ریاست کا اصل امتحان میدان جنگ میں نہیں بلکہ زنداں کی خاموش راہداریوں میں ہوتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں گونجتی تقاریر وقتی تاثر تو پیدا کر سکتی ہیں مگر تاریخ اپنا فیصلہ ان کمروں میں لکھتی ہے جہاں قیدی اپنی قسمت کے ساتھ تنہا بیٹھا ہوتا ہے۔ انہی دنوں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل سے متعلق رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں صحت اور بینائی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ محض ایک فرد کی روداد نہیں بلکہ ہمارے نظام انصاف اور انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک آئینہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کی آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور علاج کی فراہمی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ نے آزاد میڈیکل جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالت کا یہ قدم اپنی جگہ اہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر معاملے میں ہمیں عدالتی مداخلت کا انتظار کرنا چاہیے یا ریاستی اداروں کے اندر ایسا خودکار نظام موجود ہونا چاہیے جو کسی بھی قیدی کی صحت اور بنیادی حقوق کا بروقت تحفظ یقینی بنا سکے۔

قید سزا ہو سکتی ہے اذیت نہیں۔ قانون آزادی سلب کر سکتا ہے مگر انسانی وقار نہیں۔ اگر ایک معروف سیاسی رہنما کے معاملے میں صحت سے متعلق تشویش زیر بحث آ سکتی ہے تو ہمیں ان بے نام قیدیوں کی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی فریاد کسی ایوان تک نہیں پہنچتی۔ اصول کا تقاضا یہ ہے کہ معیار سب کے لیے یکساں ہو۔

یہاں ایک اور افسوس ناک پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ بعض سیاسی مخالفین نے اس معاملے کو بھی طنز اور تمسخر کا موضوع بنا دیا۔ صحت جیسا نازک معاملہ بھی اگر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا میدان بن جائے تو یہ ہماری اجتماعی اخلاقیات پر سوالیہ نشان ہے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ مگر بیماری اور علاج کو تضحیک کا ہتھیار بنانا کسی مہذب سیاسی روایت کا حصہ نہیں۔ اگر آج کوئی رہنما بیمار ہے تو اس کی علالت پر شکوک و شبہات اچھالنا یا اسے محض ڈراما قرار دینا دراصل سیاست کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔

جمہوریت میں سخت ترین مخالف بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ صحت کے مسئلے پر بھی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل اس اصول کو کمزور کرتے ہیں جس کی کل انہیں خود ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اقتدار اور اپوزیشن کی کرسی بدلتے دیر نہیں لگتی مگر اصول اگر کمزور ہو جائیں تو سب خسارے میں رہتے ہیں۔

جب کسی قیدی کی صحت کے حوالے سے تشویش سامنے آئے تو اس کا فوری اور غیر جانبدار تدارک ناگزیر ہوتا ہے۔ تدارک کا مطلب محض بیان جاری کرنا نہیں بلکہ عملی اقدام کرنا ہے۔ آزاد طبی معائنہ کرایا جائے شفاف رپورٹ مرتب ہو اور اگر کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ یہی طرز عمل اعتماد کو بحال کرتا ہے اور یہی ریاستی سنجیدگی کی پہچان ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک فرد یا ایک جماعت کا نہیں بلکہ ریاستی وقار کا ہے۔ قانون کی عملداری اس وقت معتبر سمجھی جاتی ہے جب وہ طاقت ور اور کمزور کے درمیان فرق نہ کرے۔ زنداں کی دیواریں اگرچہ بلند ہوتی ہیں مگر انصاف کی آواز ان سے بلند تر ہونی چاہیے۔ اگر ہم نے اس اصول کو مضبوط کر لیا تو سیاسی اختلاف اپنی جگہ رہے گا مگر انسانی وقار محفوظ رہے گا۔ یہی اصلاح کی راہ ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی اصل شناخت۔



