جنین کی سطح پر ڈاؤن سنڈرم جیسے عارضے کا علاج کیا جا سکے تو یہ کروڑوں والدین کے لیے خوش خبری ہوگی
سائنس کی دنیا میں روز کوئی نہ کوئی حیران کن خبر گردش میں آتی ہے لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو انسانی سوچ کے دائرے کو وسعت دے دیتی ہیں۔ حال ہی میں جاپان کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق نے دنیا بھر کے طبّی اور سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خبر یہ ہے کہ اب بچے ڈاؤن سنڈرم کا شکار نہیں ہوں گے۔ بظاہر یہ جملہ ایک سادہ اطلاع لگتا ہے مگر اس کے اندر ایک ایسا انقلاب پوشیدہ ہے جو اگر حقیقت بن جائے تو انسانی جینوم کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہوگا۔ڈاؤن سنڈرم ایک جینیاتی عارضہ ہے جو انسانی کروموسوم نمبر21 کی ایک اضافی کاپی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یعنی قدرتی طور پر ہر انسان کے پاس23 جوڑے کروموسوم ہوتے ہیں لیکن ڈاؤن سنڈرم کے مریضوں میں 21واں کروموسوم تین بار موجود ہوتا ہے۔ اسی اضافی کروموسوم کے باعث بچے کی ذہنی نشونما سست رہتی ہے جسمانی ساخت میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں اور اکثر دل، معدے یا اعصابی نظام کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر ایک ہزار میں سے قریباً ایک بچہ اس کیفیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ سائنس دان دہائیوں سے اس راز کو سلجھانے کی کوشش میں ہیں کہ کیا اس اضافی کروموسوم کو ختم یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں جاپان کی میا ئو یونیورسٹی کے محققین نے ایک تجربہ کیا جس نے دنیا بھر کے جینیاتی ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ انہوں نے CRISPR-Cas9 نامی جینی ترمیمی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انسانی خلیات سے اضافی کروموسوم21 کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو پچھلے کچھ برسوں میں جینی ایڈیٹنگ کے میدان میں انقلاب برپا کر چکی ہے۔ کریسپرایک طرح کی جینی قینچی ہے جو خلیے کے اندر موجود ڈی این اے کے مخصوص حصوں کو کاٹ سکتی ہے۔ جاپانی سائنس دانوں نے اس قینچی کو اس طرح ترتیب دیا کہ یہ اضافی کروموسوم کو پہچان کر اسے خلیے سے خارج کر دے جبکہ باقی دو نارمل کاپیاں محفوظ رہیں۔ابتدائی تجربات لیبارٹری کے ماحول میں کیے گئے جہاں انسانی فائبروبلاست اور سٹیم خلیات پر یہ عمل آزمایا گیا۔ حیرت انگیز طور پر خلیات میں اضافی کروموسوم کے ہٹنے کے بعد ان کی کارکردگی بہتر ہونے لگی۔

ان خلیات میں توانائی کا توازن بہتر ہوا، آکسیڈیٹو دباؤ کم ہوا اور خلیاتی تقسیم کی رفتار میں بہتری دیکھی گئی۔ یوں لگنے لگا جیسے خلیات اپنی نارمل حالت کی طرف واپس جا رہے ہوں۔ یہ کامیابی اپنی جگہ ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی لیبارٹری میں انسانی خلیات سے اضافی کروموسوم کو مؤثر طریقے سے ہٹایا گیا۔مگر یہ کہنا کہ اب بچے ڈاؤن سنڈرم کا شکار نہیں ہوں گے سائنسی لحاظ سے ابھی قبل از وقت ہے۔ یہ تجربہ انسان یا حیوان پر نہیں بلکہ محض خلیاتی سطح پر کیا گیا ہے۔ خلیہ ایک مکمل جاندار نہیں ہوتا بلکہ جاندار کا ایک ننھا حصہ ہوتا ہے۔ انسانی جسم اربوں خلیات پر مشتمل ہےجن میں ہر ایک کی اپنی ساخت، کردار اور جینی سرگرمی ہوتی ہے۔ اگر ایک خلیہ درست ہو جائے تو بھی پورے نظام کو درست کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ کریسپر ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک خطرہ موجود رہتا ہے کہ کہیں وہ غلط جگہ ڈی این اے کو نہ کاٹ دے جسے سائنسی زبان میں ’’آف ٹارگٹ ایفیکٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو مرض ختم ہونے کے بجائے کوئی نیا جینیاتی عارضہ جنم لے سکتا ہے۔تحقیق کرنے والے سائنس دان خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ابھی یہ صرف پہلا قدم ہے۔ ان کے مطابق اگلے مرحلے میں اس تکنیک کو جانوروں کے خلیات پر آزمایا جائے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا پورے جاندار کی سطح پر بھی یہ ممکن ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہی انسانی سطح پر تجربات کا آغاز کیا جا سکے گا۔

