سپیڈو بسوں میں لوٹ مار،کارڈسکین کرنے پر 5واپسی کی بجائے 25روپے کٹوتی ،مریم سے نوٹس کی اپیل
یکم جنوری 2026 سے اضافی کٹوتیاں جاری،اعتراض کرتے ہیں تو نہ تو آن گراؤنڈ عملہ کوئی جواب دیتا ہے اور نہ ہی ہیلپ لائن سے مؤثر مدد ملتی ہے:شہری

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لاہور سمیت صوبہ پنجاب میں چلنے والی سپیڈو بس سروس میں مسافروں کے ساتھ مبینہ طور پر کھلی لوٹ مار شروع کردی گئی۔ شہریوں کے مطابق یکم جنوری 2026 سے کرایہ کی غلط کٹوتی کی صورت میں 5 روپے کی واپسی (Refund) بند کر دی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس بعض صورتوں میں مزید 25 روپے بلاجواز کٹنے لگے ہیں۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں ریکارڈنگ مسلسل چلتی رہتی ہےکہ کارڈ دوبارہ سکین کرنے پر آپ کو 5روپے بقایا ملیں گے مگر اس کے برعکس دوبارہ سکیننگ پر مزید 25روپے کٹ جاتے ہیں،متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ روزانہ ہزاروں افراد اس نظام سے سفر کرتے ہیں، مگر کارڈ اسکیننگ کی خرابی، زائد کرایہ کٹوتی اور ریفنڈ نہ ملنے کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ جب وہ زائد کٹوتی پر اعتراض کرتے ہیں تو نہ تو آن گراؤنڈ عملہ کوئی جواب دیتا ہے اور نہ ہی ہیلپ لائن سے مؤثر مدد ملتی ہے۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ پہلے کم از کم 5 روپے کی واپسی کا نظام موجود تھا، جو عوام کے لیے ایک سہارا تھا، مگر اب وہ سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے اور الٹا اضافی رقم کاٹ کر مسافروں پر مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اسی طرح جب اگلی گاڑی میں سفر کرتے ہیں تو مزید 25روپے کٹ جاتے ہیں جو ناانصافی ہے۔
شہریوں سے روزانہ کی بنیا د پر لاکھوں روپے کی لوٹ مار کی جارہی ہے،گاڑیوں کا عملہ ریزگاری نہیں رکھتا نقد ادائیگی کرنے والے شہریوں سے 25روپے کاٹنے کی بجائے 30روپے کاٹے جارہے ہیں جبکہ 5روپے کے واپسی کے تقاضہ پر عملہ انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال کو غریب دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں روزانہ سفر کرنے والے مزدور، طلبہ اور کم آمدنی والے افراد کے ساتھ یہ رویہ ناانصافی اور بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل

متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ سپیڈو بس کرایہ نظام میں ہونے والی زائد کٹوتیوں کا فوری نوٹس لیا جائے،ریفنڈ کا مؤثر اور خودکار نظام بحال کیا جائےذمہ دار افسران اور کنٹریکٹرز کے خلاف انکوائری اور کارروائی کی جائے،عوام کو لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاح نہ کی گئی تو یہ مسئلہ عوامی سطح پر شدید ردِعمل کا باعث بن سکتا ہے۔



