اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت روکنا ہوگی : وزیر اعظم کا دورہ قطر، امیر شیخ تمیم سے ملاقات، اظہار یکجہتی
دوحہ حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا: نیتن یاہو کو اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا، قطری وزارت خارجہ،ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس طلب
اسلام آباد، دوحہ، ریاض، ماسکو، اوٹاوا (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے 9ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت اور قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو برادر ملک قطر کے خلاف اس حملے پر سخت تشویش ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا اور امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے دوحہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے تناظر میں قطر کی قیادت اور عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے گزشتہ روز قطر کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔
دورے کے دوران وزیراعظم کی قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم نے 9ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام کو برادر ملک قطر کے خلاف اس حملے پر سخت تشویش ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی، برادرانہ رشتوں کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھائی چارے کے اس جذبے کے تحت پاکستان اس مشکل وقت میں عزت مآب امیر قطر، شاہی خاندان اور قطر کے برادر عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے قطری قیادت کو اس بلا جواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے اسرائیل کے اس وحشیانہ اور گھنائونے حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی سے جاری جارحیت کو روکنا ہوگا اور امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے غزہ میں قیام امن کی کوششوں میں قطر کے ذمہ دارانہ و تعمیری ثالثی کے کردار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی جارحیت کی ایسی کارروائیوں کا مقصد واضح طور پر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا اور جاری سفارتی اور انسانی کوششوں کو خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت پر بات کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے 15ستمبر کو غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے قطر کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کو اس سربراہی اجلاس کے شریک سپانسر اور شریک انعقاد کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم نے رواں سال کے آغاز میں ہندوستان کی پاکستان پر بلاجواز جارحیت کے دوران پاکستان کے لئے قطر کی بھرپور حمایت پر عزت مآب امیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ قطر کے امیر نے اظہار یکجہتی کے لیے دوحہ کا دورہ کرنے کے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کو فروغ دینے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں قریبی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس دورے میں دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ دوسری طرف دوحہ پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نمازِ جنازہ دوحہ کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کی گئی، جس میں امیرِ قطر سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات، متاثرہ خاندانوں کے افراد اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد شہریوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور غزہ کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ قطری حکام نے بتایا کہ حملے میں شہید ہونے والوں کی شناخت مکمل کرلی گئی اور ان کی تدفین مختلف مقامی قبرستانوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جارہی ہے۔
قطری حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ شہید ہونے والوں میں حماس کے اعلیٰ ترین رہنما الخلیل الحیا کے بیٹے ھمام، الخلیل الحیا کے دفتر کے انچارج جہاد لبد اور 3باڈی گارڈز عبد اللہ عبدالواحد، مومن حسنوا، اور احمد المملوک شامل ہیں۔ شہدا میں قطری سکیورٹی ادارے کے ایک اہلکار سعد محمد الحمیدی بھی شامل ہیں جنہیں قطری پرچم میں دفن کیا گیا جبکہ بقیہ کو فلسطینی پرچم کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔مزید برآں قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا، وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے قطر میں حماس کے دفتر سے متعلق بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، نیتن یاہو کو حساب دینا ہوگا۔ علاوہ ازیں اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق دوحہ اتوار اور پیر کو ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، قطر کی طرف سے دوحہ میں حماس کے رہنمائوں پر اسرائیل کے حملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے یہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس بلایا گیا ہے۔
جبکہ دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قطری وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے کہا کہ قطر ایک انتہائی خطرناک اسرائیلی حملے کا شکار ہوا، جسے صرف ریاستی دہشتگردی ہی کہا جا سکتا ہے، قطر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے سختی سے نمٹے گا۔ اسی طرح اسرائیلی حملے کے بعد امیرِ قطر نے امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ نے قطر کے ساتھ امریکی یکجہتی کا اعادہ کیا اور قطر کی خودمختاری پر حملے کی شدید مذمت کی، جس پر امیر نے امریکی صدر کو پیغام دیا کہ قطر اس حملے کو اسرائیل کی لاپرواہی پر مبنی ایک مجرمانہ کارروائی سمجھتا ہے اور ان کا ملک اپنی سلامتی کے تحفظ اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ ادھر روس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے اسرائیل فلسطین تنازع مزید بڑھ جائے۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے روسی وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ روس اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی، ایک آزاد ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر تجاوز اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف لے جانے والا اقدام سمجھتا ہے۔ دوسری جانب کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ ان کا ملک قطر میں حماس کے رہنمائوں پر اسرائیل کے حملے کے بعد اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔ انیتا آنند نے اس حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ یہ قطر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
حملہ ایسے وقت کیا گیا جب قطر امن کے لیے کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کینیڈا کی وزیرِ خارجہ نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ کیا کینیڈا بھی یورپی کمیشن کی طرح کرے گا کہ یورپی کمیشن نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے معاہدے میں تجارتی اقدامات کو معطل کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔ حکمران لبرل پارٹی کے ایک اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انیتا آنند نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں۔جب ان سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ کیا کینیڈا اسرائیل پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اپنے اگلے اقدامات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ خاتون وزیر خارجہ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ مجلس شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ مملکت قطر کے ہر اقدام میں اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ فلسطینی زمین ہے اور کوئی بھی طاقت فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔



