئیں تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ کچھ نابالغ لڑکیاں تھیں کچھ مالی مشکلات کا شکار تھیں کچھ ایسی تھی جن کے ماں باپ کی علیحد گی ہوچکی تھیں۔ اپسٹین اور میکسویل ان لڑکیوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ لڑکیوں سے کہا جاتا کہ اگر وہ مزید لڑکیاں لائیں گی تو انہیں اضافی پیسے ملیں گے۔

    اس طرح یہ نیٹ ورک آہستہ آہستہ ایک ایسے ’’ بھرتی نظام‘‘ میں بدل گیا جو مسلسل نیا شکار تلاش کرتا رہتا تھا۔ اپسٹین کا نجی جزیرہ جسے Little St. Jamesکہا جاتا تھا اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مرکز تھا۔ وہاں وہ ایسی محفلیں رکھتا جہاں دنیا کی مشہور شخصیات آتی تھیں۔ پروازوں کے ریکارڈ میں اس کے نجی طیارے پر کئی نام سامنے آئے۔ ان ریکارڈز کے بارے میں بحث آج بھی جاری ہے کہ کون محض سفر کے لیے گیا اور کون واقعی ان سرگرمیوں میں شامل تھا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اپسٹین کا یہ جزیرہ کسی عام تفریحی مقام کی طرح نہیں تھا۔ متاثرہ خواتین نے گواہی دی کہ وہاں باقاعدہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت لڑکیوں کو رکھا جاتا انہیں کام کے بدلے سہولتیں دی جاتیں اور پھر انہیں طاقتور لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔

    یہ نیٹ ورک کئی سال کامیابی سے اس لیے چلتا رہا کہ اپسٹین کے رابطے بہت مضبوط تھے۔ وہ سیاستدانوں، ارب پتی کاروباری شخصیات، معروف سائنسدانوں، فنکاروں اور شاہی خاندانوں کے افراد تک رسائی رکھتا تھا۔ ان تعلقات کا فائدہ اسے یہ ملا کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرتے ہوئے ادارے ہچکچاتے تھے۔ جب اسے پہلی بار گرفتار کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر اسے انتہائی نرم سزا دی گئی۔ اسے صرف چند ماہ جیل جانا پڑا اور وہ بھی ایسی جیل جہاں سے وہ روزانہ بارہ گھنٹے باہر جا سکتا تھا۔

    یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اپسٹین کے پاس ایسے راز تھے جن تک کوئی ادارہ ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ تفتیش کی دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اپسٹین اپنے گھروں میں آنے والے مہمانوں کے بارے میں باقاعدہ نوٹس لکھتا تھا۔ کون کیا بات کر رہا ہے کون کس کے ساتھ آیا کس نے کیا خواہش ظاہر کی کون کس کمزوری کا شکار ہے، کون کس مالی مسئلے میں ہے یہ سب باتیں اس کے نوٹس میں شامل ہوتی تھیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپسٹین ایک قسم کا ’’ کنٹرولڈ انفارمیشن سینٹر‘‘ چلاتا تھا۔ یعنی وہ معلومات اکٹھی کرتا اور پھر اس کے ذریعے فائدے اٹھاتا۔

    اس کے ملازمین نے عدالت میں بتایا کہ اپسٹین اکثر مہمانوں کی فہرستیں خود ترتیب دیتا تھا۔ وہ کسی نئی لڑکی کو دیکھ کر طے کرتا تھا کہ اسے کس مہمان سے ملانا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اپسٹین کے گھر آنے والے مہمانوں کو اکثر یہ معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ کیمرے کہاں کہاں لگے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تو وہاں سے ہزاروں ویڈیوز، تصاویر اور دستاویزات ملیں جن میں لوگوں کی شناخت تک چھپی ہوئی تھی۔ یہ نیٹ ورک صرف جسمانی استحصال تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں بلیک میلنگ کا عنصر سب سے زیادہ اہم تھا۔

    اگر کوئی طاقتور شخص اپسٹین کے دام میں آ جاتا تو اپسٹین اس سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ کبھی کاروباری فائدے کبھی سیاسی رابطے کبھی مالی تعاون۔ یہ نیٹ ورک اپنے فائدوں کے لیے ہر شخص کو استعمال کرتا تھا۔ اس کا مقصد لوگوں کو برباد کرنا نہیں بلکہ ان پر کنٹرول قائم رکھنا تھا۔ جب اپسٹین کی دوسری بار گرفتاری ہوئی تو صورتحال بدل گئی۔ اس بار تحقیقات زیادہ سخت تھیں عدالتیں زیادہ سنجیدہ تھیں اور میڈیا بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ لیکن حیران کن طور پر اپسٹین جیل میں مشکوک حالات میں مردہ پایا گیا۔

    سرکاری طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا مگر بہت سے لوگوں نے اسے قتل کہا۔ وجہ واضح تھی اگر اپسٹین زندہ رہتا تو شاید وہ بہت سے طاقتور لوگوں کے نام اور راز سامنے لے آتا۔ اس کے مرنے سے وہ تمام راز ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے یا کم از کم بہت حد تک چھپ گئے۔ اس واقعے کے بعد جب اپسٹین فائلز اور اپسٹین لیکس سامنے آئیں تو دنیا میں ہلچل مچ گئی۔

    لوگوں نے پہلی بار سمجھا کہ اپسٹین کا نیٹ ورک صرف چند لڑکیوں کی استحصال کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک ایسا سسٹم تھا جس میں دنیا کی طاقت ور ترین شخصیات شامل تھیں۔ یہ ایک ایسا گٹھ جوڑ تھا جو پیسے، طاقت، جرم اور بلیک میلنگ پر چلتا رہا۔ اور حیرت کی بات یہ کہ کئی سال کوئی اسے روک نہ سکا۔ پاکستان میں جب یہ لیکس سامنے آئیں تو لوگوں نے سوال کیا کہ کیا اس میں پاکستان کی کسی شخصیت کا نام بھی ہے۔ اب تک جتنی بھی مستند رپورٹیں سامنے آئی ہیں ان میں نہ عمران خان کا نام ہے اور نہ کسی پاکستانی وزیر اعظم کا۔ مگر یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان جب کرکٹ کھیلتا تھا تو اس وقت ان کی کئی ملاقاتیں جیفری اپسٹین سے ہوئیں وہ ان کے جزیرے پر بھی گئے لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کے عمران خان اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

