انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاسائنس و ٹیکنالوجیکالم

مشرق وسطیٰ بارود پر کھڑا ، اسرائیل پہلی بار محتاط

طاھر امبر

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں جنگ محض خدشہ نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی کے طور پر زیرِ غور ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، اور اس میں امریکہ کی کھلی و پوشیدہ مداخلت، اس خطے کو ایک ایسے آتش گیر مرحلے میں داخل کر چکی ہے جہاں ایک غلط قدم پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ مگر اس بار منظرنامہ ماضی سے مختلف ہے اس بار اسرائیل وہ بے خوف جارح نہیں رہا جو برسوں سے بلا روک ٹوک آگ اور خون کی سیاست کرتا آیا ہے۔

یہ حقیقت اب پردوں میں نہیں رکھی جا سکتی کہ گزشتہ تصادم میں ایران کی عسکری اور تزویراتی حکمتِ عملی نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ سنجیدہ دفاعی کیفیت میں دھکیل دیا۔ وہ اسرائیل جو ہمیشہ پہل کو اپنی طاقت سمجھتا تھا، اس بار غیر معمولی احتیاط، خاموشی اور سفارتی بیانات تک محدود نظر آیا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ طاقت کے توازن میں آنے والی اس تبدیلی کا واضح اظہار تھا جسے مغربی میڈیا چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

ایران کو مسلسل ایک کمزور، پابندیوں سے نڈھال اور اندرونی بحرانوں میں گھری ہوئی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر زمینی حقیقت اس بیانیے سے مختلف ہے۔ دہائیوں کی اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور عسکری گھیراؤ کے باوجود ایران نے جس انداز سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کیا، وہ خود ایک مثال ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون وارفیئر، فضائی دفاعی نظام اور خطے میں اس کے تزویراتی اتحادی یہ سب عناصر مل کر ایران کو محض ایک ردِعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن طاقت بناتے ہیں۔

گزشتہ کشیدگی میں ایران نے کھلی جنگ چھیڑے بغیر یہ پیغام دے دیا کہ اگر تصادم مسلط کیا گیا تو اس کی قیمت صرف تہران نہیں بلکہ تل ابیب بھی چکائے گا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اسرائیلی عسکری منصوبہ سازوں کو چونکا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل، جو عام طور پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرتا ہے، اس بار ہاتھ باندھنے پر مجبور دکھائی دیا۔ یہ اسرائیلی تاریخ میں ایک غیر معمولی کیفیت ہے، جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔امریکہ اس پورے بحران میں سب سے زیادہ منافقانہ کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔

واشنگٹن ایک طرف اسرائیل کو غیر مشروط حمایت کی یقین دہانی کرواتا ہے دوسری طرف وہ خود کسی ایسی جنگ میں کودنے سے خوفزدہ ہے جس کے نتائج اس کے قابو سے باہر ہو سکتے ہوں۔ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ ایران اب وہ ملک نہیں رہا جسے عراق یا لیبیا کی طرح چند حملوں میں مفلوج کر دیا جائے۔ یہی خوف امریکی پالیسی میں ابہام، تضاد اور تاخیری حربوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر اسرائیل واقعی ناقابلِ شکست ہے تو وہ ایران کے ساتھ کھلی جنگ سے کیوں گریزاں ہے؟ اس سوال کا جواب نہ تل ابیب کے پاس ہے اور نہ واشنگٹن کے پاس مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل جان چکا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ایک محاذ کی جنگ نہیں ہوگی۔ لبنان، شام، عراق اور خلیج تک اس کے اثرات پھیل سکتے ہیں، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اسرائیلی جارحیت کو لگام ڈال رہی ہے۔

اسرائیل کی سیاسی قیادت داخلی بحرانوں، عالمی تنقید اور فلسطین میں جاری مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کو “حتمی خطرہ” بنا کر پیش کر رہی ہے، مگر یہ بیانیہ اب اپنی کشش کھو رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل پہلی بار مکمل آزادی کے ساتھ کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ یہ تبدیلی محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے اور جنگوں میں نفسیاتی برتری فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ محض تماشائی بنے رہنے کا نہیں، بلکہ سنجیدہ غور و فکر کا ہے۔

ایران سے نظریاتی و سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ اس نے خطے میں یکطرفہ بالادستی کے تصور کو عملی طور پر چیلنج کیا ہے۔ افسوس کہ مسلم دنیا کی اکثریت یا تو خاموش ہے یا پھر مفادات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ایران نے حالیہ کشیدگی میں یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت صرف بم اور میزائل کا نام نہیں بلکہ درست وقت پر دیا گیا واضح پیغام بھی طاقت کی سب سے مؤثر شکل ہوتا ہے۔ ایران نے جنگ شروع کیے بغیر یہ ثابت کر دیا کہ وہ جنگ کے دائرے اور اس کے نتائج کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے اسرائیل کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

آج مشرقِ وسطیٰ ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے اس بدلتے ہوئے توازن کو تسلیم کرنے کے بجائے پرانی جارحانہ روش پر اصرار کیا تو یہ خطہ ایک ایسی آگ میں جھونک دیا جائے گا جس میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ مگر اگر حقیقت پسندی اور سفارت کو موقع دیا گیا تو شاید یہی نیا توازن ایک بڑی جنگ کو روکنے کا ذریعہ بن جائے۔تاریخ کا اصول اٹل ہے جو طاقت کو مطلق سمجھ بیٹھے، وہی سب سے پہلے اس کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

ایران نے حالیہ کشیدگی میں یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب فیصلے یکطرفہ نہیں ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا اس پیغام کو سمجھتی ہے، یا ایک نئی تباہی کی طرف آنکھیں بند کر کے بڑھتی چلی جاتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button