اسرائیلی بمباری، مزید 31شہید:عرب وزرائے خارجہ کا دورہ فلسطین ملتوی
امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر جمع فلسطینیوںکو نشانہ بنایا گیا،9بچوں کوکھونے والی لیڈی ڈاکٹر کے شوہر بھی شہید
مقبوضہ بیت المقدس،ریاض (ویب ڈیسک)اسرائیل نے غزہ میں دہشتگردی جاری رکھتے ہوئے امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر جمع فلسطینیوں پر بمباری کرکے مزید 31 فلسطینی شہید اور 120زخمی کر دیئے ہیں۔اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے والے ڈاکٹر حمدی النجار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔
حوثیوںکا سرمایہ کاروںکو اسرائیل چھوڑنے،میزائل حملوںکا الٹی میٹم: رملہ جانے سے روکنے پر اسرائیلی انتہا پسندی ثابت،سعودیہ
ڈاکٹر النجار کئی دنوں تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج رہے، اس بمباری میں ان کے 9 بچے بھی شہید ہوئے تھے اور 11 سالہ بیٹا اس حملے کا واحد زندہ بچ جانے والا فرد ہے۔ان کی اہلیہ ڈاکٹرعلا النجار ماہر اطفال ہیں، وہ حملے سے چند گھنٹے قبل کام پر جانے کے لیے گھر سے نکلی تھیں۔ادھر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ سے تباہ حال شہر غزہ میں آٹے کی قیمت 20 ڈالر (تقریبا 5 ہزار 500 روپے) فی کلو تک پہنچ گئی، اسرائیلی محاصرے نے خاندانوں کو خوراک کی تلاش پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب یمن کی فوج نے اسرائیل میں کام کرنے والے غیرملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو اسرائیل چھوڑنے کیلئے الٹی میٹم دے دیا۔
یمنی فوج کا کہنا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، اسے ضائع نہ کریں، ہمارے میزائل مختلف وارہیڈز لے جاسکتے ہیں اور اگر ان میزائلوں کو روکا تو یہ مزید ٹارگٹس کو ہٹ کریں گے۔دریں اثنا عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے رکاوٹ ڈالے جانے کی مشترکہ مذمت کرتے ہوئے اپنا دورہ فلسطین ملتوی کر دیا ہے۔
عرب وزرائے خارجہ کا فلسطینی اتھارٹی کے صدر دفتر رملہ کا دورہ شیڈول تھا تاہم اسرائیل نے مصر، اردن، سعودی عرب اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ کو روک دیا کہ فلسطینی انتظامی دارالحکومت رملہ میں ہونے والے مجوزہ اجلاس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس ایک بین الاقوامی کانفرنس سے قبل منعقد ہونا تھا، جس کی مشترکہ میزبانی فرانس اور سعودی عرب کریں گے، یہ کانفرنس 17 سے 20 جون تک نیویارک میں منعقد ہونے والی ہے، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے مسئلے پر بات چیت کی جائے گی۔ ا
دھر سعودی عرب کے وزیر خارجہ، شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، غزہ کی پٹی پر جاری جنگ اور محاصرے کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ رملہ کے دورے کی اجازت نہ دینے سے اسرائیل کی انتہاپسندی ثابت ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ عرب وزرا کو مقبوضہ مغربی کنارے میں جانے سے روکنا اسرائیلی حکومت کا امن کے منافی اقدام ہے۔
اس اقدام سے اسرائیلی تکبر کے خلاف ہماری سفارتی کوششوں کو دگنا کرنے کے عزم کو تقویت ملی۔ادھر وفد کو روکنے کے بعد اسرائیل کو اقوام متحدہ اور یورپی ممالک کی جانب سے شدید دبائوکا سامنا ہے جوکہ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں، جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست بھی موجود ہو گی۔