    دوسری طرف اپسٹین نے یہ بات ثابت کی کہ دنیا میں طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ معلومات سے بھی آتی ہے۔ جو شخص دوسروں کی کمزوریوں کا ریکارڈ رکھتا ہے وہ کئی لوگوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اپسٹین نے یہی کیا اس نے دولت، تعلقات اور جرم کو ملا کر ایک ایسا جال بنا لیا جس سے نکلنا بہت مشکل تھا۔ مگر ہر غلط کام کا انجام ہوتا ہے اور آخرکار اس نیٹ ورک کی حقیقت سامنے آ گئی۔ یہ پورا معاملہ اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں گندگی چھپانا ممکن ہے مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب سچ سامنے آ جاتا ہے چاہے کتنے ہی طاقتور لوگ اسے دبانے کی کوشش کریں۔

    اپسٹین تو زندہ نہ رہا مگر اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے نیٹ ورک سے جڑے کئی لوگوں کی اصل صورت دنیا کے سامنے آ گئی۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ طاقت کے پردے کے پیچھے کیسی دنیا چھپی ہوئی تھی۔

  • پروین شاکر،خوشبو کی شاعری

    اسلام آباد:(تبصرہ/ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی)اردو شاعری کی تاریخ میں وہ خواتین شاعرہ بہت کم ہیں جنہوں نے کم وقت میں اپنی پہچان اس شدت سے قائم کی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں انہیں ایک عہد کی علامت سمجھنے لگیں۔ پروین شاکر انہی میں سے ایک بہترین شاعرہ تھیں۔ وہ صرف شاعرہ ہی نہیں تھیں، بلکہ ایک پوری سماجی، فکری اور نسائی روایت کی نئی تشکیل کا ذریعہ بھی بنیں۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کے لہجے کو نئی سمت دی اور عورت کی داخلی خیالات کو پہلی بار اس کھلے پن، نرمی اور بے ساختگی کے ساتھ بیان کیا جس کی مثال جدید اردو شاعری میں کم ملتی ہے۔

    پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب خود بھی شاعر تھے، جس نے پرویز شاکر کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نئے وطن مملکت خداداد پاکستان میں شناخت کی تلاش، شہری زندگی کی بنتی بگڑتی صورت حال اور متوسط طبقے کے مسائل یہ ساری فضا پروین کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔

    ان کی تعلیم نہایت متنوع رہی۔ انگریزی ادب، لسانیات، انتظامی علوم اور بعد میں ہارورڈ سے ماسٹرز کی ڈگری یہ سفر بتاتا ہے کہ وہ محض جذبے کی ہی شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک گہری فکری بنیاد بھی رکھتی تھیں۔سن ستر کی دہائی اردو غزل کے لیے ایک نئے تجرباتی دور کا آغاز تھی۔ فیض، جمیل الدین عالی، جون ایلیا، احمد مشتاق اور قتیل شفائی جیسے شعرا اپنی اپنی آوازوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس منظرنامے میں ایک نئی نوجوان شاعرہ کا آنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ان کی کتاب خوشبو (1976) نے منظر ہی بدل دیا۔

    اس مجموعے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک نرم لہجے میں کہی گئی بات کبھی کبھی سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عورت کا احساس، عورت کی زبان اور عورت کی داخلی بے چینی کو پہلی بار اتنی سادگی اور نفاست سے بیان کیا گیا کہ پوری نسل نے اس کی طرف توجہ کی۔
    پروین شاکر کی غزل روایت اور احساس کا نیا امتزاج بھی جابجا ملتا ہے۔ پروین شاکر کی غزل کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک نیا لہجہ ہے۔ استعارے وہی ہیں مثلاً چاند، پھول، خوشبو، بارش، تتلی وغیرہ لیکن ان کے معنی بدل گئے۔ محبوب کے بجائے محبوبہ کی داخلی کیفیات موضوع بن گئیں۔

    ان کی غزل کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کو موضوع نہیں بناتیں بلکہ اسے خود مصنف بھی بناتی ہیں۔نسائی ضمیر کا براہِ راست استعمال، نرمی کے ساتھ احتجاج اور جذبات کے اظہار میں جھجھک سے انکار یہ وہ خصوصیات ہیں جو پروین شاکر کی غزل کو ممتاز بناتی ہیں۔
    مثال کے طور پر “وہ تو خوشبو ہے” والا شعر محض رومانی کیفیت ہی نہیں، بلکہ جذباتی تعلق میں طاقت کے عدم توازن کی نشاندہی بھی ہے۔

    اگر غزل ان کی پہچان ہے تو آزاد نظم ان کا اصل تجربہ گاہ ہے۔ یہاں انہیں کسی عروضی پابندی نے محدود نہیں کیا۔ اسی لئے ان کی آزاد نظموں میں موضوعات نہایت وسیع ہیں جن میں سماجی نابرابری، عورت پر معاشرتی دباؤ، جنسی استحصال، معاشی ظلم، سیاسی اور طبقاتی منافقت، جدید شہری زندگی کی بے حسی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

    "اسٹیل ملز ورکر” جیسی نظمیں صرف ادب نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز بھی ہیں۔ یہاں محبت کی نہیں، پسینہ بہاتے عام آدمی کی بات کی گئی ہے جو ترقی کے نام پر قربان ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح "وی آر آل ڈاکٹر فاسٹس” میں طاقت اور دولت کے کھیل کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

    perveen shakir-1

    پروین شاکر نے انگریزی الفاظ کا استعمال بھی بے جھجک کیا، جسے بعض ناقدین نے انہیں اعتراض کا نشانہ بنایا، لیکن ان کا اصرار تھا کہ شہری عورت کی زندگی انہی الفاظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے زبان کو حقیقت سے جوڑ کر پیش کیا، نہ کہ روایت کی خاطر اسے جامد رکھا۔

    perveen shakir-2
    ان کی شاعری میں جہاں محبت کا ذکر ملتا ہے وہاں عورت اور سماج کا بھی ذکر ملتا ہے۔ پروین شاکر شاعری کے موضوعات کی تہہ داری سب سے منفرد ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کا سب سے بنیادی پہلو عورت کے احساسات کی صداقت ہے۔ وہ محبت کو رومانیت کے پردے میں چھپاتی نہیں، بلکہ اس کی تکلیف، اس کی فوری کیفیت اور اس کی سماجی قیمت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔

    perveen shakir-3

    ان کی شاعری میں تین واضح محور دکھائی دیتے ہیں جن میں سرفہرست عورت کی داخلی دنیا ہے۔ محبت، بے وفائی، تنہائی، انتظار، خوف، امید یہ سارے جذبات پروین شاکر کی شاعری کا بنیادی حصہ ہیں۔ وہ ان احساسات کو پوری ایمانداری کے ساتھ لکھتی ہیں۔

