قیامِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک فلاحی ریاست قائم کرنا تھا، جہاں عوام کو انصاف، روزگار، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ قائداعظمؒ نے اپنی تقاریر میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایک ماڈل اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ لیکن آج 77 سال بعد ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا سفر فلاحی ریاست سے ریئل اسٹیٹ کی ریاست تک پہنچ چکا ہے۔
1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو عوام کو یہ امید تھی کہ یہاں عدل پر مبنی نظام ہوگا۔ ریاست زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی کرے گی۔ لیاقت علی خان کے بجٹ کو ’’مفتیا کا بجٹ‘‘ کہا گیا کیونکہ اس میں فلاحی منصوبوں کی جھلک تھی۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں صنعتی ترقی، ڈیموں کی تعمیر اور زرعی اصلاحات پر توجہ دی گئی۔ غریب کو سہارا دینا ریاستی پالیسی کا حصہ تھا۔
1980 کی دہائی میں ضیاء الحق کے دور نے معیشت کو ایک نئی سمت دی۔ ہاؤسنگ اسکیمز، کوآپریٹو سوسائٹیز اور زمینوں کی الاٹمنٹ کا رجحان بڑھنے لگا۔ فلاحی اداروں کو بتدریج نجی شعبے کے حوالے کیا گیا۔ نجکاری کے دور میں سرکاری اداروں کی فروخت نے عوامی فلاح کے تصور کو مزید کمزور کیا اور زمین کو سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا گیا۔
2000 کی دہائی میں جب بڑے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹس سامنے آئے تو ریئل اسٹیٹ معیشت کا سب سے منافع بخش شعبہ بن گیا۔ دفاعی ہاؤسنگ اتھارٹیز، بحریہ ٹاؤن اور دیگر منصوبوں نے پلاٹ کلچر کو عام کیا۔ زرعی زمینیں کم ہوئیں، مکانات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر چلی گئیں، اور معیشت کا بڑا حصہ زمینوں کی خرید و فروخت میں لگ گیا۔
یہ وہ دور تھا جب فلاحی ریاست کا خواب دھندلا گیا اور ’’پلاٹ کی ریاست‘‘ ایک حقیقت بن گئی۔



