لمبے بال، دلفریب عاشق ، یاروں کا یار۔۔۔ جون ہونا کوئی مذاق نہیں
جون ایلیا کے دوست قمر رازی نے ایک بار ان کے بارے میں کہا تھا کہ ’وہ تنقید کرنے میں جلدی کرتے تھے لیکن بہت سچے دوست، اپنے خیالوں میں گم ایک مسافر تھے۔ ایک متکبر فلسفی، دلفریب عاشق، بہت کمزور لیکن وہ جو پوری دنیا سے لڑ بھی سکتا ہے اور جو ساری دنیا کو اپنا دوست بنا سکتا ہے، یہ وہ شخص ہے جسے جون ایلیا کہتے ہیں۔‘
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ میں ادیبوں اور دانشوروں کے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔
منتظر فیروزآبادی، جنھوں نے جون ایلیا پر ایک کتاب لکھی ہے کہتے ہیں کہ ’میں نے جون صاحب کو کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے بہت سے شعر پڑھے اور سنے لیکن مجھے جون صاحب سے خاص لگاؤ تھا۔ جان جو اپنے زلفیں لہراتا ہے، جنھیں مجروح سلطان پوری نےشاعروں کا شاعر کہا۔‘

جون علامہ شریف حسن ایلیا کی سب سے چھوٹی اولاد تھے۔ مشہور فلم ساز اور شاعر کمال امروہی ان کے کزن تھے۔ جون شروع میں پڑھنے لکھنے میں زیادہ اچھے نہیں تھے لیکن چھ سال کی چھوٹی عمر میں انھوں نے اپنا پہلا شعر کہا تھا۔
’چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں،
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
جون ایلیا کو زبانوں سے خاص دلچسپی تھی۔ وہ عربی اور فارسی جانتے تھے۔ بعد میں انھوں نے انگریزی، عبرانی اور سنسکرت بھی سیکھی۔ اردو کے علاوہ تاریخ اور صوفی روایات پر بھی ان کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
زاہدہ حنا سے ان کی ملاقات ایک اردو رسالہ انشا کی اشاعت کے دوران ہوئی، محبت ہو گئی اور پھر دونوں نے 1970 میں شادی کر لی۔
لیکن یہ رشتہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ ان کے مزاج میں فرق نے اپنا اصل رنگ دکھایا اور 1984 میں دونوں کی طلاق ہو گئی۔
جون ایلیا کی بیٹی سہینہ ایلیا کے مطابق مجھے لگتا ہے کہ جون ایلیا اور زاہدہ حنا کو شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ان دونوں کو اپنے کام پر زیادہ وقت گزارنا چاہیے تھا۔‘
زاہدہ حنا نےایک بار ’کربلا کی تلاش میں‘ کے نام سے جون پر مضمون لکھا تھا
بیٹی سہینہ کے مطابق ’جب بھی مجھے کچھ لکھنا ہوتا، میں ان سے پوچھتی کہ ابو، فوراً کوئی شعر سناؤ۔ تو وہ ہنس کر کہتے کہ شعر کہنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔
کلام پڑھنے کا انوکھا انداز
جون کو لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں مزہ آیا۔ لمبے بال، گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر باہر جانا اور رات کو دھوپ کا چشمہ پہننا ایک عام سی بات تھی۔
منتظر فیروزآبادی کہتے ہیں کہ ’جون سٹیج کے آدمی تھے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سٹیج پر کون سا ڈرامہ کرنا ہے اور لوگ کیا پسند کریں گے۔‘
منتظر فیروزآبادی کے مطابق ’جون صاحب بھی کہا کرتے تھے کہ اگر میں شاعر نہ ہوتا تو ڈرامہ نگار ہوتا۔ وہ تمام اصولوں کو ایک طرف رکھتے تھے۔ ان کا چنچل پن ہمیشہ زندہ رہتا تھا۔‘
جون ایلیا اپنے وقت کے دوسرے شاعروں سے بالکل الگ شناخت رکھنے والے شاعر ہیں۔ پاکستانی شاعر احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ ’بیسویں صدی کے دوسرے نصف کی شاعری میں ان کی آواز کو پہچانا جا سکتا ہے۔‘
’اردو شاعری کی تین سو سالہ تاریخ میں بہت کم شاعروں نے اس لہجے، اتنے خلوص اور اس قدر ولولے سے نظمیں لکھی ہوں گی۔‘
جون ایلیا نے بہت سے مشاعرے لوٹے اور بہت سے لوگوں کی تنہائی میں ساتھی بن گئے۔ قاسمی کہتے ہیں کہ ’جون صاحب کی شاعری بولتی ہے۔‘
جون ایلیا بچپن سے ہی پیار کرنے والی طبیعت کے مالک تھے۔ 12 سال کی عمر میں وہ اپنی خیالی محبوبہ صوفیہ کو خط لکھا کرتے تھے۔
مشہور پاکستانی طنز نگار مشتاق احمد یوسفی ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ’جب جون نے کہا کہ میری پہلی محبت آٹھ سال کی عمر میں ایک قاتل حسینہ سے ہوئی، تو میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔‘
منتظر فیروزآبادی لکھتے ہیں کہ ’جون ایلیا ایک مزاج کا شاعر ہے لیکن یہ عاشق مظلوم، افسردہ یا پریشان نہیں، ایلیا ایک ایسا شاعر ہے جو عشق کے بارے میں شاعری کرتے ہوئے بھی تناؤ میں رہتا ہے۔‘
جون کی بہن سیدہ زنان نجفی لکھتی ہیں کہ ’انھیں امروہہ میں ہمارے زمانے کے کھیل جیسے گلی ڈنڈا بہت پسند تھے۔ جب بھی وہ امروہہ جاتے، زمین کو چومتے۔‘
خالد احمد انصاری، جنھوں نے جون کی کئی کتابیں شائع کی ہیں، کہتے ہیں کہ ’مجھے پنجاب سے سکھوں کے فون آتے ہیں، وہ کہتے ہیں، یار، یہ کون آدمی ہے جس نے ہمیں پاگل کر دیا ہے۔ افغانستان سے فون آیا، یار یہ آدمی ہمیں مار ڈالے گا۔‘
جون ایلیا نے اپنے بارے میں کہا تھا: یہ ہے ایک جبر، اتفاق نہیں۔۔۔ جون ہونا کوئی مذاق نہیں
جون کی حیرت انگیز یادداشت تھی لیکن وہ اپنے آپ میں کھویا ہوا شخص تھا۔ خالد احمد انصاری لکھتے ہیں کہ ’وہ مجھ سے کہتا تھا، تم جانتے ہو کہ تمہارا بھائی جون بہت ماڈرن آدمی ہوا کرتا تھا۔‘
’وہ اس زمانے کی راک ہڈسن کی مشہور فلم کم ستمبر کے میوزک پر ڈانس کیا کرتا تھا۔‘
انھیں میر تقی میر کی مشہور غزل ’دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا‘ بہت پسند تھی۔ اکثر اسے گنگناتے بھی تھے۔