    ان کی شاعری میں عورت کا سماجی مقام بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طلاق، تنہائی، معاشرتی عدم اعتماد، اور مردانہ معاشرے کا جبر یہ سارے موضوعات اس شدت کے ساتھ پہلی بار کسی شاعرہ نے اٹھائے وہ پروین شاکر ہیں۔

    انہوں نے جدید شہری زندگی کی پیچیدگیاں بھی بیان کی ہیں۔ دفتر، کارپوریشن، مہنگائی، تھکن، رش اور سیاسی بے چینی یہ سب کچھ پروین شاکر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ عورت کو صرف محبت کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کرتیں، بلکہ ایک مکمل سماجی وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

    پروین شاکر کے اسلوب میں چند بنیادی خصوصیات نمایاں ہیں جن میں نرم، پُرتاثیر اور شگفتہ لہجہ، استعاروں کا تخلیقی استعمال، اشاریت اور علامتوں کی تہہ دارجذبات کی براہِ راست ترجمانی،زبان کی سادگی جو گہری معنویت رکھتی ہے، شہری زند گی کے جدید حوالوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ ان کے ہاں جذبات کبھی غیر ضروری پھیلاؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ مختصر مصرع، سادہ ترکیب اور پُراثر تصویر یہی ان کا فنی اصول ہے۔

    اردو تنقید نے پروین شاکر کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا۔ ان کے بارے میں تین بڑے نقطۂ نظر ملتے ہیں جن میں وہ جدید اردو غزل میں نسائی آواز کی سب سے مضبوط نمائندہ ہیں۔
    ان کی غزل میں جذباتیت کہیں کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔آزاد نظم میں ان کی فکری گہرائی زیادہ نمایاں ہے بنسبت غزل کے۔ان کے اثرات کی وسعت اس بات سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے کہ آج کئی شاعرہ اپنے لہجے میں ان کے رنگ کی جھلک رکھتی ہیں، مگر اصل تخلیقی قوت صرف پروین شاکر کے پاس تھی۔

    26 دسمبر 1994 کا حادثہ اردو ادب کے لئے ایسا سانحہ تھا جس نے ایک پورا عہد ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ صرف 42 برس کی تھیں۔ ان کی موت نے ان کی شخصیت کے گرد ایک دائمی افسانوی فضا پیدا کر دی۔
    ان کے بعد قائم ہونے والا پروین شاکر ادبی میلہ اور ان کے نام سے دی جانے والی ادبی خدمات کے اعزاز کی روایت اس بات کی علامت ہے کہ ان کا اثر اب بھی کم نہیں ہوا۔
    پروین شاکر کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی داخلی کائنات کی ترجمان بھی ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو نیا لہجہ دیا، آزاد نظم کو نئی سمت دی اور عورت کو وہ زبان دی جس سے وہ اپنی کہانی خود سنانے کے قابل ہو گئی۔
    ان کا ادبی سفر مختصر ضرور ہے، لیکن اس میں ایسی گہرائی اور وسعت ہے کہ آنے والی نسلیں انہیں جدید اردو شاعری کا سنگِ میل سمجھتی رہیں گی۔ پروین شاکر اپنے اسلوب، فکر، درد اور حسنِ بیان کے ساتھ آج بھی ہمارے ادب کا زندہ حوالہ ہیں۔ الله انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔

  • میں ،اللہ اور سائنس

    تبصرہ نگار :عقیل انجم اعوان aqeel anjum awan

    کاروباری ،سماجی و سیاسی شخصیت اور مفکر و دانش ور زبیر احمد انصاری ہمارے عہد کے اُن نادر انسانوں میں سے ہیں جنہوں نے کاروبار کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اپنی فکری گہرائی، علمی بصیرت اور روحانی وابستگی کو برقرار رکھا۔ اُن کی شخصیت صرف ایک کامیاب تاجر یا سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک ایسے دانشور کی ہے جو مادیت کے سمندر میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو فکری روشنی دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُن کی تحریروں میں یہ احساس نمایاں ہے کہ کاروبار صرف منافع کا نام نہیں بلکہ خدمتِ خلق، دیانت اور خدا ترسی کے اصولوں پر قائم ایک ذمہ داری ہے۔

    اُن کی کتاب ’’ میں ،اللہ اور سائنس‘‘ اسی فکری جہت کا تسلسل ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اُن کے وسیع مطالعے اور علمِ کائنات پر گرفت کی غماز ہے بلکہ ایک روحانی مکاشفہ بھی ہے جو عقل اور ایمان کے درمیان پل بناتی ہے۔زبیر احمد انصاری نے اس تصنیف میں ایک ایسا موضوع چھیڑا ہے جسے جدید دنیا اکثر دو متضاد زاویوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ ایک طرف سائنس ہے جو تجربے، مشاہدے اور منطق پر یقین رکھتی ہے دوسری طرف ایمان ہے جو یقین، وجدان اور الہام پر قائم ہے۔ لیکن انصاری صاحب بڑی خوبصورتی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ دونوں دشمن نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اُن کے مطابق سائنس دراصل اللہ کی تخلیق کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش ہے جبکہ ایمان اُن رازوں کی حکمت پر یقین کا نام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سائنس خلوصِ نیت سے سوال کرتی ہے تو جواب ہمیشہ اللہ کے وجود کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

