انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

اسرائیل نے غزہ پر درجنوں بم گرا دئیے، مزید 74فلسطینی شہید: جنگ طویل ہونے کا ذمہ دار نیتن یاہو: امریکی اخبار

تل ابیب میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ڈیل کے حق میں مظاہرہ: اسرائیل سے جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے، حماس

غزہ، تل ابیب، واشنگٹن (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 74لسطینی شہید ہوگئے۔ غزہ سے عرب میڈیا کے مطابق 7اکتوبر 2023ء سے اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ میں فلسطینی شہداء کی تعداد 58ہزار سے تجاوز کر گئی۔ غزہ سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وحشیانہ کارروائیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 50 فلسطینی شہید ہو گئے، شہید ہونی والوں میں پانی کی تقسیم کے مقام کے قریب موجود 10فلسطینی بھی شامل ہیں، شمالی شہر بیت ہنون پر اسرائیلی فوج کے حملے میں تقریباً 50 بم گرائے گئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز آباد کاروں نے بیت اللحم کے المنیہ گائوں کے قریب فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا، اسرائیلی فورسز نے غزہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر باپ بیٹے سمیت 6 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کی تنظیم انروا کے غزہ میں موجود ایک کلینک نے بیان میں کہا کہ مارچ سے جاری اسرائیلی کے محاصرے کے بعد سے غزہ میں غذائی قلت کے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارچ کے بعد سے انروا کو غزہ میں امداد لانے کی اجازت نہیں ہے، ضروری سامان کی شدید کمی کے باوجود ٹیمیں غزہ میں لوگوں کی مدد کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین نے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوحہ میں حماس کے ساتھ مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔ مظاہروں میں شریک افراد نے دوپہر اور شام کے اوقات میں مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
اس وقت تل ابیب کا ماننا ہے کہ غزہ میں تقریبا 50 اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے 20 زندہ ہیں ۔دریں اثنا امریکی جریدے نے غزہ میں جنگ طویل ہونے کا ذمے دار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو قرار دے دیا۔ ایک مفصل رپورٹ میں اخبارنے لکھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کی پیش کش پر نیتن یاہو نے اپریل 2024 میں جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر مخلوط اسرائیلی حکومت کے سخت گیر وزیرخزانہ سموٹرچ کو بھنک پڑ گئی۔
اخبار کے مطابق سموٹرچ نے کہا کہ جنگ بندی ہوئی تو وہ مخلوط حکومت چھوڑ دے گا، نیتن یاہو نے اپنی حکومت برقرار رکھنے کی خاطر جنگ بندی مسترد کر دی۔اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس عہدیدار نے اس کا الزام اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر لگایا ہے کہ وہ ہر بار نئی شرائط شامل کرتے ہیں اور سب سے حالیہ شرط غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے نئے نقشے ہیں۔
حماس کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ دوبارہ تعیناتی کے بارے میں اسرائیل کا موقف مذاکرات میں حقیقی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا پر اصرار نہیں کر رہی ہے۔ یہ زیادہ تر تنازع میں ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button