انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

برادرانہ تعلقات، بدلتی صف بندیاں اور جنوبی ایشیا کی آزمائش

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔ کچھ قومیں اپنی فتوحات سے مشہور ہوتی ہیں، کچھ اپنی تہذیب سے، اور کچھ اپنے ظرف سے۔ Pakistan نے جب بھی تاریخ کے کڑے موڑ دیکھے، اس نے تلوار سے پہلے دروازہ کھولا—مہمان کے لیے، پناہ کے لیے اور امن کے لیے۔
جب ہم 1979 کی سرد راتوں کی طرف لوٹتے ہیں تو یاد آتا ہے کہ Afghanistan کی سرزمین پر جب آگ بھڑکی تو اس کے شعلے صرف کابل تک محدود نہ رہے۔ لاکھوں بے گھر انسان سرحد پار آئے۔ پاکستان نے انہیں “غیر” نہیں کہا بلکہ “مہمان” کہا۔ خیموں کو گھر بنایا اور مہاجر کی آنکھ میں آنسو کو اپنی آنکھ کا آنسو سمجھا۔ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ تہذیبی فیصلہ تھا—وہ تہذیب جو مدینہ کی گلیوں سے ورثے میں ملی تھی۔
مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ مہمان نوازی کبھی کبھی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔پاکستان نے ہر دور میں کوشش کی کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بھائی چارے کی بنیاد پر استوار رہیں۔ چاہے سوویت دور ہو، نائن الیون کے بعد کی ہنگامہ خیز دہائیاں ہوں یا حالیہ غیر یقینی فضا—اسلام آباد نے بارہا مذاکرات کی میز کو ترجیح دی۔ مگر جب سرحد پار سے حملے ہوں، جب معصوم شہری نشانہ بنیں، جب بچوں کے اسکول اور گاؤں کی مساجد خوف کی زد میں آئیں—تو سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، وجود کا ہو جاتا ہے۔

قومیں اپنے اوپر زخم سہہ لیتی ہیں مگر جب زخم نسلوں تک پہنچنے لگیں تو صبر کی تعریف بدل جاتی ہے۔یہاں مسئلہ صرف دو ریاستوں کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ اعتماد ایک شیشے کی طرح ہوتا ہے—ایک بار ٹوٹ جائے تو جوڑ تو لگ جاتا ہے مگر دراڑ باقی رہتی ہے۔ پاکستان نے کئی بار اس شیشے کو جوڑنے کی کوشش کی، مگر اگر دوسری طرف سے ہاتھ کے بجائے خنجر بڑھایا جائے تو کب تک ہاتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟
برصغیر کی تقسیم کے بعد سے سرحدی تنازعات کی تاریخ نئی نہیں۔ “ڈیورنڈ لائن” ایک جغرافیائی لکیر سے زیادہ ایک سیاسی اور نفسیاتی لکیر رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اختلاف کا حل بارود ہے؟ کیا بھائی چارے کی زبان بندوق کی آواز میں دب جانی چاہیے؟
پاکستان کی ریاست نے جب بھی جوابی کارروائی کی، اس کا مؤقف یہی رہا کہ یہ دفاع ہے، جارحیت نہیں۔ ریاست کا اولین فرض اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔ اگر باپ اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑا ہو کر بچوں کی حفاظت نہ کرے تو وہ باپ کہلانے کا حق کھو دیتا ہے۔

مگر اس داستان کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ دونوں طرف عام لوگ جنگ نہیں چاہتے۔ پشاور کے سرحدی دیہات ہوں یا ننگرہار کے بازار—درد کا رنگ ایک ہی ہے۔ بارود قومیت نہیں دیکھتا، وہ صرف انسان دیکھتا ہے۔

جنوبی ایشیا کی سیاست میں India اور پاکستان کی رقابت بھی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ افغانستان میں بھارتی معاشی و سفارتی موجودگی کو نئی دہلی تعمیر و ترقی کا حصہ کہتا ہے، مگر اسلام آباد کے حلقوں میں اسے اکثر اسٹریٹجک توازن کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح مسلم دنیا میں Israel کے خطے میں کردار پر بھی حساسیت پائی جاتی ہے، خاص طور پر فلسطین کے مسئلے کے تناظر میں۔ یہ ایک سیاسی تاثر ہے جس پر اختلاف ممکن ہے مگر اسے نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں۔
اصل سوال یہی ہے:
کیا صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے؟
اور اگر ہوتی ہے تو اس حد کے ٹوٹنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جنگیں وقتی فتح دیتی ہیں مگر دائمی امن صرف اعتماد سے آتا ہے۔ اگر پاکستان آج سخت مؤقف اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے صبر کا خاتمہ نہیں بلکہ اپنے وجود کے تحفظ کا اعلان ہے۔ مگر ساتھ ہی دروازہ مکمل بند نہیں—کیونکہ جو قوم مہمان نوازی کو اپنی پہچان بنائے وہ امن کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتی ہے۔

امن کمزوری نہیں مگر امن یکطرفہ بھی نہیں ہو سکتا۔بھائی چارہ خوبصورت ہے مگر اس کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے۔اور اگر اعتماد کو روز زخمی کیا جائے تو دفاع ناگزیر ہو جاتا ہے—مگر دفاع کا مقصد تباہی نہیں بلکہ توازن اور تحفظ ہونا چاہیے۔شاید اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم تاریخ سے سیکھیں گے یا اسے دہراتے رہیں گے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button