جوہری پروگرام پر ایران، امریکہ مذاکرات کا عمان میں تیسرا دور مکمل
وفود کی مشاورت کیلئے وطن واپسی ،مسقط مذاکرات تہران اور واشنگٹن دونوں کے لیے کامیابی کا موقع بن سکتے ہیں ہیں:مشیر خامنہ ای
مسقط:(ویب ڈیسک )ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والا ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور مکمل ہوگیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق دونوں وفود مشاورت کےلیے اپنے اپنے وطن روانہ ہوگئے ہیں۔
مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔
ان مذاکرات کا مقصد ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام پر پابندی کے بدلے بعض سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی حاصل کرنا ہے۔ مسقط میں ایران اور امریکا کی ماہرین کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی۔
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو سنبھالنے کےلیے پابندیاں ختم کروانے کا خواہشمند ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے کہا ہے کہ تیسرے دور میں "بنیادی اصولوں، اہداف اور تکنیکی امور” پر بات چیت ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلا اعلیٰ سطحی اجلاس 3 مئی کو متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایک نیا معاہدہ طے کر لیں گے جو ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے راستے کو روک دے گا۔
دریں اثنا ایرانی سپریم لیڈر آیت اﷲ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کی کامیابی کے لیے امید کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ مسقط مذاکرات تہران اور واشنگٹن دونوں کے لیے کامیابی کا موقع بن سکتے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم مسائل ان کے حلف اٹھانے کے 100 دن بعد بھی حل طلب ہیں، جن میں غزہ، یوکرین، ٹیرف کی جنگ اور بجٹ خسارہ شامل ہیں۔
تاہم اپنے ایکس اکائونٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہاکہ مسقط مذاکرات شفافیت اور توازن (تمام پابندیوں کو ہٹانے(اور قانون کی حکمرانی)بین الاقوامی قانون کے فریم ورک کے اندر افزودگی) کی بنیاد پر ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ کامیابی کے موقع کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق عراقچی امریکی حکام کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے لیے ایک خصوصی سفارتی اور تکنیکی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔



