انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ایران کا منہ توڑ جواب جاری : متعدد یہودی ہلاک و زخمی: اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر، 10طیارے تباہ

اسرائیلی جارحیت میں 2جنرلوں، 3جوہری سائنسدانوں سمیت مزید 65شہری شہید: تہران کو جلا کر بھسم کر دینگے، صیہونی وزیردفاع کی بڑھک: آغاز اسرائیل نے کیا، اختتام ہم لکھیں گے، آیت اللہ خامنہ ای

تہران ( ویب ڈیسک) ایران کی اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی اور بیلسٹک میزائلوں کی بارش جاری ہے۔ اسرائیل میں اب تک 8 یہودی ہلاک اور100سے زائدزخمی ہوئے ہیں، اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹرز سمیت متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ ایران نے ایک گھنٹے میں اسرائیل کے 10فوجی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کے بعد اسرائیل نے فوج کو کارروائی کے لیے فری ہینڈ دے دیا۔ فری ہینڈ ملنے کے بعد تازہ اسرائیلی حملے میں ایران کے مزید 2جنرل، 3جوہری سائنسدانوں اور 20بچوں سمیت 65ایرانی شہری شہید ہوگئے۔
اسرائیل نے مزید کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مزید شدت اختیار کرلی ہے، ایران نے اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ کیا ہے، تازہ حملے میں درجنوں میزائل داغے گئے، ایران کی جانب سی اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں میزائلوں کی بارش کی گئی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی آوازیں تل ابیب، یروشلم اور گش دان میں سنی گئیں، تل ابیب میں اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سیکڑوں اپارٹمنٹس کو بھی نقصان پہنچا اور بجلی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے حیفہ اورتامرا بستی میں بھی ایرانی میزائل گرنے کی تصدیق کی ہے۔ شمالی اسرائیل میں ایرانی حملوں میں 5اسرائیلی زخمی ہوگئے۔ میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی شہری بنکرز میں چھپ گئے، ہر طرف ایمرجنسی کے مناظر نظر آرہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 3میں اسرائیل میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حملوں میں تقریباً دو ہزار میزائل اسرائیل کی جانب داغے جائیں گے اور خبردار کیا کہ ہمارے میزائل حملے سابقہ حملوں کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ شدید ہوں گے، ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ جب تک ضرورت محسوس ہوگی۔
اسرائیل کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اب اسرائیل کو بھاگنے نہیں دیں گے، آغاز اسرائیل نے کیا، اختتام ہم لکھیں گے۔ ایران کے اسرائیل کے خلاف تازہ حملے کے بعد مقبوضہ گولان، گلیلی، حیفہ اور تبریسی میں سائرن بجنا شروع ہوگئے، ایرانی فوج نے شمال مغربی سلماز بارڈر پر اسرائیلی ڈرون مار گرائے، ایرانی فوج نے کئی اسرائیلی ڈرونز کو پیچھے دھکیل دیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے علاقے شیفیلہ میں ایرانی میزائل حملے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد ڈرون مار گرائے، ایران سے ڈرون حملے کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجے۔ ادھر ایرانی میڈیا نے مزید دو فوجی کمانڈرز کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل کے حملوں میں ملٹری آپریشنز کے ڈپٹی چیف جنرل مہدی ربانی شہید ہوئے، اس کے علاوہ جنرل سٹاف کے ہیڈ آف انٹیلیجنس جنرل غلام رضا محرابی بھی شہید ہوگئے۔
جبکہ اسرائیلی فوج نے مغربی ایران میں زیر زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج نے بتایا کہ مغربی ایران کے خرم آباد میں زیر زمین تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل موجود تھے۔
جنرل ایفی ڈیفرین نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے درجنوں دیگر مقامات کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان میں 4اہداف پر حملے کئے، دوسری جانب ڈپٹی گورنر لورستان نے کہا ہے کہ ایرانی شہر خرم آباد میں 4اسرائیلی ڈرون اور متعدد مائیکرو ایئر کرافٹ تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران اسرائیل پر ایک اور بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
تہران نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اگلے مرحلے میں اسرائیل پر 2ہزار میزائل داغے جائیں گے۔ علاوہ ازیں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس اسرائیل کو تہران کے جوابی حملوں کو روکنے میں مدد فراہم کرتے رہے تو وہ خطے میں موجود ان ممالک کے فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے ہمارے شہروں پر فضائی حملے نہ روکے تو ہم تہران کو جلا کر بھسم کر دیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یایو نے بھی کہا ہے کہ آیت اللہ کی حکومت ہر جگہ نشانہ ہو گی اور ایران پر حملے جاری رکھے جائیں گے۔ مزید برآں ایرانی سکیورٹی فورسز نے شہر یزد میں کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سے روابط کی الزام میں5افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ افراد حساس تنصیبات کی تصاویر اسرائیلی خفیہ اداروں کو بھیج رہے تھے۔ ادھر برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ علاقائی سکیورٹی میں تعاون کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں سمیت جنگی سازو سامان مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
غیرملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گروپ آف سیون کے اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ لڑاکا طیاروں سمیت اضافی فوجی سازو سامان مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگی طیارے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا مقصد علاقائی سکیورٹی میں تعاون کرنا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button