بھارتی طیاروں کی ہیکنگ،سکیورٹی اےآئی کمپنی کا قیام،پاکستانی تخلیق کاروں کا اعلیٰ معیار،حکومتی اقدامات کا انتظار



جی ہاں 1986 میں علامہ اقبال ٹاون کے رہائشی دو بھائیوں فاروق علوی اور امجد علوی جن کی عمریں 17سال اور 24 سال تھیں انھوں نے یہ تجربہ اپنے میڈیکل سافٹ ویئر کی غیرقانونی نقل کو روکنے کے لیے تجرباتی طور پر برین کے نام سے کمپیوٹر کوڈ تیار کیا تھا جس نے کمپیوٹر کی دنیا میں وخت ڈال دیا دنیا کی ٹاپ کلاس کی یونیورسٹیوں کمپیوٹر سے متعلقہ تحقیقاتی اداروں میں ہلچل مچ گئی اور ہر کوئی لاہور کے ان دونوں بھائیوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے لگا ۔
ان دونوں بھائیوں نے جو وائرس تخلیق کیا وہ ان کی شناخت بھی بتاتا تھا اور ان کے فون نمبر اور ایڈریس بھی ظاہر کرتا تھا پھر کیا تھا کہ چل سو چل اب دنیا میں 10 لاکھ سے زائد کمپیوٹر وائرسز ہیں اسی طرح 27 جنوری 2011 کو مزنگ کے قریب امریکی تنظیم بلیک واٹر کا ایک کارندہ ریمنڈ ڈیوس جسے امریکی سفارتخانے نے سفارتی اہلکار ظاہر کرنے کی کوشش کی اس نے دو پاکستانی نوجوانوں کو پیچھا کرنے پر گولی مار دی تھی وہ حادثاتی طور پر لاہور پولیس کے ہتھے چڑھ گیا اس کے پاس ایک کیمرہ اور موبائل فون تھا جس کو کوڈ لگا ہوا تھا لاہور پولیس نے بڑی کوشش کی کہ اسے ڈی کوڈ کیا جائے لیکن پولیس اسے ڈی کوڈ کرنے میں ناکام رہی یہ کارنامہ ہال روڈ کے ایک نوجوان نے سر انجام دیا ۔

میں جان بوجھ کر اس کا نام نہیں لکھ رہا کیونکہ اس میں کچھ مواد اس نے ڈی کوڈ کرتے ہوئے کاپی کرلیا اور مجھے پہنچا دیا جس میں بارڈر ایریا کی کچھ تصاویر تھیں جو میں نے اپنے اخبار میں شائع کیں کچھ ویڈیو کلپ تھے جس میں وہ معروف کلپ بھی تھا جس میں پولیس والا ریمنڈ ڈیوس کو کہہ رہا تھا نو منی نو واٹر یہ کلپ میں نے اپنے ایک دوست جو کہ ایک نئے نویلے ٹی وی چینل کے مالک تھے اس کو تحفے کے طور پر دے دیے جو پوری دنیا میں وائرل ہوگئے کہنے کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس بےبہا ٹیلنٹ ہے جو رلتا پھرتا ہے ہمارے پاس ایسے ایسے کاریگر ہیں جو ایک بار چیز کو دیکھ لیں تو اس کی کاپی تیار کر لیتے ہیں لیکن ان کی کوئی سرپرستی کرنے والا نہیں۔

ہم ایجادات پر توجہ نہیں دیتے چنگ چی ہماری ایجاد ہے یہ کارنامہ وہاڑی کے ایک کاریگر کا ہے ہم نے اس تخلیق کو لگڑ بگڑ کا نام دیا یہ دیسی انجن سے تیار کردہ موٹر سائیکل رکشہ تھا چین نے اس میں موڈیفکیشن کرکے اسے چنگ چی اور لوڈر رکشہ بنا دیا اسی طرح بے شمار ایسی ایجادات ہیں جو سرپرستی اور سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئیں ابھی الیکٹرک کاروں کی دنیا بھر میں مانگ ہے اور یہ ٹیکنالوجی ابھی بہت مہنگی ہے پاکستانی کاریگروں نے پرانی گاڑیوں کو ای گاڑیوں میں کنورٹ کرنے کے لیے سستی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے حکومت کو چاہیے کہ مہنگا فیول امپورٹ کرنے کی بجائے ان کاریگروں کی سرپرستی کرے فیول گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں کنورٹ کرکے قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے ۔

پاکستانی بڑے ذہین لوگ ہیں ابھی حال ہی میں پاک بھارت جنگ میں ہمارے ہیکروں نے انڈیا کا سارا مواصلاتی نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا ہم ان کے طیاروں میں ہونے والی کنورسیشن بھی سن رہے تھے اور ان کے سسٹم کو مفلوج کرکے انھیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے تھےہم نے ان کے کمپیوٹر بھی ہیک کر لیے تھے ان کا ریل کا نظام اور بجلی کا نظام بھی مفلوج کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا ۔
ابھی حال ہی میں ایک پاکستانی کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ریحان جلیل کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی securiti AI ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر یعنی کہ پاکستانی 4کھرب 77 ارب روپے میں فروخت ہوئی ہے یہ کمپنی امریکہ کی مشہور سافٹ وئیر کمپنی Veeam Software نے خریدی ہے یہ معاہدہ کسی پاکستانی بانی کی قیادت میں ہونے والی سب سے بڑی ٹیکنالوجی فروخت (Tech Exit) میں سے ایک ہے، جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستانی ماہرینِ ٹیکنالوجی اور انجینئرز خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر کس قدر اثر و رسوخ رکھتے ہیں ۔

ریحان جلیل نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے وقت گزرنے کے ساتھ وہ ڈیٹا سیکیورٹی، کلاؤڈ گورننس، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظاموں کے ایک معتبر ماہر اور رہنما کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
انہوں نے Securiti AI کی بنیاد اس مقصد کے تحت رکھی کہ جدید دور کی مصنوعی ذہانت کے زمانے میں ادارے اپنے ڈیٹا کے تحفظ اور نظم و نسق کو ذمہ دارانہ انداز میں انجام دے سکیںVeeam Software، جو ڈیٹا بیک اپ اور کلاؤڈ ریسیلینس میں ایک عالمی رہنما سمجھی جاتی ہے اس کا پاکستانی کمپنی Securiti AI حاصل کرنے کا مقصد اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی سیکیورٹی خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہے ۔
اس معاہدے کے بعد ریحان جلیل کو Veeamمیں بطور صدر برائے سیکیورٹی و مصنوعی ذہانت کے منصب پر فائز کیا ہے، جہاں وہ سمارٹ اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ذہانت، محنت، اور ٹیکنالوجی سے وابستہ جذبہ کسی سے کم نہیں۔ یہ اُن نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایسی کامیابیاں نئی نسل کے بانیوں، سرمایہ کاروں، اور انجینئروں کے لیے محرّک ثابت ہوتی ہیں پاکستانی قوم محنت اور ذہانت میں کسی سے کم نہیں پاکستانی ڈاکٹر پوری دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں پاکستانی انجینئر ز پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں یہ پاکستان کے اندر بھی سارے کارنامے سر انجام دے سکتے ہیں انھیں بہترین ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے ان کی حوصلہ افزائی اور انھیں تخلیقات کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے کہ ہنر مندوں کی حوصلہ افزائی کرے اور ہرقسم کی ایجاد کو سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا جائے۔



