انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

جرات اور بہادری کی پیکرآسیہ اندرابی

تحریر:راحیلہ رحمان(اسلام آباد)

برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو جدوجہد آزادی کیلئے مسلمانوں کی بے مثال قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔انگریزوں اور ہندوئوں کے تسلط کیخلاف کشمیر میں جدوجہد آزادی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،سیدہ آسیہ اندرابی کا شمار بھی ایسی ہی بہادر خواتین میں ہوتا ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی کی خصوصی عدالت نے انصاف کا قتل کرتے ہوئے جرات و بہادری کا پیکر،عزم و ہمت کی بے مثل داستان، حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والی ”دختران ملت“ تنظیم کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو سیاسی بنیادوں پرقائم کیے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی، جو نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ آسیہ اندرابی کی قریبی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو بھی 30، 30 سال قید کی سزا دی گئی ہے، جو بھارتی ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔

واضح رہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین کو 2003 میں ایک من گھڑت قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی،وہ گزشتہ جیل میں نظر بند ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں وہ ’نیلسن منڈیلا آف کشمیر‘ کے طور پر معروف ہیں۔ انھوں نے مدّت قید میں ہی اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اسلام کے مختلف موضوعات پر 20 کتابیں تصنیف کیں ہیں، جن میں سے نصف درجن کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔

دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں گزشتہ آٹھ برس سے قید مقبوضہ جموں و کشمیر کی تینوں خواتین رہنمائوں کو 14 جنوری کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے ساتھ ساتھ تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سیدہ آسیہ اندرابی پر نام نہاد نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے لیے عمر قید کی استدعا کی تھی تاکہ ریاست کے خلاف سازش کرنے پر سخت ترین سزا دینے کا واضح پیغام جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کیس کی مذمت کرتے ہوئے اسے من گھڑت، سیاسی انتقام پر مبنی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسندوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہش کو پورا کرنے کی جدوجہد کو طاقت، غیر قانونی حراست یا فوجی جبر کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ بھارتی عدالت کے فیصلے سے شفاف قانونی عمل، عدلیہ کی آزادی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بین الاقوامی برادری اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹہرائیں۔ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا دینا کشمیری قیادت کی آواز دبانے کی کوشش ہے، یہ سزائیں انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔

کشمیریوں کی پون صدی سے زائد عرصے پر محیط جدوجہد آزادی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر چکی ہے کہ بھارت ایک غاصب قوت کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو مظالم ڈھا رہا ہے وہ کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ حریت لیڈروں کو طویل قید و بند کی سزائیں اور ان کے خلاف استعمال کیے جانے والے مختلف ظالمانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد سے نہیں ہٹا سکے۔

65 سالہ سیدہ آسیہ اندرابی سرینگر کے اندرابی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ سرینگر اور کشمیر کے دیگر کئی اضلاع میں آباد اندرابی خاندان کے مطابق ان کے اجداد، سیّد احمد اندرابی اور سیّد محمد اندرابی، حِجاز (موجودہ سعودی عرب) سے افغانستان کے علاقے ’اندراب‘ اور پھر چودہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں کشمیر آئے۔یہ خاندان یہاں پہلے سے مقیم مشرق وسطیٰ کے اسلامی مبلغین، خاص طور سے سید علی ہمدانی، کے تبلیغی مشن کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ چار دہائیوں سے مذہبی اصلاح، انڈیا مخالف مزاحمت کی مبینہ حمایت اور خواتین کی ’اخلاقی تربیت‘ کے لیے سرگرم خواتین کی تنظیم ’دختران ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کی برقعہ پہنے تصاویر جنوب ایشیائی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی رہی ہیں۔

آسیہ اندرابی کے خاندان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے کبھی کوئی تحفظات نہیں پائے گئے۔ ان کی اپنی خالائیں اور پھوپھیاں سبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔خود آسیہ نے بھی بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔آسیہ نے جس گھرانے میں پرورش پائی وہاں کی خواتین پہلے ہی اسلامی ایکٹِوازم میں پیش پیش تھیں۔ ان کی ایک خالہ نے 1960 کی دہائی میں جہیز کے خلاف بیداری مہم چلائی تھی اور خواتین پر ہی مشتمل ایک میریج کمیٹی قائم کی تھی۔

اپنے خاندانی ماحول اور مطالعہ سے متاثر ہو کر 1980 کے اوائل میں ہی آسیہ نے پرانے سرینگر کے وسط میں ’مدرسہ تعلیم القرآن‘ قائم کر لیا جہاں لڑکیوں کو قران، حدیث، عربی زبان اور تجوید کی تعلیم دی جاتی تھی۔ عالمی سطح پر اسلام کی اصلاحی تحریکوں سے متاثر متعدد لڑکیاں ان کے حلقہ اثر میں جمع ہو گئیں اور بعد میں اسی مدرسے نے خواتین کی مذہبی اصلاحی تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی شکل اختیار کر لی۔سنہ 1992 میں آسیہ نے کشمیری خواتین سے اپیل کی کہ وہ گھر سے باہر برقعہ پہن کر نکلیں۔آسیہ کی مستقل مزاجی اور نظریاتی استقلال کا ثبوت ہے کہ اتنی تشہیر کے باوجود چالیس سال سے کسی نے ان کا چہرہ نہیں دیکھا۔

