گزشتہ چند برسوں میں ویپنگ (Vaping) نوجوان نسل کے درمیان ایک عام رجحان کے طور پر ابھری ہے۔ جس تیزی سے یہ عادت اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ماحول میں پھیل رہی ہے، وہ تشویشناک ہے۔ ویپنگ کو بظاہر ایک جدید اور محفوظ طرزِ تمباکو نوشی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین صحت اور نفسیات کے مطابق یہ غلط فہمی نوجوانوں کو ایک نئی انحصاری عادت کی طرف لے جا رہی ہے۔
تمباکو نوشی کی تاریخ پانچ ہزار سال قبل از مسیح سے ملتی ہے، جب اسے مذہبی رسومات کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ سولہویں صدی میں سگریٹ نوشی یورپ میں عام ہوئی اور وقت کے ساتھ اس کے نقصانات سامنے آئے۔ ان نقصانات کے باعث تمباکو نوشی میں کمی آئی، لیکن اکیسویں صدی میں ای سگریٹ(E-Cigrattes) اور ویپنگ کے آلات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ چین میں 2003ء میں تیار کی جانے والی ای سگریٹ کو ابتدا میں روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل قرار دیا گیا، مگر جلد ہی یہ نوجوانوں میں فیشن اور رجحان کی علامت بن گئی۔
تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق ویپنگ میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ میں لاکھوں نوجوان ای سگریٹ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں بھی اس کے استعمال کی شرح میں اضافہ رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ سرکاری سطح پر درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم شہری علاقوں میں نوجوانوں کے مابین ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ویپنگ کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ’’پیئر پریشر‘‘ یعنی دوستوں یا ہم عمروں کا دباؤ ہے۔ کم عمری میں فرد اپنی شناخت اور سماجی تعلقات قائم کرنے کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر قریبی دوست یا گروہ ویپنگ کرتے ہوں تو نوجوان بھی اُن کی نقالی کرتے ہیں تاکہ قبولیت حاصل کر سکیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ویپنگ ایک ’’سماجی فیشن‘‘ سے نکل کر ’’نفسیاتی انحصار‘‘ میں بدل جاتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو نوجوانوں کا ’’ایموشنل کوپنگ‘‘ یعنی جذباتی دباؤ سے نمٹنے کا طریقہ ہے۔ جدید طرزِ زندگی نے نوجوانوں کو مسلسل دباؤ، غیر یقینی اور مقابلے کے ماحول میں دھکیل دیا ہے۔ جب کوئی مؤثر جذباتی مدد یا مشاورت دستیاب نہ ہو تو ویپنگ جیسے عارضی سکون دینے والے ذرائع کشش پیدا کرتے ہیں۔ نکوٹین دماغ کے ریوارڈ سسٹم کو متحرک کر کے وقتی تسکین دیتا ہے، لیکن یہ عمل جلد ہی جسمانی و ذہنی انحصار میں بدل جاتا ہے۔
سماجی طور پر ویپنگ نے ایک ’’قبول شدہ‘‘ مقام حاصل کر لیا ہے، خصوصاً آن لائن کمیونٹیز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہاں اسے ایک جدید طرزِ اظہار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی پہلو نوجوانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ وہ اس کے نقصانات کو معمولی سمجھتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ویپنگ کے مسئلے کو صرف صحت کے زاویے سے نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تناظر میں بھی سمجھا جائے۔ تعلیمی اداروں، والدین، اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں میں حقیقی آگاہی پیدا کریں۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ دباؤ سے نمٹنے کے لیے ویپنگ نہیں بلکہ مثبت جذباتی کوپنگ، مکالمہ، اور سپورٹ سسٹم ضروری ہیں۔
اگر معاشرہ نوجوانوں کو سنے، ان کے احساسات کو سمجھے اور انہیں بہتر راستے فراہم کرے، تو شاید یہ نئی لت اپنی جڑیں مضبوط نہ کر سکے۔ ورنہ یہ "دھوئیں کا بادل” آنے والے وقت میں ہمارے معاشرتی اور نفسیاتی افق کو مزید دھندلا سکتا ہے۔