اگر سب کچھ کامیاب رہا تو شاید اگلے دس سے پندرہ برسوں میں یہ ٹیکنالوجی عملی شکل اختیار کر لے۔ لیکن تب بھی اخلاقی، سماجی اور قانونی سوالات اپنی جگہ قائم رہیں گے۔یہ سوالات معمولی نہیں ہیں۔ اگر سائنس دان واقعی انسانی جنین کے جینز میں تبدیلی لانے کے قابل ہو جائیں تو کیا ہم قدرتی تنوع کو ختم نہیں کر دیں گے؟ کیا ہر وہ بچہ جس میں کسی طرح کا جینیاتی فرق ہو، پیدا ہونے سے پہلے ہی مسترد کر دیا جائے گا؟ ڈاؤن سنڈرم کے شکار بچوں میں محبت، احساس اور معصومیت کی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ وہ اگرچہ جسمانی یا ذہنی طور پر مختلف ہوتے ہیں مگر ان کا وجود ہمیں انسانیت کا ایک نرم اور حساس پہلو دکھاتا ہے۔ کیا سائنس اس تنوع کو مٹا کر ایک ایسا معاشرہ بنا دے گی جہاں صرف ’’کامل‘‘ بچے پیدا ہوں؟پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جینی ترمیمی ٹیکنالوجی ابھی مہنگی اور محدود طبقے تک رسائی رکھتی ہے۔ اگر اسے بیماریوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کارِ خیر ہے مگر اگر اسے صرف’’بہتر نسل‘‘ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ ایک نئی قسم کی طبقاتی تفریق کو جنم دے گی۔ امیر والدین اپنے بچوں کے جین بہتر کروا سکیں گے جبکہ غریب بچے قدرت کے بھروسے پر رہ جائیں گے۔ یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں امیری اور غریبی کے درمیان صرف دولت نہیں بلکہ جینیاتی فرق بھی حائل ہوگا۔معذوری کے حقوق کی تحریکیں پہلے ہی اس خیال کے خلاف ہیں کہ کوئی بھی انسان غلط پیدا نہیں ہوتا ہے۔
ان کے نزدیک معذوری کوئی جرم نہیں بلکہ ایک انسانی کیفیت ہے۔ اگر سائنس دان ہر فرق کو مٹانے کے درپے ہو گئے تو وہ افراد جو آج دنیا کو اپنے انداز میں خوبصورت بناتے ہیں شاید کل وجود ہی میں نہ رہیں۔ دنیا میں جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کی کوشش قابلِ تعریف ہے مگر ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سائنس اگر اخلاقیات سے خالی ہو جائے تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔اس تحقیق کے معاشی اور سیاسی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ جینی ترمیمی صنعت تیزی سے ایک بڑا کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ بڑی کمپنیاں اور سرمایہ کار ان ٹیکنالوجیز میں سرمایہ لگا رہے ہیں کیونکہ مستقبل میں ان سے اربوں ڈالر کے منافع کی امید ہے۔

لیکن جب منافع انسانی جان پر بھاری پڑنے لگے تو سچ اور مفاد کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے جینی ترمیم پر سخت ضابطے عائد کیے ہوئے ہیں تاکہ کوئی انسان اپنی مرضی کے مطابق نئی نسل ’’ڈیزائن‘‘ نہ کر سکے۔سائنس اگر احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے ایک نئی امید بن سکتی ہے۔ اگر کسی دن واقعی ممکن ہو گیا کہ جنین کی سطح پر ڈاؤن سنڈرم جیسے عارضے کا علاج کیا جا سکے تو یہ کروڑوں والدین کے لیے خوش خبری ہوگی۔
ایسے والدین جو ہر لمحہ اپنے خاص بچوں کی فکر میں رہتے ہیں جن کی راتیں اسپتالوں میں گزرتی ہیں اور جو اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں ان کے لیے یہ سائنسی پیش رفت ایک نعمت سے کم نہیں ہوگی۔ لیکن یہی پیش رفت اگر غیر ذمہ داری سے استعمال ہوئی تو یہ انسان کو انسان سے مختلف درجوں میں بانٹ دے گی۔فی الحال جاپانی سائنس دانوں کی یہ کوشش ایک امید کی کرن ہے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان اب اس سطح تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ قدرت کے رازوں کو سمجھنے اور ان میں مداخلت کرنے لگا ہے۔
مگر سوال یہ نہیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمیں یہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی کبھی علم کی انتہا پر پہنچ کر انسان کو رک جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے خالق اور فطرت کے درمیان موجود نازک توازن کو بگاڑ نہ دے۔اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ جاپانی تحقیق نے ابھی صرف دروازہ کھولا ہے منزل ابھی دور ہے۔ ڈاؤن سنڈرم کا مکمل خاتمہ ایک خوبصورت خواب ضرور ہے مگر اسے حقیقت بننے کے لیے ابھی طویل اور احتیاط بھرا سفر درکار ہے۔ یہ سفر صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سائنس کو انسان کے تابع رکھنا چاہتے ہیں یا انسان کو سائنس کے تابع۔