    کتاب کے ابتدائی ابواب میں زبیر احمد انصاری نے کائنات کی تخلیق پر غور کیا ہے۔ وہ قرآن کی آیات اور جدید سائنس کی دریافتوں کو ایک ہی فکری دھارے میں سمو دیتے ہیں۔ وہ بگ بینگ تھیوری کو بطورِ مثال پیش کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ قرآن نے چودہ سو سال قبل سورۂ الانبیاء میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آسمان اور زمین ایک اکائی تھے جنہیں اللہ نے پھاڑ کر جدا کر دیا۔ اُن کے نزدیک یہ محض مذہبی تعبیر نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے جسے انسان نے صدیوں بعد دریافت کیا۔ زبیر احمد انصاری کا طرزِ استدلال علمی بھی ہے اور وجدانی بھی۔ وہ اعداد و شمار، سائنسی مثالیں اور فلسفیانہ دلائل کے ساتھ ساتھ روحانی بصیرت کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل انسان کے لیے چراغِ راہ ہے مگر روشنی اُس وقت تک بیکار ہے جب تک دل کے اندر یقین کا تیل موجود نہ ہو۔ اُن کی تحریر میں ایک ایسا توازن پایا جاتا ہے جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے نہ وہ سائنس کو مذہب کے تابع بنا کر اُس کی اہمیت گھٹاتے ہیں اور نہ ایمان کو عقل کے تابع کر کے اُس کی روح کمزور کرتے ہیں۔کتاب ’’ میں ،اللہ اور سائنس‘‘ کے ایک باب میں وہ انسانی ذہن کی ساخت پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسانی دماغ جس قدر پیچیدہ اور منظم ہے اُس کا محض اتفاق سے پیدا ہو جانا ناممکن ہے۔

    وہ جدید نیورولوجی اور بایولوجی کے حوالے دیتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی شعور، احساس اور عقل محض مادّی عمل نہیں بلکہ روحانی نظم کا حصہ ہیں۔ اُن کے نزدیک انسان کا وجدان اس کے خالق کی موجودگی کی گواہی دیتا ہے بالکل ویسے جیسے سمندر کی ہر موج اُس ہوا کی خبر دیتی ہے جو اسے حرکت میں لاتی ہے۔زبیر احمد انصاری نہ صرف ایک مفکر بلکہ ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں۔ لیکن اُن کے نزدیک بزنس محض دولت جمع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت داری، انصاف اور خدمتِ انسانی کے اصولوں پر قائم ایک عبادت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کاروبار میں اللہ کا خوف اور انصاف کی روح شامل ہو وہی حقیقی کامیابی ہے۔ اُن کی تجارتی کامیابی دراصل اُن کے ایمان کی پختگی کی آئینہ دار ہے۔ اُنہوں نے عملی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ اگر تجارت اللہ کے احکامات کے مطابق کی جائے تو دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی۔ اُن کی شخصیت میں ایک عجیب توازن پایا جاتا ہے۔ ایک طرف کاروباری ذہانت کی تیزی ہے اور دوسری طرف روحانی سکون کی گہرائی۔اُن کے نزدیک سائنس اور کاروبار دونوں اُس وقت با برکت بنتے ہیں جب ان کا مرکز انسان کی خدمت اور خدا کی رضا ہو۔ اسی سوچ نے اُنہیں ایک مختلف مقام عطا کیا ہے۔ وہ بزنس کے میدان میں بھی علم اور اخلاق کے ترجمان ہیں اور تحریر میں بھی۔ اُن کی تحریریں یہ سبق دیتی ہیں کہ کامیابی کا اصل مفہوم صرف مالی استحکام نہیں بلکہ ذہنی سکون اور روحانی اطمینان ہے۔کتاب ’’میں ،اللہ اور سائنس‘‘ میں وہ مادیت پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق جب انسان نے اپنی عقل کو خدا کا نعم البدل سمجھنا شروع کیا تو علم برکت سے خالی ہو گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سائنس نے انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا مگر دل کی گہرائیوں سے اُس کے خالق کا احساس چھین لیا۔

    وہ انسان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ علم اگر عاجزی پیدا نہ کرے تو وہ غرور بن جاتا ہے اور غرور علم کی موت ہے۔ اُن کے الفاظ میں سائنس اُس وقت تک روشنی ہے جب تک وہ انسان کو اپنی محدودیت کا احساس دلاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ خالق کی جگہ لینے کی کوشش کرے وہ اندھیرے میں بدل جاتی ہے۔زبیر احمد انصاری نے اپنی کتاب میں مغربی مفکرین کے نظریات پر بھی تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ڈارون، فریڈ، نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے مفکرین نے اپنی عقل کی حد تک سچائی کو تلاش کیا لیکن اُن میں سے اکثر نے اُس حقیقت کو نظرانداز کر دیا جو ان تمام قوانین کے پیچھے کارفرما ہے ۔۔۔ یعنی خالقِ حقیقی۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سائنس نے جو کچھ دریافت کیا ہے وہ اللہ کے وجود کی تائید کرتا ہے تردید نہیں۔ اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے روشنی کی خبر دیتا ہے تو کائنات کی ترتیب خود خالق کے وجود کا ثبوت ہے۔کتاب کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ مصنف نے قرآنِ مجید کو سائنس کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ آیات کو سائنسی زاویے سے بیان کرتے ہوئے قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ کتابِ ہدایت صرف عبادت کے لیے نہیں بلکہ کائنات کی تفہیم کے لیے بھی نازل ہوئی۔ اُن کے مطابق قرآن ہی پہلی کتاب ہے جس نے انسان کو مشاہدے، تحقیق اور تجربے کی دعوت دی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان جب تک قرآن کو فکری رہنمائی کے طور پر استعمال کرتے رہے دنیا میں اُنہوں نے علم و سائنس کے میدان میں قیادت کی اور جب ایمان کو صرف رسموں تک محدود کر دیا تو زوال اُن کا مقدر بن گیا۔زبیر احمد انصاری کے اسلوب میں ایک غیر معمولی ادبی لطافت ہے۔ وہ محض معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ قاری کے دل میں ایک جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ اُن کی تحریر میں علم کی سختی اور ایمان کی نرمی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ کبھی وہ فلسفے کی زبان میں بات کرتے ہیں تو کبھی صوفیانہ لہجے میں۔ اُن کی عبارتوں میں فکر کی خوشبو، محبت کا لمس اور خدا کی تلاش کا اضطراب موجود ہے۔ اُن کے جملے قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتے رہتے ہیں جیسے کوئی دعا آسمان سے اُتر کر دل کے نہاں خانوں میں جگہ بنا لے۔اگر انصاری صاحب کی شخصیت کو دیکھا جائے تو اُن کی زندگی خود اُن کے نظریات کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

