
کراچی، راولپنڈی ( ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا اور بانی پی ٹی آئی جلد رہا ہوں گے، ہم بلال محسود کی فیملی کے ساتھ مرتے دم تک کھڑے رہیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے ایک روز دورہ کراچی میں سہراب گوٹھ پر ریلی کے دوران جاں بحق پی ٹی آئی کے کارکن بلاول محسود کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کراچی کے صدر راجہ اظہر سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ کے پی کراچی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے سہراب گوٹھ قافلے کی شکل میں پہنچے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی واحد تحریک اور قومی جماعت ہے، سہراب گوٹھ میں بلال محسود شہید ہوا ہے، پی ٹی آئی کا ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ہے، پی ٹی آئی کے ورکر عمران خان کی امانت ہیں، ہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، آج میرا لیڈر جیل میں، ہمیں ورکر کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑنا، اگر بے یارو مدد گار چھوڑا تو قوم ہمیں معاف نہیں کریگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نظریاتی ورکر بھی اگر تحریک میں کھڑا ہے تو یہ تحریک جاری ہے۔
یہ تحریک کم نہیں پڑے گی مزید بڑھے گی، میں بلاول محسود کی فیملی کے ساتھ تعزیت کرتا ہوں ہم ہر خوشی اور غم میں ورکر کے ساتھ کھڑے ہیں، اللہ کرے ایسے غم ہمیں نصیب نہ ہو۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ورکر حقیقی آزادی، عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنا خون دے رہے ہیں۔ عمران خان نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی جبکہ فہرست میں شامل دو رہنما اڈیالہ جیل ہی نہیں آئے، ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ہم چاہتے ہیں سب کا احتساب ہو۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں ترجمان بانی نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کسی پارٹی لیڈر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، ملاقات نہ ہونے سے ہمیں نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کس حالت میں ہیں، چار ہفتے سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ نیازاللہ نیازی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر ایگزیکٹو کے نیچے ہے، ملک کا وزیراعظم بھی کہتا ہے کہ ملاقات ہوگی یا نہیں پوچھ کر بتاتا ہوں۔



