پاکستان کی سیاسی فضا ہر انتخاب کے بعد ایک ایسے بھنور میں داخل ہو جاتی ہے جہاں امیدیں، شکوے، الزامات اور احتجاج ایک دوسرے میں اس طرح گڈمڈ ہوجاتے ہیں کہ اصل مسئلہ کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ انتخابی دن سے قبل جوش، نعروں اور تبدیلی کے دعووں سے گونجتے ملک میں نتائج آتے ہی روایتی بیانیاں پھر زندہ ہو اٹھتے ہیں جیتنے والے کیلئے یہ تاریخ کا شفاف ترین الیکشن ہوتا ہے اور ہارنے والے کیلئے ’’تاریخ کی بدترین دھاندلی۔
کہیں فارم 47 کا شکوہ، کہیں گنتی میں بے ضابطگی کی کہانی، کہیں پولنگ عملے پر جانب داری کے الزام، تو کہیں خود مہریں لگا کر بیلٹ بھرنے” کی ویڈیوز۔ یہ سب مناظر اب حیرت نہیں، بلکہ معمول کی بات لگتے ہیں۔ پھر احتجاج ہوتے ہیں، عدالتوں کا رخ کیا جاتا ہے، مگر انجام وہی رہتا ہے جو الیکشن کمیشن نوٹیفائی کر چکا ہوتا ہے۔اور جو ہماری انتخابی تاریخ کا مسلسل حصہ رہا ہے۔
لیکن اس تمام شور و غوغا میں ایک بنیادی سوال ہمیشہ تشنہ رہتا ہے:
کبھی بھی پاکستانی پارلیمان نے انتخابی عمل کو بہتر بنانے کیلئے کوئی پائیدار قانون سازی کیوں نہیں کی؟
کیوں آج تک کوئی ایسی آئینی ترمیم نہیں لائی گئی جو اس دائمی ابہام اور الزام تراشی کو ختم کر سکے؟ کیوں ہر عام انتخابات ہوں یا ضمنی انتخاب ہم وہی رونا دھونا دہراتے رہتے ہیں؟
اگر ہمارے منتخب نمائندے واقعی جمہوریت کے رکھوالے ہیں تو کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ ایک ایسا شفاف اور قابلِ اعتماد نظام ترتیب دیں جس پر پورا ملک اتفاق کرسکے؟
کیا یہ بہتر نہ ہو کہ جو جماعت جیتے، اس کی جیت کو خوش دلی سے تسلیم کیا جائے، اور جو ہارے وہ ذمہ داری کے ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کرے نہ کہ سڑکوں کو خون سے رنگا جائے، نہ احتجاجی سیاست کو گولیوں اور آنسو گیس کی دھند میں تبدیل کیا جائے، اور نہ غریب عوام کو طاقت کے کھیل کا ایندھن بنایا جائے؟
کل قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کا حال بھی ملک بھر میں زیرِ بحث ہے۔ ایک بار پھر وہی سوالات، وہی بیانات، وہی اعتراضات۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے سیکھنے، آگے بڑھنے اور سیاسی بلوغت اختیار کرنے کی بجائے تاریخ کو ایک ہی صفحے پر روک دیا ہے۔
آخر یہ سلسلہ کب تک یونہی چلتا رہے گا؟
کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کے بجائے ہم انتخابی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے؟
کیا کبھی ایسا مرحلہ آئے گا کہ جمہوریت کے نام پر کی جانے والی لڑائیاں عوام کی جان اور امن کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے پارلیمان کے اندر حل ہوں؟
خدارا۔۔ پاکستان کا سوچیں۔
پاکستانی عوام کا سوچیں۔
یہ ملک مزید انتشار، مزید تصادم اور مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
جمہوریت کا اصل زیور وہ نہیں جو الزامات، احتجاجوں اور دھاندلی کے بیانیوں سے جکڑا ہوا ہو۔
جمہوریت کا زیور وہ ہے جس میں نتائج پر اعتماد ہو، نظام پر بھروسہ ہو، اور سیاست عوام کی خدمت بنے انتقام نہیں۔
فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم جمہوریت کو زیور بنانا چاہتے ہیں۔
یا ہمیشہ کی طرح اسے گرد آلود سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے۔