    اُنہوں نے کاروبار کی دنیا میں بھی وہی اصول اپنائے جنہیں وہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں۔ دیانت، انصاف، خلوص اور ایمانداری اُن کی تجارتی پہچان ہیں۔ اُن کے نزدیک کامیاب تاجر وہ نہیں جو زیادہ دولت کمائے بلکہ وہ ہے جو اپنے کاروبار کے ذریعے معاشرے میں اعتماد اور خیر پیدا کرے۔ اُن کی گفتگو میں ہمیشہ ایک مقصدیت جھلکتی ہے وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل سائنس کو سیکھے مگر خدا کو نہ بھولے، دولت کمائے مگر ضمیر کو زندہ رکھے، ترقی کرے مگر انسانیت سے وفا بھی کرے۔ میں ،اللہ اور سائنس محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے۔ یہ کتاب انسان کو مادیت کے اندھیروں سے نکال کر یقین کی روشنی میں لے جاتی ہے۔ زبیر احمد انصاری نے ثابت کر دیا کہ جدید سائنس دراصل قرآن کی صداقت کی نئی تشریح ہے۔ اُنہوں نے ایمان اور علم کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو نہایت محبت اور منطق کے ساتھ پُر کیا۔ اُن کی تحریر میں ایک دانشور کی ذہانت بھی ہے اور ایک عابد کی سادگی بھی۔ وہ سائنس کے پیچیدہ سوالات کا جواب علم سے نہیں بلکہ یقین سے دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ایمان وہ روشنی ہے جس کے بغیر علم ادھورا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زبیر احمد انصاری ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جنہوں نے عمل اور علم کو یکجا کر کے ایک نئی فکری سمت دی ہے۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ اگر انسان اپنی پیشہ ورانہ کامیابی کو روحانی بصیرت سے جوڑ لے تو وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو رہتا ہے۔ اُن کی کتاب ’’میں ،اللہ اور سائنس‘‘ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری خزانہ ہے ایک رہنمائی ہے اور ایک دعوتِ فکر ہے کہ علم اور ایمان ایک ہی روشنی کے دو زاویے ہیں۔زبیر احمد انصاری کا یہ کارنامہ ہماری فکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اُنہوں نے سائنس کو خدا سے جوڑا نہ کہ خدا کو سائنس سے جدا کیا۔ اُن کی تحریر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب علم جھک کر خالق کے حضور سر تسلیم خم کر دیتا ہے تب ہی وہ سچائی کے قریب پہنچتا ہے۔ اور شاید یہی پیغام اس پوری کتاب کا حاصل ہے ۔

  • جانشینی ،نادرا انکاری سرٹیفکیٹ اور سول کورٹ کا اختیار

    پنجاب میں وراثتی معاملات ہمیشہ سے حساس اور پیچیدہ رہے ہیں۔ قانونی پیچیدگیاں، خاندانوں کے اندر اختلافات، شناخت کے مسائل اور کاغذی رکاوٹیں عام شہری کیلئے نہ صرف مشکل پیدا کرتی تھیں بلکہ برسوں تک جائیداد کے تنازعات چلتے رہتے تھے۔اسی پس منظر میں پنجاب لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ایکٹ 2021 متعارف ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ جانشینی اور وراثتی سرٹیفکیٹ ایک ایسے نظام کے ذریعے جاری ہوں جو تیز رفتار بھی ہو اور جعل سازی کے امکان کو کم بھی کر دے۔

    پاکستان میں وراثتی امور کا بنیادی قانون Succession Act 1925 ہے، جو برطانوی دور میں نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت وراثتی سرٹیفکیٹ لینے کیلئے درخواست سول عدالت میں دائر کی جاتی تھی، گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوتے تھے، نوٹس جاری ہوتے تھے اور اعتراضات کی صورت میں باقاعدہ ٹرائل بھی ہوتا تھا۔

    وقت کے ساتھ عدالتوں پر دباؤ بڑھا، مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا اور فیصلہ سازی میں تاخیر معمول بن گئی۔اسی دباؤ کو کم کرنے کیلئے 2021 میں صوبہ پنجاب نے ایک بالکل نیا راستہ نکالا۔وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کا اختیار نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو دیا گیا، تاکہ عمل تیز ہو، جعل سازی کے امکانات کم ہوں، خاندانوں کو لمبے عدالتی عمل سے نجات ملے۔

    نادرا کے Family Registration Certificate کے ذریعے قانونی ورثاء کی شناخت کا عمل آسان ہو گیا۔لیکن اس نظام میں ایک بنیادی خامی موجود تھی۔ وراثتی معاملات صرف کاغذی نہیں ہوتے۔ خاندانوں کے اندر اختلافات، کم عمر ورثاء، مشتبہ دعوے، شناخت کے تنازعے اور انکاری سرٹیفکیٹ س جیسے مسائل ایسے تھے جہاں نادرا کے پاس فیصلہ کرنے یا شواہد ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
    ایسے معاملات کیلئے شہریوں کو دوبارہ عدالت جانا پڑتا تھا، مگر سول عدالت کا اختیار قانون 2021 کے تحت محدود ہو چکا تھا۔ یوں ایک قانونی خلا پیدا ہو گیا، جس سے عام شہری مشکلات کا شکار رہے۔ 31 جولائی 2025 کی ترمیم کر ذریعے سول کورٹ کا اختیار بحال کیا گیا۔

    عوامی شکایات، وکلا کی اپیلوں اور قانونی ماہرین کی رپورٹس کے بعد حکومتِ پنجاب نے آخرکار Punjab Letters of Administration and Succession Certificates (Amendment) Act 2025 منظور کیا۔ جن کے اہم نکات میں سرفہرست سیکشن 3 میں ترمیم ہے۔ نادرا کے ساتھ ساتھ سول عدالت کو بھی دوبارہ اختیار دیا گیا کہ وہ وراثتی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کر سکے۔

