انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ: وحشیانہ کارروائیاں جاری، مزید 89فلسطینی شہید :دو ریاستی حل ہی واحد راستہ، قبضہ ختم کرنیکا وقت آ گیا، اقوام متحدہ

اسرائیلی فورسز نے 41افراد کو امداد کی تقسیم کے دوران گولیاں مار کر شہید کیا،14 افراد غذائی قلت سے جان کی بازی ہار گئے

غزہ، ریاض، نیو یارک ( ویب ڈیسک) لڑائی میں وقفے اور امداد کی بحالی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام نہ رک سکا، چوبیس گھنٹے میں مزید 89فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی فورسز نے 41افراد کو امداد کی تقسیم کے دوران گولیاں مار کر شہید کیا،14 افراد غذائی قلت سے جان کی بازی ہار گئے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ فلسطینی ریاست بننے تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کریں گے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کو خطرناک حد کو چھوتا ہوا بحران قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں منعقدہ دو ریاستی حل اور فلسطین کے پرامن حل سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے نام پر دہائیوں سے صرف عملدرآمد کی بجائے عمل کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق بیانات، تقاریر اور قرار دادوں کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں رہا جو برسوں سے تباہی، قبضے اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے زور دیا کہ اس تنازع کا واحد منصفانہ اور دیرپا حل یہی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کو دو آزاد، جمہوری ریاستوں کی شکل میں 1967ء کی سرحدوں کے مطابق قائم کیا جائے، جہاں یروشلم دونوں کے لیے دارالحکومت ہو، اور یہ سب کچھ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ممکن ہو۔ انہوں نے ان عناصر کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اس حل کی مخالفت کرتے ہیں اور کہا کہ متبادل کیا ہے؟ ایک ایسی ریاست جہاں فلسطینیوں کو برابر حقوق سے محروم رکھا جائے؟ جہاں وہ مسلسل قبضے اور عدم مساوات کے تحت زندگی گزاریں؟ جہاں انہیں ان کی زمین سے بے دخل کر دیا جائے؟ یہ امن نہیں، یہ انصاف نہیں، اور یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ گوتریس نے کہا کہ یہ تنازع نسل در نسل جاری رہا ہے اور بین الاقوامی قانون، قراردادوں اور سفارتی کوششوں کو مسلسل چیلنج کرتا رہا ہے۔
لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ ناقابلِ حل نہیں، اگر سیاسی قیادت اور جرات مند فیصلے سامنے آئیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ محض خیرسگالی کے بیانات سے آگے بڑھیں اور اس کانفرنس کو ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں، تاکہ قبضے کا خاتمہ ممکن ہو اور دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت کی جا سکے۔ادھر ڈچ حکومت نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کو ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ دفاع قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ نیدر لینڈز نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے اور دو انتہا پسند اسرائیلی وزرا پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔ رائٹرز کے مطابق ڈچ حکومت نے ایک خط جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ وہ غزہ کی سنگین صورتحال پر احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ حکومت نے وزیر اتمار بن گویر اور بیزلیل سموتریچ پر فلسطینیوں کے خلاف اکسانے، غیرقانونی بستیوں کی حمایت اور غزہ میں نسلی تطہیر کی وکالت جیسے الزامات کے تحت پابندی عائد کی ہے۔ادھر برطانیہ مشروط طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال نہ بدلی تو برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی، مغربی کنارے پر تسلط نہ کرنے کا اعلان اور دو ریاستی حل پر رضامندی نہ دی تو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے پہلے فلسطینی ریاست کو مشروط تسلیم کر لیں گے۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں ہے اور ہمارا حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ برقرار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حماس جنگ بندی اور غزہ کی حکومت میں کوئی کردار ادا نہ کرنے پر راضی ہوجائے۔
سر کیئر اسٹامر نے تسلیم کیا کہ فلسطینی عوام نے ناقابلِ بیان تکالیف برداشت کی ہیں اور اب غزہ میں خوراک کی کمی کے بعد ہمیں بھوکے بچوں سمیت وہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جو عمر بھر ہماری ذہن میں رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ تکلیف ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام اقدامات کا ستمبر میں جائزہ لیں گے، اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ روکنے، انسانی امداد کی رسائی ممکن بنانے اور دو ریاستی حل کی جانب سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button