عالم برزخ سے صلاح الدین ایوبی نے پاکستانیوں کے نام دلچسپ خط لکھا ہے۔۔۔عوام کو روٹی،گھر،تحفظ ،انصاف،صحت،تعلیم چاہیے،کچھ اور نہیں۔۔۔۔جنگیں،حکمرانوں کا کھیل ہوتے ہیں،ان کی ضرورت ہوتی ہیں۔۔۔۔امیر تیمور نے کہا تھا انہیں دنیا میں سب سے زیادہ مزہ اس وقت آتا ہے جب کسی کی گردن پر تلوارچلتی ہے،اورجوخون کا فوارہ نکلتا ہے،اسے دیکھ کر نشہ ہوجاتا ہے۔۔۔ہائے۔۔۔۔ !! یہ ہیں حکمرانوں کے شوق،انسانیت کہاں۔۔۔۔؟حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا، اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے۔۔۔۔
بادشاہ ہوتا ہے یا غلام۔۔۔ تیسرا کوئی نہیں۔۔وہی سچ ہوتا ہے جوبادشاہ کہتا ہے،یہی حقیقت ہے،جو نہیں مانتا، وہ باغی،باغیوں کے ساتھ کیا سلوک کیے جاتے ہیں۔۔۔؟ سب جانتے۔۔۔اب بھی بادشاہت ہے،بس نام تبدیل ہوا ہے۔۔۔’’جمہوریت‘‘ ۔۔۔ ’’ واردات‘‘ کا نیا طریقہ رائج ہوا،اب ایک نہیں،زیادہ بادشاہ ہوتے ہیں،جو باری باری آتے ہیں،اپنا اپنا حصہ بٹورنے،اپنی اپنی واردات ڈالنے۔۔۔
جب ایک ہوتا تھا،بغاوت کا خطرہ رہتا تھا،پھر تقسیم کا عمل شروع ہوا،دوسروں کو موقع دیا جانے لگا،تجربہ کافی کامیاب رہا۔۔۔جمہوریت ایک فراڈ ہے،دھوکہ ہے، جمہوریت کا مطلب تو عوام کی حکومت ۔۔۔کیا پاکستان سمیت دنیا میں عوام کی حکومتیں ہیں۔۔۔ ؟۔۔۔ہر ’’بادشاہ‘‘ خوف بیچتا ہے،عوا م کو ڈراتا ہے،یہ یقین دلاتا ہے، اگر وہ نہ ہوا تو دشمن تمہیں کاٹ کر رکھ دے گا،تمہاری سرزمین پر قبضہ کرلے گا۔۔۔دنیا میں صرف خوف ہی بکتا ہے۔۔۔
مولوی،چاہیے کسی بھی مذہب کے ہوں،دوزخ سے ڈرا کر اپنی حاکمیت چلا رہے،حکمران پہلے دشمن پیدا کرینگے اور پھر ان سے عوام کو ڈرائیں گے۔۔۔ستمبر1999 میں پیوٹن نے اپنے شہریوں کے گھروں میں بم دھماکے کرا دیئے تھے،چیچن مجاہدین کانام لیا،عوام کو خوف دلایا،پھر چیچنیا کیخلاف جنگ شروع کردی، پیوٹن اسی حکمت عملی کے تحت آج تک اقتدار میں ہیں۔
27فروری1993 کو ہٹلر نے پارلیمنٹ میں خود آگ لگوا دی تھی،مخالف پارٹی کو نیست ونابود کرنے کیلئے۔۔۔۔یکم دسمبر1934 کو اسٹالن نےاپنے رکن سرگئی کیروف کو قتل کروادیا،پھر اسی قتل کی آڑ میں مخالف پارٹی کی پوری قیادت مارڈالی،پوری آمریت نافذ کرے سیاہ وسفید کا مالک بن گیا۔۔۔مسولینی نے1924 میں کیا،کیا تھا،تاریخ گواہ ہے۔۔۔
مودی نے گجرات ،پلوامہ ،پہلگام میں کیا کچھ کیا۔۔۔؟ نائن الیون بھی فالس فلیگ آپریشن ہی تھا ۔۔۔پاکستان کی تاریخ میں ایسا بہت کچھ ہوا،لیکن ہم ’’مطالعہ پاکستان‘‘ پڑھنے والے عوام۔۔۔۔لیکن،تاریخ خودلکھی جاتی ہے،دنیا میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس کی اصلیت سامنے نہ آئی ہو۔۔۔موت سے پہلے ہر بندے کے کرتوت سامنے آجاتے ہیں۔۔۔ یہ میرے رب کا قانون ہے۔۔۔پاک،بھارت جنگ میں کون جیتا،کون ہارا۔۔۔؟جنگوں میں جیت کس کی ہوتی ہے،ہارکس کی ہوتی ہے۔۔۔؟ ہارتے عوام ہیں،جیتتے حکمران ہیں۔۔۔کوئی بھی ملک ہو،کوئی بھی قوم ہو۔۔۔
مہاتما گاندھی نے یہی تو کہا تھا،جس دن جنگوں میں بڑے لوگوں(حکمرانوں،جرنیلوں) کے بچے مرنے لگیں گے ،جنگیں ختم ہوجائیں گی۔۔۔۔بھارت میں پاکستان کی آبادی سے زیادہ ایسے افراد ہیں جو غربت کی آخری سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں،غربت کا اندازہ اس سکیم سے لگایا جاسکتا ہے،مودی نے 80کروڑ غریب عوام کیلئے مفت راشن پیکج کا اعلا ن کیا تھا، رہا پاکستان،قرضوں سے کام چل رہا،فوجیں سرحد پر کھڑی تھیں اورہم چین اور آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہے تھے۔۔۔
دونوں ملک اربوں ڈالر دفاع پر خرچ کررہے،کس بات کا ڈر ہے دونوں کو ایک دوسرے سے۔۔۔؟کیا بھارت،پاکستان میں کوئی ایک بھی عام شخص ایسا ہے جو لڑائی چاہتاہے۔۔۔؟بندے دے پتر بنو۔۔۔!!۔۔۔یورپ کی مثال سب کے سامنے ہیں،وہ بھی آپس میں لڑتے رہے ہیں،انہیں عقل آگئی،اب دیکھیں،جنت جیسی زندگی گزار رہے ہیں،کئی ملک ایسے ہیں،جہاں پورے سال ایک مقدمہ تک درج نہیں ہوتا۔۔۔اور رہے ہم،عوام بھوک سے مررہے ہیں اور ہمیں شوق چڑھے ہیں جنگ کرنے کے۔۔۔ترقی امن سے ہوتی ہے،جنگوں سے صرف غربت،تشدد،جرائم جنم لیتے ہیں،جب سوویت یونین کے ٹکڑے ہوئے،روسی لڑکیاں جسم فروشی پر مجبور ہوگئی تھیں۔۔۔اوررہا صلاح الدین ایوبی کا عالم برزخ سے خط۔۔۔۔پیارے پاکستانیو !! میں نے جنگیں لڑی ہیں،جنگوں پر کتابیں نہیں لکھیں، کیوں میرے نام پر جھوٹ بول رہے ہو،جنگوں،سپہ سالاروں سے متعلق تمام من گھڑت قول میرے نام سے منسوب کررہے ہو۔۔۔ پاک،بھارت جنگ میں کون جیتا،کون ہارا۔۔۔؟۔۔۔ازل سے اب تک، ہارتے عوام ہی رہے ہیں،جیتتے حکمران ہی رہے ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



