سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں میاں اظہر کے ساتھ دیرینہ تعلق کی ان گنت یادیں ہیں۔ باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے۔ سچے اور کھرے انسان تھے۔ ٹھیٹھ پنجابی بولتے تھے اور ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ ان کی کھری باتیں اکثر لوگوں کو کڑوی لگتی تھیں۔ ان کے سامنے چاہے جو بھی ہو وہ سچی بات کر گزرتے تھے۔ میں نے ساری زندگی ان کو کبھی کسی کی چاپلوسی کرتے نہیں دیکھا۔ جس کی جو خوبی ہوتی تھی وہ بھی منہ پر کرتے تھے۔ جو خامی ہوتی تھی وہ بھی منہ پر کردیتے تھے۔ انھیں فی زمانہ سیاست کے تقاضے بھی نہیں آتے تھے۔ ٹو دی پوائنٹ بات کرتے تھے۔ وہ نئے نئے گورنر بنے تو میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے۔ پروٹوکول کے مطابق وہ انھیں ائیر پورٹ پر سی آف کرکے آئے۔ میاں نواز شریف کوئی تین چار بجے پھر واپس لاہور آگئے۔ میاں اظہر انھیں لینے گئے اور کہا میں تینوں ہنے چھڈ کے گیا ساں توں فیر آ گیا ایں (میں تمھیں ابھی چھوڑ کر گیا تھا، تم پھر آگئے ہو!)۔
میاں اظہر کے آؤٹ سپوکن ہونے کی عادت سے بہت سارے اہم لوگ تنگ تھے۔ میاں شہباز شریف سے ان کی بڑی یاری تھی۔ ایک دوسرے کو مذاق بھی کرتے تھے۔ بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ عام آدمی کی طرح سادہ زندگی گزارتے تھے۔ خاص لوگوں کی بجائے عام لوگوں میں رہنا پسند کرتے تھے۔ سنت نگر میں ان کا ڈیرہ تھا جو پورے شہر میں ’اجو دا ڈیرہ‘ کے نام سے مشہور تھا۔ انھوں نے تھڑے کی سیاست سے آغاز کیا۔ کونسلر بنے، لارڈ میئر لاہور رہے، پھر گورنر بنے۔ کئی بار ایم این اے منتخب ہوئے۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ رہے۔ وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے۔ ان کے خلاف سازش ہوئی اور وہ سازشی سیاستدانوں کی چالوں کا شکار ہوگئے۔ جن لوگوں کو انھوں نے مقدمات سے بچایا، انھوں نے ہی انھیں ڈنک مارا۔ وہ بہت سادہ تھے۔ ہر کسی کے آگے دل کھول کر رکھ دیتے تھے جبکہ پاکستان کی سیاست کے تقاضے مختلف ہیں۔
شریف فیملی کے تو وہ محسن تھے۔ جب وہ لاہور کے لارڈ میئر تھے تو انھوں نے تجاوزات کے خلاف تاریخ ساز مہم شروع کی۔ ایسی بے رحم مہم نہ پہلے کبھی کسی نے دیکھی نہ بعد میں۔ انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم جن کی جماعت کے وہ مئیر تھے بیڈن روڈ پر ان کے ماموں کی تجاوزات گرا دیں۔ انھوں نے 1947ء کے نقشے نکلوائے اور لاہور کے گاؤں میں بھی قائم ہونے والی تجاوزات ختم کروا دیں۔
جب گورنر بنے تو امن وامان کا بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ بدمعاشی سر اٹھا رہی تھی۔ کلاشنکوف کلچر عروج پر تھا۔ انھوں نے اپنا پہلا دورہ واہنڈو کا رکھا جہاں ان دنوں قتل وغارت گری ہو رہی تھی۔ انھوں نے جرائم میں ملوث اراکین قومی وصوبائی اسمبلی بااثر افراد اور افسروں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا تو ہا ہا کار مچ گئی۔ اسے وزیر اعلیٰ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا گیا۔ جس پر میاں اظہر کو روک دیا گیا۔
