انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسپورٹسکالم

پاکستان ہاکی کا مستقبل

پاکستان ہاکی کا ماضی درخشاں تھا حال دگرگوں اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے گو کہ کبھی بھی اس کھیل کو کرکٹ جیسی ہر دلعزیزی نصیب نہیں ہوئی بھارت کا قومی کھیل بھی ہاکی ہے مگر وہاں بھی کرکٹ زیادہ مشہور ہے وجہ پیشہ وارانہ ہے۔

 

ہاکی کبھی بھی کرکٹ اور فٹبال کی طرز پر نہیں کھیلی گئی اس لئےہاکی کے کھلاڑی کبھی ویسے آسودہ حال نہیں رہے جیسے کرکٹ یا فٹبال کے ہوتے ہیں ، مگر اسکے باوجود پاکستان ہاکی کا درخشاں ماضی رکھتا ہے پاکستان دنیائے ہاکی کا بادشاہ نہیں شہنشاہ تھا ، پاکستان واحد ملک ہے جو ہاکی کے چار عالمی کپ جیت چکا ہے 1955 سے 1994 تک ہاکی کے راجے مہاراجے ہم ہی تھے۔

hockey-1

1960 روم اولمپکس میں گولڈ میڈل ، 1968 میکسیکو اولمپکس میں گولڈ میڈل ، 1984 لاس اینجلس اولمپکس میں گولڈ میڈل ، سلور میڈلز کی بات کریں تو 1956 میں میلبرن میں 1964 ٹوکیو میں 1972 میونخ میں جیتے ، بروز میڈل 1976 مونٹریال میں حاصل کیا ، اب آتے ہیں ورلڈ کپ کی طرف جس کا سطور بالا میں لکھا گیا پاکستان واحد ملک ہے جو چار بار ورلڈ ہاکی کپ جیت چکا ہے ، جرمنی اور آسٹریلیا ،تین، 3 بار جیتا ہے ، پاکستان پہلی بار 1971 میں اسپین میں ورلڈ چیمپئن بنا پھر 1978 میں ارجنٹنیا میں دوسری بار ورلڈ کپ فاتح رہا۔

hockey-2

1982 میں تیسری بار بھارت میں ورلڈ کپ جیتا اور چوتھی بار 1994 میں سڈنی میں کامیابی حاصل کی ، ایشین گیمزکی بات کریں تو گولڈ میڈلز 1958، 1962، 1970، 1974، 1978، 1982، 1990، میں حاصل کئے ، جبکہ چیمپئنز ٹرافی ونرز 1978 ،1980، 1994 کے رہے ، ایک وقت تھا حسن سردار حنیف خان کلیم اللہ سمیع اللہ ،صلاح الدین شہباز،سینئر، توقیر ڈار، شہناز شیخ، طاہر زمان سہیل عباس جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی پیدا ہوتے تھے ،مگر اب کوئی عالمی سطح کا کھلاڑی نہیں ہے۔

sohail-abbas

یہ زبوں خالی اچانک نہیں آئی 1994 کے صورتحال خراب ہونی شروع ہو چکی تھی چار بار کی ورلڈ کپ ونر اب پچھلے دو عالمی کپ اور اولمپکس نہیں کھیل سکی کچھ تو حکومتی عدم سرپرستی ہے ، کچھ صلاحیت کا بھی فقدان ہے ، ایک ایسا ملک جہاں معیشت تباہ حال ہو سیاست اخلاقی طور پر تباہ ہو ثفاقت زوال پزیر ہو وہاں کھیل میں بہتری کی گنجاش بہت کم رہ جاتی ہے۔

hockey-3

حال ہی میں منظر عام پر آئی ویڈیومیں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا میں جو ذلت آمیز سلوک کیا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار کس قدرہاکی سے کس قدر سنجیدہ ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button