    اس طرح شہریوں کے پاس اب دو راستے موجود ہیں پہلا راستہ نادرا ہے اور دوسرا سول عدالت۔ سول عدالت کیلئے شرط یہ ہے کہ عدالت وہی پرانا طریقہ اختیار کرے گی جو Succession Act 1925 کے تحت رائج ہے یعنی درخواست، نوٹس، گواہوں کے بیانات اور فائنل آرڈر۔

    اسی طرح سیکشن 10 کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس سیکشن کے ذریعے نادرا کے فیصلوں کو اضافی تحفظ حاصل تھا۔ اب اس کو ہٹا کر عدالت کے راستے کو آسان کیا گیا۔ اس تبدیلی کی عملی اہمیت بھی ہے یعنی انکاری سرٹیفکیٹ کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔

    ورثاء میں اختلاف ہو یا کوئی وارث کسی وجہ سے بیان دینے سے انکار کرے، اب شہری نادرا کے بجائے سیدھا سول عدالت جا سکتے ہیں۔ اس سے ’’انکاری سرٹیفکیٹ ‘‘ جیسی پرانی مشکلات کم ہوں گی۔ جہاں ورثاء کی تعداد زیادہ ہو، اعتراضات ہوں یا جائیداد تنازع ہوا، وہاں عدالت کے پاس اختیار ہونا ضروری تھا، جو اب بحال ہو گیا ہے۔

    اب شہریوں کو دو راستوں کی آزادی دی گئی ہے۔ سادہ کیس ہو تو نادرا، پیچیدہ کیس ہو تو عدالت، یہ لچک عام آدمی کیلئے آسانی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
    عدالتیں شواہد ریکارڈ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں، لہٰذا ایسے معاملات جہاں حقائق متنازع ہوں، اب شفاف طریقے سے حل ہوں گے۔
    یہ ترمیم بظاہر ایک مثبت قدم ہے، مگر چند سوالات اپنی جگہ موجود ہیں:
    کیا عدالتوں پر بوجھ دوبارہ بڑھ جائے گا؟
    اگر شہریوں کا اعتماد عدالتوں پر زیادہ ہوا تو مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    دو متوازی نظام کبھی کبھار کنفیوژن بھی پیدا کرتے ہیں۔ شہری کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس راستے پر جائے۔
    عدالتیں تیز رفتار فیصلہ سازی کے لئے اپنے اندر اور بھی بہتری لائیں، ورنہ لوگ دوبارہ مشکلات کا شکار ہوں گے۔

    31 جولائی 2025 کی ترمیم نے پنجاب کے شہریوں کو ایک اہم سہولت لوٹا دی ہے۔ سول عدالت کا اختیار بحال ہونے سے نہ صرف ’’جانشینیی سرٹیفکیٹ ‘‘ اور ‘‘لیٹر آف ایڈمنسٹریشن‘‘ جیسے معاملات میں شفافیت بڑھے گی بلکہ پیچیدہ اور متنازع وراثتی کیسز میں انصاف کے مواقع بھی بہتر ہوں گے۔
    اس ترمیم نے 1925 کے کلاسیکی عدالتی نظام اور 2021 کے جدید نادرا ماڈل کے درمیان ایک توازن قائم کر دیا ہے۔اب فیصلہ درخواست گزار کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس راستے کو زیادہ موزوں سمجھتا ہے۔

  • بھارتی فلم دھرندراورکراچی کی کہانی

    husnain jamil

    لندن:(تجزیہ/حسنین جمیل )بولی ورڈ کی نئی آنے والی فلم دھرندر کا ٹریلر جب ریلیز کیا گیا تو سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر ایک بھوال مچ گیا ہر برف دھرندر فلم کی کہانی اورموضوع پر چرچا ہونے لگا ہے فلم دھرندر 5 دسمبر کو بھارت سمیت دنیا بھر کے 5 ہزار کے قریب سینماگھروں میں ریلیزکی جائےگی۔

    فلم کی سٹار کاسٹ میں رنوویر سنگھ ، سنجے دت،اکشے کھنہ، اے مادھون ، ارجن رام پال شامل ہیں ، فلم کے سکرپٹ رائٹر اور ڈایکٹر آدتیہ دہر ہیں جو متعدد فلموں کی کہانیاں سکرین پلے لکھ چکے ہیں بطور ہدایتکار یہ انکی دوسری فلم ہے 2019 میں وہ اڑی دی سرجیکل سٹرائیک جیسی فلم بنا چکے ہیں جس کے ہیرو وکی کوشل تھے۔

    دھرندر فلم بھارت کی نہیں ہمارے کراچی کے لیاری کی کہانی ہےگو کہ کہانی بھارت کے ہی را کے ہیڈکواٹر سے شروع ہو تی ہے مگر تانے بانے اور بہت زیادہ حصہ کراچی لیاری کی کہانی کو ہی بیان کرتاہے سکرین پلے کا 80 فیصد سے زائد کراچی کی گلیوں کو ہی دکھاتاہے ،ادکار اے مادھون فلم میں اجیت ڈوول جو سابقہ را چیف اور موجودہ سیکیورٹی کونسل پراہم منسٹر انڈیا کے چیف ہیں کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

    رنوویر سنگھ را یجنٹ ہو سکتے ہیں ، سنجے دت ایس پی چودھری اسلم ،اکشے کھنہ رحمان ڈکیٹ ،ارجن رام پال آئی ایس آئی کے میجر کا رول کر رہے ہیں ، یہ تینوں کردار پاکستانی ہیں ، اور جاندار رول ہیں ، سنجے دت نے بڑی مہارت سے ایس پی چوہدری اسلم کا کردار نبھایا ہے لگتا ہے چوہدری اسلم زندہ ہوکر دوبارہ آگئے ہیں ۔

    اکشے کھنہ رحمان ڈکیت کے کردار میں سماگئے ہیں جو بہت ہی ظالم لک میں ہیں جہاں تک ارجن رام پال کا کردار ہے میجر اقبال کا اس کو بھی سفاک دکھایا گیا ہے اب جب ٹریلر شروع ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے 71 کے بعد کا زمانہ تھا جنرل ضیالحق ایک بات کہا کرتے تھے ، 1971 کے بعد تو بھٹو صاحب کا دور تھا ضیالحق کادورتو 1977 میں شروع ہوتا ہے یہ ایک غلطی لگتی ہے ہو سکتا ہے فلم دیکھ کر واضح ہو جائے ۔