پانچ اگست 2019 کو انڈین حکومت نے کشمیر کی نیم خودمختاری کے خاتمے کا اعلان کر کے سارا کا سارا انتظامی کنٹرول براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تاہم اس سے چند سال قبل ہی علیٰحدگی پسندوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف ہمہ گیر کریک ڈاو¿ن شروع ہو چکا تھا۔جماعت اسلامی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دختران ملّت کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور این اے آئی نے درجنوں علیٰحدگی پسند رہنماو¿ں کو ’دہشت گردوں کی فنڈنگ‘ کے مبینہ معاملے میں گرفتار کر لیا تھا۔ اسی مہم کے دوران جولائی 2018 میں آسیہ اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی تہاڑ جیل پہنچادیا گیا۔گزشتہ چالیس سالہ عرصے میں سیدہ آسیہ اندرابی مجموعی طور پر کم و بیش 15 سال تک قید و بند کی صعوبتوں میں رہی ہیں۔

کشمیر کی آزادی تحریک قیام پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے قیام پاکستان کے فوری بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات کی روشنی میں جب مجاہدین جہاد آزادی کشمیر میں تیز رفتاری سے پے در پے کامیابیاں حاصل کر رہے تھے اور قریب تھا کہ کشمیر کا پورا خطہ آزادی کی نعمت سے سرفراز ہو جاتا مگر بھارت اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے اس مسئلہ کو 1948ئ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے اور جموں و کشمیر میں اس بنیادی انسانی حقوق کے معاملہ میں رائے شماری کرانے کی قرار داد منظور کی گئی کہ کشمیری عوام اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کرنا چاہتے ہیں یا بھارت سے۔

بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے خود اس قرار داد پر دستخط کیے مگر پھر رائے شماری کرانے کے بجائے مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کیے رکھی اور بعد ازاں بھارت پوری دنیا کے سامنے کیے ہوئے رائے شماری کے وعدے ہی سے مکر گیا اور آخر پانچ اگست 2019ئ کو آئین میں ترامیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی بھارت میں خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی گئی اور کشمیر کو دیگر ریاستوں ہی کی طرح بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا تاہم کشمیری عوام نے نہ ماضی کے بھارتی حکومت کے دعو?ں اور اقدامات کو کبھی تسلیم کیا ہے اور نہ ہی حالیہ پیش رفت کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں وہ گزشتہ 78 برس سے بھارتی حکومتوں کے ہر قسم کے ظلم و جبر کو جرآت و استقامت سے برداشت کر رہے ہیں اور اپنی جدوجہد آزادی کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تحریک حریت کشمیر کے بلند قامت بزرگ رہنما اور استقامت کے پہاڑ سید علی گیلانی مرحوم نے آزادی کشمیر کی جدوجہد کو نئی جہات اور بے مثال بلندیوں سے روشناس کرایا اور کشمیری عوام کو ”ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے“ کا مقبول عام نعرہ دیا انہوں نے قید و بند کی تمام صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں اور ہر قسم کی آزمائشوں میں سرخرو رہے مگر آزادی کشمیر کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ محترمہ سیدہ آسیہ اندرابی کا شمار بھی تحریک حریت کشمیر کی اہم رہنمائوں میں ہوتا ہے انہوں نے کم و بیش چالیس برس قبل 1987ئ میں کشمیر کی حریت پسند خواتین کو منظم کر کے ”دختران ملت“ کے نام سے تنظیم قائم کی اور کشمیری خواتین کو جدوجہد آزادی میں متحرک کیا جس پر بھارتی حکومت نے انہیں پس دیوار زنداں دھکیل کر ان کی صدائے حریت کو خاموش کرنے کی کوشش کی اور 2003ئ میں ایک خود ساختہ مقدمہ میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

دہلی کی عدالت کی جانب سے موجودہ سزا سنائے جانے سے قبل انہیں اسی برس چودہ جنوری کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے نام نہاد قانون کی دفعات 20، 28 اور 39 اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت انہیں نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی مجرم قرار دیا گیا تھا تاہم فیصلے میں عدالت نے سزا بعد میں سنانے کا اعلان کیا تھا۔ استغاثہ نے انہیں عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ریاست کے خلاف سازش کرنے والوں کو سخت ترین سزا کا پیغام دیا جا سکے چنانچہ چندرجیت سنگھ ایڈیشنل سیشن جج نے استغاثہ کی خواہش کے عین مطابق دختران ملت کی سربراہ محترمہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ ان کی دو قریبی ساتھیوں کو 24 مارچ کو تیس تیس برس قید کی سزا سنا کر بھارتی حکمرانوں کو خوش کر دیا ہے۔سیدہ آسیہ اندرابی کی دلیری اور بہادری نوجوان خواتین کیلئے مشعل راہ ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button