پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریں

حلقۂ ارباب ذوق کا اجلاس،دلشاد نسیم ،افتخارالحق ، شہباز حسین کا کلام تنقید کیلئے پیش

سید سلمان گیلانی، ہارون الرشید تبسم، ڈاکٹر رفیق خان اور محمد خان اشرف کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی قرارداد بھی پیش

لاہور:(شہزاد فراموش) حلقہ ارباب ذوق لاہور کے رواں سیشن کا 43 واں تنقیدی اجلاس اشرف جاوید کی صدارت میں ہوا۔ شہباز حسین اور افتخار الحق نے شاعری جبکہ دلشاد نسیم نے افسانہ تنقید کے لیے پیش کیا۔

halqa-arbabe-zauq-1

شہباز حسین کی نظم کا عنوان تھا ” فاصلہ ” جبکہ دلشاد نسیم نے "خاموشی” کے عنوان سے افسانہ پیش کیا. شرکاء نے تینوں فن پاروں پر سیر حاصل گفتگو کی۔صاحب صدارت کا کہنا تھا نظم میں دو افراد کے درمیان جذباتی تعلق کو واضح کیا گیا ہے ہمیں اس میں فیض یا راشد کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاعر کس طرح سوچتا ہے۔ شاعر نے جو کہا اس کی وضاحت اور ترسیل ہو رہی ہے اور یہی اس نظم کی کامیابی ہے۔

halqa-arbabe-zauq-1

دلشاد نسیم کے افسانے پر گفتگو کرتے ہوئے اشرف جاوید نے کہا افسانے کا عنوان ہی اس کی کلید ہے۔ جس معاشرے یا حالات سے ہم گزر رہے ہیں افسانے میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دو چیزیں افسانہ پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں ایک تحیر اور دوسرا تجسس۔ اس افسانے میں دونوں چیزوں کی کمی ہے۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے تو اردو افسانہ لکھتے ہوئے اردو ہی کے الفاظ استعمال کرنا بہتر ہے۔ اردو متبادل دستیاب نہ ہو تو پھر انگریزی الفاظ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

halqa-arbabe-zauq-3

افسانہ اپنے کانٹینٹ میں اچھا ہے۔ نثری نظم کے انداز میں لکھنا بھی درست ، یہ قابل اعتراض نہیں۔ افتخار الحق کی غزل پر صاحب صدارت نے کہا کہ توارد سے بچنا چاہیے۔ مطلع میں داغ کے مشہور مصرعے کی طرف دھیان جاتا ہے۔ یہ سہو بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس سے گریز کرنا چاہیے۔ جھگڑے کے ساتھ شاخسانہ کا جواز نہیں، برسنا اور گرنا بھی ایک ساتھ لانے کی ضرورت نہیں تھی،
غزل میں شتر گربہ کا عیب بھی موجود ہے۔ اس غزل میں بہت سے مقامات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سید سلمان گیلانی، ہارون الرشید تبسم، ڈاکٹر رفیق خان اور محمد خان اشرف کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی قرارداد بھی پیش کی گئی جبکہ اجلاس کے بعد اشرف جاوید نے اپنی شاعری سنائی۔ اجلاس میں پچاس سے زائد افراد نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button