    ارجن رام پال کو آئی ایس آئی کا بہت ہی بااخیتار میجر دکھایا گیا ہے ماضی میں آئی ایس آئی کہ ایک طاقتور ترین میجر عامر ہوتے تھے جن کو بےنظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا مبینہ طور کہیں ارجن رام پال وہی کردار تو ادا نہیں کر رہےکیونکہ فلم پپیلز پارٹی کے جلسے کے مناطر بے نظیر بھٹو کی تصاویر بھی نظر آتی ہیں ، اور رحمان لیاری پیپلز امن کمیٹی کے صدر بھی تھے ۔

    یہ ہماری کہانی جسے ہمارے کسی فلم میکر کو بنانا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی اظہار پر قدغن ہے ، حرف آخر مارکسی دانشور مصنف ذوالفقار ذلفی کاکہنا ہے لیاری بلوچ اکثریت کا علاقہ جہاں میمن اردو بولنے والے مہاجر پختون اور پنجابی بستے ہیں لیاری کی پہچان بدقسمتی سے گینگ وار بنا دی گئی ہے درحقیت لیاری ایک ترقی پسند سماج ہے وہاں علم ادب فلم اور مارکسی سوچ چڑھتی ہے۔

  • آخر کیوں؟ (حصہ اول)

