پاکستانتازہ ترینکالم

بنگلہ دیشی بہاری کمیونٹی کی شہباز اور یونس سے امیدیں

ایازخان

نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد جنوبی ایشیا کی ریاستوں کو قوم پرستی کی بنیاد پر ایسی قومی شناختیں تشکیل دینے کی ضرورت پیش آئی جو لسانی اور نسلی شناختوں سے بالاتر ہوں۔ یہ شناختیں تاریخی بیانیوں کو دوبارہ ترتیب دے کر تشکیل دی گئیں، جنہوں نے شناخت کو مخصوص علاقوں سے جوڑا۔ ریاستی نظام نے شہریت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان لوگوں کو اس حق سے محروم کر دیا جو ان بیانیوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ اس عمل میں کئی گروہوں کو شہریت کے حقوق سے محروم کیا گیا، جن میں سری لنکن تامل، برمی ہندوستانی، اور بنگلہ دیش میں بہاری کمیونٹی نمایاں ہیں۔

بہاری کمیونٹی کا معاملہ بنگلہ دیش کے سماجی اور سیاسی منظرنامے پر ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ یہ کمیونٹی، جو 1947ء کی تقسیم کے بعد مشرقی پاکستان منتقل ہوئی اور پھر 1971ء کی جنگِ کے بعد بنگلہ دیش میں رہنے پر مجبور ہوئی، کئی دہائیوں سے شناخت کے بحران اور غربت کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے لیے زندگی کا ہر پہلو — تعلیم، روزگار، رہائش، یا سماجی شمولیت — کسی جدوجہد سے کم نہیں رہا۔

بہاری کمیونٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ تاریک پہلو 1971ء کی جنگِ کے دوران سامنے آیا، جب مشرقی پاکستان میں رہنے والے بہاریوں نے مغربی پاکستان کی حمایت کی۔ ان کے اس اقدام کو بنگالی قوم پرستوں نے "غداری” کے طور پر دیکھا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید امتیاز اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔
1971 کی پاک بھارت جنگ کے خاتمے کے بعد بہاریوں کو بنگلہ دیش کی اکثریتی بنگالی آبادی نے دشمن کے طور پر دیکھا، اور ان کے ساتھ سماجی، سیاسی اور اقتصادی سطح پر امتیازی سلوک کیا گیا۔

بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، بہاری کمیونٹی کو بنیادی سہولیات اور حقوق سے محروم رکھا گیا۔ انہیں اکثر "غدار” قرار دیا گیا اور قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دیا گیا۔ ان کے لیے تعلیم، روزگار، اور بنیادی شہری خدمات تک رسائی محدود تھی۔

پاکستانی حکومت نے بھی زیادہ تر بہاریوں کو قبول کرنے سے انکار کیا، جس کی وجہ سے یہ کمیونٹی 116 سے زائد کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی

2008ء میں بنگلہ دیشی عدالت نے بہاری کمیونٹی کو شہریت کے حقوق دیے اور انہیں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا، جو ایک اہم پیش رفت تھی۔ یہ فیصلہ ان کے قانونی حقوق کو تسلیم کرنے کی طرف پہلا قدم تھا اور اس نے بہاریوں کو ایک نئی امید دی۔ لیکن صرف کاغذی حقوق سے زندگی کی معیاری بہتری ممکن نہیں۔ ان کا سماجی اور معاشی انضمام آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ 116 سے زائد کیمپوں میں قید زندگی، جن میں جنیوا کیمپ سب سے بڑا ہے، ان کے روزمرہ کے مسائل کا گواہ ہے۔ تعلیم کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، اور روزگار کے محدود مواقع ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

بنگلہ دیش میں بڑی حکومتی تبدیلی ، جسے جنریشن زی کا انقلاب کہا گیا ہےکے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششیں سامنے آئیں۔ دونوں ممالک نے اعتماد سازی کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ بنگلہ دیش نے ویزا کے عمل کو آسان بنا دیا، جس سے عوامی رابطے کو فروغ ملا۔ ان بڑھتے ہوئے تعلقات سے نہ صرف خطے میں معاشی تعاون بڑھے گا بلکہ بہاری کمیونٹی کے مسائل پر بھی مشترکہ توجہ ممکن ہو سکتی ہے۔

بنگلہ دیش کے موجودہ وزیرِاعظم محمد یونس اس تبدیلی کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی شخصیت نہ صرف ایک نوبل انعام یافتہ سماجی رہنما کے طور پر جانی جاتی ہے بلکہ وہ معاشی انصاف اور سماجی ترقی کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک مثال ہیں۔ محمد یونس کا سماجی کاروبار اور مائیکروفنانس ماڈل بہاری کمیونٹی کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے وژن کے تحت بہاری نوجوانوں کو تعلیم، تربیت، اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو انہیں خود مختار بننے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیشی حکومت اور عالمی ادارے مل کر بہاری کمیونٹی کے رہائشی مسائل حل کر سکتے ہیں۔ جنیوا کیمپ اور دیگر پناہ گاہوں کو بہتر رہائشی علاقوں میں تبدیل کرنا اور بہاریوں کو سماجی دھارے میں شامل کرنا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے یونس جیسے وژنری رہنما کی قیادت کی ضرورت ہے۔ ان کے ذاتی عزم اور بین الاقوامی ساکھ کے ذریعے اس کمیونٹی کے لیے عالمی امداد اور وسائل کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان کو بھی اپنے تاریخی وعدوں کو یاد رکھتے ہوئے اس کمیونٹی کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک کے بہتر تعلقات سے ایک مشترکہ فریم ورک تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو نہ صرف بہاری کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنائے بلکہ انہیں تعلیم، روزگار، اور شناخت کے مواقع فراہم کرے۔

یہ وقت ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، تعلیمی، اور عوامی رابطوں کو فروغ دینا نہ صرف خطے میں استحکام لائے گا بلکہ بہاری کمیونٹی کی حالتِ زار کو بھی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ محمد یونس جیسے رہنما کی قیادت میں یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے، جہاں ہر فرد کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ بہاری کمیونٹی کی شمولیت اور ترقی نہ صرف بنگلہ دیش کی سماجی انصاف کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہو گی بلکہ یہ انسانی حقوق کے اصولوں پر عمل کرنے کی ایک زندہ مثال بھی بنے گی۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button