بورڈ آف پِیس،امن کی دعوت یا طاقت کا کھیل؟
مشرقِ وسطیٰ میں نصف صدی سے زائد جاری خونریزی، سیاسی کشمکش اور انسانی المیوں کے درمیان عالمی سطح پر امن کے قیام کی ہر کوشش پر شک و شبہات حاوی ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ہر موقع کو محض شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے امید کے ایک چھوٹے سے امکان کے طور پر بھی پرکھنا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں قائم کئے گئے مجوزہ”بورڈ آف پیس“ کوبھی اسی زاویے سے پیش کیا گیااور پاکستان اب اس فورم میں باضابطہ طور پر شامل ہو چکا ہے۔
پاکستان کی یہ شمولیت بظاہر ایک ذمہ دار، امن دوست اور عالمی سطح پر قابلِ فہم اقدام لگتی ہے۔ ایک ایسی ریاست کے طور پر جو طویل عرصے سے علاقائی و عالمی امن کے لیے کردار ادا کرتی رہی، پاکستان کی موجودگی اس فورم کو اخلاقی وزن فراہم کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت ہو یا حساس علاقائی تنازعات میں متوازن سفارت کاری، پاکستان کا کردار عالمی سطح پر تسلیم شدہ رہا ہے۔
اسلام سمیت تمام مذاہب انسانی جان کے احترام، عدل اور امن کا درس دیتے ہیں اور یہی اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فکری بنیاد بھی رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی”بورڈ آف پیس“میں شمولیت کو اصولی طور پر درست قرار دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ فورم واقعی امن کے قیام، خونریزی کے خاتمے اور انصاف پر مبنی سیاسی حل کے لیے سنجیدہ ہو۔تاہم، اصل سوال شمولیت کا نہیں بلکہ اختیار کا ہے۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دنیا کی طاقتور ریاستیں اکثر ترقی پذیر ممالک کو ایسے عالمی فورمز میں رضاکارانہ شمولیت سے زیادہ، عملی دباؤ کے تحت شامل ہونے پر مجبور کرتی ہیں۔”بورڈ آف پیس“ میں شمولیت کے بعد یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان کے پاس انکار یا مکمل آزاد فیصلے کا حقیقی اختیار موجود تھا؟ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام اور سفارتی مجبوریوں کے بوجھ تلے ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی عالمی دعوت کو محض معمول کی پیشکش سمجھنا حقیقت کے منافی ہوگا۔ جب عالمی مالیاتی ادارے، بڑی طاقتیں اور اسٹریٹجک اتحاد ایک ہی سمت میں دباؤ ڈال رہے ہوں تو ترقی پذیر ممالک کے فیصلے اکثر آزادانہ انتخاب کے بجائے مجبوری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ بھی اہم سوال ہے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں قائم کیا گیا یہ”بورڈ آف پیس“واقعی امن کے لیے تشکیل دیا گیا ہے یا خطے میں طاقت کے توازن کو ایک مخصوص سمت میں موڑنے کی ایک اور کوشش ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر امن، استحکام اور تعاون کے خوشنما نعروں کے پیچھے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتی رہی ہیں۔ایسے میں پاکستان کے لیے بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ وہ اس بورڈ میں شامل ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حیثیت اور کس حدود کے ساتھ شامل ہوا۔ کیا یہ ایک خودمختار، باوقار اور اصولی ریاست کے طور پر شامل ہوا، یا ایک دباؤ زدہ ریاست کے طور پر؟
ترقی پذیر ممالک کے سامنے عام طور پر تین راستے ہوتے ہیں،مکمل انکار، مشروط شمولیت یا خاموش قبولیت۔ پاکستان کی مشروط شمولیت ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ شرائط عملی سفارت کاری میں بھی نظر آتی ہیں یا محض بیانیے تک محدود رہتی ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس فورم پر اس کی موجودگی محض رسمی نہ ہو، بلکہ واضح اصولوں، دوٹوک مؤقف اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ہو۔ خارجہ پالیسی وقتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ طویل المدتی قومی مفاد، داخلی استحکام، معاشی خودمختاری اور اصولی وابستگی کی بنیاد پر تشکیل دی جانی چاہیے۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان”بورڈ آف پیس“کا حصہ بن چکا ہے،یہ فیصلہ تو ہو چکا۔
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کس قیمت پر اور کس حد تک اس بندوبست کا حصہ بنا۔کیا یہ فورم واقعی نصف صدی سے جاری خونریزی ختم کرنے کا سنجیدہ پلیٹ فارم ہوگا، یا ایک اور عالمی انتظام جہاں طاقتور فیصلے کریں اور کمزور قومیں بھگتیں؟اور اگر یہ شمولیت کل کسی نئے سفارتی بحران، علاقائی تنازع یا قومی مفاد کے ٹکراؤ کا سبب بنی، تو اس کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
یہ سوالات صرف ریاست کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہیں، کیونکہ تاریخ میں فیصلے درج ہوتے ہیں، مگر ان کی قیمت عوام روزمرہ زندگی میں ادا کرتے ہیں۔



