اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں اورہنس کی کہانی؟

بچپن میں سنی گئی کچھ کہانیاں صرف تفریح کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ وہ قوموں اور ریاستوں کی تقدیر کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ایک ہنس اور ایک غریب خاندان کی ہے جس کے اندر اتحاد، نظم و ضبط اور اجتماعی طاقت کا گہرا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
کہانی ایک غریب خاندان سے شروع ہوتی ہے جس میں میاں، بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل تھے۔ غربت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنی بستی چھوڑ کر قسمت کی تلاش میں نکلیں۔ کئی دنوں کے سفر کے بعد وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچے اور ایک بڑے درخت کے نیچے قیام کیا۔
خاندان کے سربراہ نے فوراً ذمہ داریاں تقسیم کر دیں۔ بڑے بیٹے کو پانی لانے کا حکم دیا، چھوٹے بیٹے کو لکڑیاں جمع کرنے کا، بیٹی کو چولہا بنانے کا اور ماں کو کھانا تیار کرنے کی ذمہ داری دی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سب نے بغیر کسی بحث کے اپنے باپ کے حکم پر فوراً عمل شروع کر دیا۔
اسی درخت پر ایک ہنس بیٹھا ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھاجب کھانا پکانے کی تیاری مکمل ہو گئی تو ہنس نے پوچھا:“تم کیا پکاؤ گے؟”
پورا خاندان ایک آواز میں بولا:“ہم تمہیں پکائیں گے۔”یہ جواب سن کر ہنس چونک گیا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ اس خاندان کی اصل طاقت ان کے پاس موجود وسائل نہیں بلکہ ان کا اتحاد ہے۔ خوف کے عالم میں اس نے راز بتا دیا کہ اسی درخت کے نیچے سات بادشاہوں کا خزانہ دفن ہے۔
خاندان نے زمین کھودی اور خزانہ نکال لیا۔ ان کی قسمت بدل گئی، غربت خوشحالی میں بدل گئی اور وہ اپنی بستی میں ایک نئی زندگی کے ساتھ واپس لوٹے۔
جب دوسرے لوگوں نے ان کی اچانک خوشحالی دیکھی تو وہ بھی اسی جنگل میں گئے۔ انہوں نے بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر وہی عمل دہرانے کی کوشش کی۔ مگر اس خاندان میں اتحاد نہیں تھا۔ بیٹے حکم ماننے سے انکار کرتے رہے، بیوی اور بیٹی نے بھی بہانے بنائے۔
اوپر درخت پر بیٹھا ہنس یہ سب دیکھتا رہا۔
جب اس نے پوچھا کہ تم کیا پکاؤ گے تو انہوں نے بھی کہا:“ہم تمہیں پکائیں گے۔”ہنس ہنس پڑا اور بولا:“وہ لوگ کوئی اور تھے۔ ان کے اتحاد نے مجھے مجبور کر دیا تھا کہ میں انہیں خزانے تک لے جاؤں۔ تمہاری بے اتفاقی دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ اگر تم یہاں مزید ٹھہرے تو میں تمہیں خود کھا جاؤں گا۔”
یہ کہانی دراصل صرف ایک قصہ نہیں بلکہ طاقت اور سیاست کی ایک علامت ہے۔ ہنس اس طاقت کی علامت ہے جو دنیا کے وسائل، خزانوں اور مواقع پر پہرا دیتی ہے۔ دنیا میں کامیابی انہی قوموں کو ملتی ہے جو ایک خاندان کی طرح متحد ہو کر فیصلے کرتی ہیں۔
اگر ہم آج کے عالمی حالات کو دیکھیں تو یہی کہانی ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ، اسرائیل اور لبنان کے تنازعات اور بڑی طاقتوں کی سیاسی چالیں دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لے آئی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان آج عالمی سفارت کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے فضا پیدا کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کو نمایاں کر رہی ہیں۔
دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اس کے اداروں کے باہمی اعتماد اور اتحاد میں ہوتی ہے۔ جب سیاسی قیادت اور عسکری ادارے ایک صفحے پر کھڑے ہوں تو ریاست کا موقف مضبوط ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ عرصے میں قومی مفاد کے بڑے معاملات میں سیاسی اور عسکری قیادت کا مشترکہ مؤقف اسی اتحاد کی ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور پاکستان و بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ قومی اتحاد کس طرح ایک ملک کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک آواز کے ساتھ قومی مفاد کے دفاع کے لیے کھڑی نظر آئی۔ اسی اتحاد نے نہ صرف پاکستان کے دفاعی عزم کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک نئی تصویر بھی پیش کی۔
آج پاکستان کا کردار صرف ایک علاقائی ریاست تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سفارت کاری کے اہم مراکز میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی امن کوششیں، سفارتی ملاقاتیں اور مذاکراتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی سیاست کے کئی دروازے اب پاکستان کے ذریعے کھل رہے ہیں۔
یہ سب اسی اصول کی توسیع ہے جو اس چھوٹی سی کہانی میں چھپا تھا۔ جب ایک خاندان متحد ہو جائے تو خزانے کے راز خود بخود سامنے آنے لگتے ہیں۔ ہنس اور خزانے کی کہانی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ اتحاد، نظم اور مشترکہ مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔
اگر کوئی قوم ایک خاندان کی طرح متحد ہو جائے تو دنیا کے بڑے بڑے راز اور مواقع اس کے سامنے کھلنے لگتے ہیں، اور تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مقصد کے لیے کھڑی ہو جائیں۔