ایک بار وزیراعظم میاں نواز شریف میوہسپتال کے دورہ پر تھے۔ گورنر پنجاب میاں اظہر بھی ساتھ تھے۔ میں وزیراعظم اور گورنر کا بِیٹ رپورٹر تھا۔ میں بھی ساتھ ہی تھا۔ ہم گورا وارڈ کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، میاں نواز شریف نے میاں اظہر کے کان میں بہت اہم راز کی بات کہی۔ میں دونوں کے درمیان میں تھا۔ انھیں جب احساس ہوا تو میرا ایک بازو وزیراعظم میاں نواز شریف نے پکڑ لیا اور دوسرا بازو گورنر میاں اظہر نے پکڑ لیا اور کہا کہ یہ بات چھاپنے والی نہیں۔ پی ٹی وی کے کیمرہ مین اقتدار شاہ جی نے وہ سین فلما لیا۔ اس وقت صرف پی ٹی وی ہوتا تھا۔ وہ خبرنامے میں چل گیا۔ پورے پاکستان سے مجھے فون آئے کہ کیا بات تھی۔ میں نے کہا، وہ بات بتانے والی نہیں۔
جس روز بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی، سلمان غنی اور میں میاں اظہر کے ساتھ مال روڈ پر ایک ہوٹل میں بیٹھے تھے۔ میاں صاحب نے خبر سنتے ہی کہا، بہت برا ہوا۔ پاکستان کی سیاست کا بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ وہ اکثر فون پر سیاست اور حالات پر مجھ سے باتیں کرتے رہتے تھے۔ بظاہر تو ان کی وفات کینسر کی وجہ سے ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالات کے جبر نے انھیں جیتے جی مار دیا تھا۔ جب وہ قومی اسمبلی کا الیکشن جیتے تو میں انھیں مبارک باد دینے گیا۔ ان کے گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے، ٹیبلوں کے بھی شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ کہنے لگے، حبیب، میرے گھر 18 ریڈ ہو چکے ہیں۔ ہر دفعہ شیشے فرنیچر توڑ جاتے ہیں۔ اب میں نے کہا، اس کو ایسے ہی رہنے دیتے ہیں۔
حماد اظہر ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ قاف لیگ کے بعد سیاست سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے، لیکن انھوں نے حماد اظہر کی سیاست میں کمر نہیں لگنے دی۔ بیٹے کی غیر موجودگی میں اس کی سیاست پر پہرہ دیا۔ انھوں نے جوانوں کی طرح الیکشن لڑا۔ جب وہ دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے گئے اور وہاں پتھر لگنے سے زخمی ہو گئے تو میں نے انھیں کہا کہ میاں صاحب آپ بیمار ہیں اور ضعیف ہیں آپ ایسی سرگرمیوں میں نہ جایا کریں تو ان کا کہنا تھا میں تو اپنے حصے کا کام کر رہا ہوں۔ شاید آپ کے علم میں نہیں ہو گا ان کے پاس آج تک جتنے سرکاری عہدے رہے ہیں انھوں نے کبھی کسی عہدے کی تنخواہ اپنے پاس نہیں رکھی، وہ ساری تنخواہ غریبوں میں بانٹ دیتے تھے۔
میاں اظہر نے صرف سیاست اور انسانی خدمت میں ہی نام نہیں کمایا۔ وہ کاروبار میں بھی انتہائی بااصول اور ایماندار گردانے جاتے تھے۔ ان کا سٹیل کا کاروبار تھا۔ ان کے وزن کی گارنٹی ہوتی تھی اور لوگ آنکھیں بند کرکے سریا صرف انھی سے خریدتے تھے اور سریا خریدنے کے لیے مہینوں انتظار میں رہتے۔ ایک شخص کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جنھوں نے میاں اظہر سے کافی بڑی تعداد میں سریے کا سودا کیا لیکن سریے کا ریٹ ڈبل سے بھی بڑھ گیا، انھوں نے کروڑوں کا خسارہ برداشت کر لیا لیکن اپنے وعدے کی پاسداری کی۔



