جب عقل تباہی کا ہتھیار بن جائے

انسان نے صدیوں کی محنت، طویل ریاضت اور مسلسل تحقیق کے ذریعے اپنی عقل کو دنیا کو سنوارنے، نکھارنے اور ترقی دینے کے لیے استعمال کیا۔ علم، سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو سہولت، رفتار اور وسعت بخشی۔ مگر اسی عقل کے سائے میں ایک ایسی سوچ بھی خاموشی سے پروان چڑھتی رہی جو تعمیر کے بجائے تخریب، اور بقا کے بجائے غلبے کو اپنا مقصد بناتی چلی گئی۔
یہ سوچ ضد، انا اور احساسِ برتری سے جنم لیتی ہے۔ یہ انسانیت کی خدمت کے بجائے بالادستی، طاقت اور کنٹرول کی خواہاں ہوتی ہے۔ یہی ذہن امن کے داعیوں کو کمزور قرار دیتا ہے، مکالمے کو بزدلی سمجھتا ہے، اور جنگ کو مسئلے کا حل تصور کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عقل اخلاق سے کٹ جائے تو وہ ترقی کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ تباہی کا ہتھیار بن جاتی ہے۔
آج اگر دنیا کے سیاسی نقشے پر نظر ڈالی جائے تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ عالمی طاقتیں اسی فکری بحران سے گزر رہی ہیں۔ جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اسلحے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے، اور انسانیت چند طاقتور فیصلوں کے رحم و کرم پر کھڑی ہے۔ یہ فیصلے اکثر ان لوگوں کی میزوں پر ہوتے ہیں جو میدانِ جنگ سے بہت دور، مگر اس کے نتائج سے پوری دنیا کو دوچار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
یہ ذہنی رویہ اس قدر خطرناک ہو چکا ہے کہ یہ دوسروں کی مثبت صلاحیتوں، سچائی اور خیر خواہی کو بھی شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی، اور تنوع کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً دنیا ایک ایسی سمت میں بڑھ رہی ہے جہاں تباہی ہی واحد راستہ نظر آنے لگتا ہے۔ اگر اس رویے کا بروقت اور سنجیدہ علاج نہ کیا گیا تو اس کی قیمت کسی ایک ملک یا خطے کو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑے گی۔
بچپن میں میرے تایا ابو ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک وزیر نے بادشاہ کو خبردار کیا کہ ایک درویش کے مطابق ایک ایسی آندھی آنے والی ہے جس کے اثر میں آنے والا پاگل ہو جائے گا، اور جو زیرِ زمین پناہ لے گا وہ عقل مند رہے گا۔ بادشاہ نے فوراً پناہ گاہیں بنوائیں اور اپنے چند قریبی لوگوں کے ساتھ وہاں چھپ گیا۔
جب آندھی گزر گئی اور بادشاہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ پوری رعایا عقل سے محروم ہو چکی ہے۔ صرف وہ اور اس کے چند ساتھی سلامت تھے۔ مگر چونکہ وہ اقلیت میں تھے، اس لیے اکثریت نے انہیں ہی پاگل قرار دے دیا۔ اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ جب معاشرہ اجتماعی طور پر غلط راستہ اختیار کر لے تو درست سوچ رکھنے والے کم لوگ بھی دیوانے کہلاتے ہیں۔ اگر بادشاہ بروقت فیصلہ کرتا تو پوری رعایا کو بچایا جا سکتا تھا، مگر تاخیر نے حقیقت بدل دی۔
آج کی دنیا بھی اسی موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقتور ممالک، جدید اسلحے کے خالق، اور عالمی معیشت کے بڑے کھلاڑی ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں مفاد اکثر انسانیت پر فوقیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ کا کردار خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور ریاستوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے پاس بے مثال عسکری، سائنسی اور معاشی وسائل موجود ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر یہ بحث بھی موجود رہی ہے کہ امریکہ کی بعض پالیسیاں دنیا کے تیل، قدرتی وسائل اور دیگر معاشی نعمتوں کے تحفظ یا کنٹرول کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ اگرچہ ریاستیں اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مفادات عالمی امن اور اجتماعی بقا سے ہم آہنگ ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں چاہیں تو اپنی قوت کو جنگ کے بجائے امن، تنازعات کے حل اور عالمی استحکام کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت کو شراکت کے بجائے دباؤ، اور قیادت کو خدمت کے بجائے غلبے کے طور پر دیکھا جائے۔ خصوصاً موجودہ دور میں، جب جنگ کی نوعیت ایٹمی ہو چکی ہے، یہ بات سمجھنا ناگزیر ہے کہ ایسی جنگ میں نہ کوئی فاتح ہوتا ہے اور نہ کوئی محفوظ رہتا ہے۔ ایٹمی ہتھیار چلانے والا بھی تباہی سے نہیں بچ سکتا، اور جس پر یہ گرائے جائیں وہ بھی مکمل بربادی کا شکار ہوتا ہے۔ اس تصادم میں زمین، ماحول، معیشت اور آنے والی نسلیں سب یکساں نقصان اٹھاتی ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں عالمی قیادت سے غیر معمولی دانش اور اخلاقی بصیرت کی توقع کی جاتی ہے۔ حکم دینے کے لیے حکم ماننے والے زندہ انسان ضروری ہوتے ہیں۔ دربار تبھی قائم رہتا ہے جب رعایا موجود ہو۔ لاشوں کے ڈھیروں پر نہ کوئی سلطنت قائم رہتی ہے، نہ کوئی حکمرانی معنی رکھتی ہے۔
اگر بڑی طاقتیں، بالخصوص امریکہ، اپنی قوت کو بالادستی کے بجائے تعاون، اور مفاد کے بجائے انسانیت کے اصول پر استوار کریں تو دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لایا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، جب عقل کو اخلاق سے جدا کر دیا جائے، تو وہ ترقی کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ خود انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔انسانیت کی بقا کا تقاضا یہی ہے کہ عقل کو ہتھیار نہیں، ذمہ داری سمجھا جائے۔
کیونکہ جب انسانیت ختم ہو جاتی ہے
تو طاقت بھی اپنے معنی کھو دیتی ہے۔