    میرے سامنے کانچ کی گڑیا جیسی نرم و نازک دھان پان سے تقریبا 22سالہ نو جوان لڑکی بیٹھی تھی جو بار بار ایک ہی فقرا دہرا رہی تھی سر میں انسان نہیں ہو ں کیا، میں Hurt نہیں ہو تی کیا میری Feelings نہیں ہیں ، کیا مجھے درد نہیں ہوتا ، میں کو ئی بھیڑ بکری ہو ں اس کے نرم و نازک گالوں پر آنسوں کی آبشار مسلسل بہہ رہی تھی وہ بار بار اپنے دوپٹے کے پلو سے سوجھی ہوئی آنسوں سے لبریز آنکھوں کو پونچھتی اور روتی سسکتی گلو گیر آواز میں کہتی سر میں کو ئی میز کرسی ہوں سبزی منڈی میں کوئی پھل یا سبزی ہوں یا کسی سٹور میں گھر کے استعمال کی کوئی چیز ہوں میں پلیٹ بالٹی گلاس برتن ہوں میں کیا ہوں ۔ سر میں پچھلے تین سال کی ظالمانہ ڈرل سے تنگ آگئی ہوں میں ڈیکوریشن پیش کی طرح سج کر چائے اور لوازمات کی ٹرالی سجا کر رشتہ دیکھنے والوں کے سامنے آتی ہوں اور مجرم بن کر کھڑی ہو جاتی ہوں مجھے سر سے پاں تک گھورا جاتا ہے طنزیہ اور استزائیہ نظروں اور فقروں سے نوازا جاتا ہے اور بری طرح رجیکٹ کر کے دھتکار دیا جاتا ہے میں پچھلے تین سال سے روزانہ اِس پل صراط اور صحرا سے گز ر رہی تھی میرے باپ وفات پا چکے ہیں اب میں اپنی بیوہ ماں اور دو بہنوں کے ساتھ اِس اندھے بہرے معاشرے میں اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہی ہوں سر میں اِن جلاد صفت عورتوں کا رویہ تحمل اور صبر سے برداشت کر رہی تھی لیکن تین دن پہلے ایک فیملی ہمارے گھر میرا رشتہ دیکھنے آئی ۔ میری ماں نے ہمارا پیٹ کا ٹ کر کچھ پیسے سمبھالے ہو ئے تھے آنے والے مہمانوں کے لیے چائے اور لوازمات تیا ر کئے اور میں حسب معمول چائے کی ٹرالی اور لوازمات لے کر اند ر گئی تو اندر ایک میا ں بیوی اور ان کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی پہلے تو انہوں نے ٹرالی اور اس پر پڑے لوازمات کو گہری اور تنقیدی نظروں سے دیکھا جو ہماری غربت کا منہ بولتا ثبوت تھی مختصر لوازمات ان کی طبیعت اور مزاج پر گراں گزرے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر منفی اشارے کئے میں مجرموں کی طرح بیٹھ گئی اور میری ماں حسب معمول ان کی خاطر مدارت اور خو شامد میں لگ گئی چائے وغیرہ سے فارغ ہو کر لڑکے کی ماں نے پہلا حکم یہ صادر کیا کہ میں کھڑی ہو جاں میں نے حکم کی تعمیل کی اب وہ بھی کھڑی ہو گئی میرے ہا تھ پاں کو چیک کیا جس طرح جانوروں کو خریدنے سے پہلے اچھی طرح دیکھتے ہیں کہ اس کے ہا تھ پاں درست ہیں میری نظر ٹیسٹ کی اپنے سامنے چلا پھرا کر اور بٹھا کر خوب چیک کیا میرے وزن اور قد کا خوب اندازہ لگایا میرا منہ کھلوا کر میرے دانتوں کو چیک کیا اور اچھی طرح سونگھ کر دیکھا میرے منہ سے بد بو وغیرہ تو نہیں آرہی میرے بالوں کو کھینچ کھیچ کر چیک کیا کہ یہ اصلی ہیں یا نقلی ہیں میری آنکھوں کو غور سے دیکھا کہ میں نے کہیں لینز تو نہیں لگا ئے ہو ئے میرے جوتے اتار کر اچھی طرح پیروں کا جائزہ لیا جب میں یہاں پاس ہو گئی تو اس نے عجیب پاگلوں والی حرکت کی مجھے بازو سے پکڑ ا اور باہر دھوپ میں لے گئی میرے چہرے پر پانی لگا کر رگڑ رگڑ کر دیکھا کہ میرا اصل رنگ کیا ہے اِس کے بعد میرے جسم کو ٹٹولنا شروع کر دیا اچھی طرح میرے جسم کو چیک کر نے کے بعد اندر آکر بیٹھ گئی اور بولی سیدھی سی بات شادی صرف لڑکی کے ساتھ نہیں ہو تی اس کے گھر والوں سے ہوتی ہے اب وہ میری ماں کو کٹہرے میں کھڑا کر چکی تھی اب اس جلاد صفت عورت نے اپنے مطالبے دہرانے شروع کر دیے وہ جہیز کے نام پر لمبے چوڑے مطالبے کر رہی تھی آخر میں اس نے جو بات کی اس نے مجھے اور میری ماں کو توڑ دیا اب اس نے ایک ایسا مطالبہ کیا جو میرے اور میرے ماں کے بس میں نہیں تھا وہ کہنے لگی عید بقرہ عید اور جو باقی تہوار آئیں گے ان دنوں پر میرے بیٹے کے لیے تحفے تحائف کو ن لائے گا کیونکہ میرے بڑے دو بیٹوں کی شادی ہو چکی ہے جب بھی کوئی دن وغیرہ آتا ہے تو ان کے سسرال میرے بیٹوں کا گھر بھر دیتے ہیں تو آپ کیا کریں گی میری ماں نے التجا کی کہ میرا خاوند فوت ہو چکا ہے میرا بیٹا کوئی نہیں ہے رشتہ دار سب ہمیں چند دنوں بعد ہی چھوڑ چکے ہیں اِس لیے اب جو بھی ہو گا میں ہی کروں گی ۔ اب اس ظالم عورت نے بنک بیلنس اور جائیداد کے بارے میں انکوائری شروع کر دی لمبی چوڑی انکوائری بلکہ تفتیثش کے بعد اس نے اعلان کیا کہ ہم آپ کی بیٹی سے شادی نہیں کر سکتے ہمارا بیٹا احساس کمتری کا شکار ہو جا ئے گا اس ظالم عورت کو اپنے بیٹے کے احساس کمتری کا احساس تھا کسی کی معصوم بیٹی کے احساس کمتری کا احساس نہ تھا اس نے بھی تین سالوں سے آتی عورتوں کی طرح انکار کیا اور جاتے جاتے کہہ گئی کہ میرے کزن کی بیوی فو ت ہو گئی ہے اس کے بچوں کو سنبھالنے والا کو ئی نہیں اگر آپ کہیں تو میں ان سے آپ کی بیٹی کے لیے بات کروں اس کے کزن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی ۔ میری ماں نے انکا ر کیا تو بکواس کر تی ہو ئی چلی گئی اور ہمیشہ کی طرح میری روح اور جسم کو ادھیڑ کر چلی گئی سر میں پچھلے تین سال سے انکا ر اور مسترد کر نے کے جہنم میں جل رہی ہوں ہر روز میری ماں کی آنکھوں میں امید کے چراغ روشن ہو تے ہیں لیکن انکار کے بعد ان کی آنکھوں کے چراغ بھی مدھم پڑھ جاتے ہیں اور ان کے سر میں چاندی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے سر کیا میں اور میری ماں انسان نہیں ہیں کیا ہمارے دل اور انا نہیں ہے کیا لڑکیاں بھیڑ بکریاں ہو تی ہیں کیا ہمارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک نہیں ہو نا چاہیے سر کیا یتیم ہو نا غریب ہو نا جرم ہے اگر جرم ہے تو اِس میں میرا اور میری ماں کا کیا قصور ہے سر میں اور میری ماں انکار کی اِس دلدل میں ڈوبتے جا رہے ہیں ابھی تو میری ماں کے بالوں میں چاندی اتری ہے کل جب میرے بالوں میں سفیدی آئے گی تو شاید میں یا میری ماں خود کشی کر کے ہی اِس اذیت سے نجات پائیں سر آپ کے پاس اِس عذاب اور مشکل کا کو ئی حل ہے ۔ میں اور میری ماں جو دن رات دہکتے انگاروں پر لوٹ رہی ہیں کو ئی وظیفہ کو ئی عبادت ایسی ہے جو ہم اِس جہنم سے نکل سکیں سر کیا میں نا مکمل ہوں میں اپاہج ہوں میرے میں کیا کمی ہے ۔اس معصوم کا کرب دکھ اور بے بسی دیکھ دیکھ کر میں بھی بے بسی کیا انتہا پر پہنچ چکا تھا وہ سوالیہ نشان بنی میرے سامنے بیٹھی تھی اور میرے پاس اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا اس کی داستان غم سن کر میری آنکھیں نمناک ہو چکی تھیں ۔ میں نے محبت اور شفقت سے لبریز لہجے میں کہا نہیں میری معصوم بیٹی ادھوری یا اپاہج تم نہیں ہو، تم ایک مکمل اور خوبصورت بیٹی ہو تمھارا کو ئی قصور نہیں ہے، نا مکمل اور اپا ہج تو وہ لوگ ہیں جو اِس اندھے بہرے گلے سڑے معاشرے کی پیداوار ہیں ۔ جو جلادوں کی طرح انکار اور سو سو نقص نکال کر چلے جاتے ہیں مجھے وہ بے شمار بیٹیاں یا د آگئیں جو ہر روز مجھے ملتی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ان کے چہروں پر نوجوانی کی تازگی کی جگہ جب خزاں آنے لگتی ہے اور بالوں میں چاندی اترنے لگتی ہے تو امید کے دیپ جلائے میرے یا میرے جیسے لوگوں کے پاس کشکول لے کر جاتی ہیں کہ ان کی خالی جھولی بھر جائے، مجھے بے شماروہ لڑکیا ں یاد آئیں کہ دس دس سال سے انکار کے بعد وہ نفسیاتی مریض بن گئیں پہلے تو نفسیاتی ڈاکٹروں کے پاس علاج کروا یا جب افاقہ نہ ہو ا تو چند بچیاں تو پاگل خانے تک پہنچ گئیں، وہ بے شمار بچیاں جن کا ذہنی توازن اِس شدید غم کو برداشت نہ کر سکا اور ان کو دورے پڑنے شروع ہو گئے ۔ ظالم لڑکے والے بلکل نہیں سو چتے کہ یہ نازک معصوم کانچ کی گڑیا ں جیسی اِس بے حس معاشرے کی بیٹیاں اِن کے انکار سے اِن کے ناز ک کانچ کے جسم ریزہ ریزہ ہو جا تے ہیں اور پھر پتہ نہیں کتنے دن یہ نازک بچیاں اپنے ریزہ ریزہ جسم کو اپنی نازک انگلیوں سے چنتی ہیں اپنے ماں باپ کی خوشی کے لیے پھر ظالم جلاد صفت لڑکے والوں کی ماں کے سامنے مجرم بن کر کھڑی ہو تی ہیں ۔

Back to top button