
اسلام آباد / لاہور / کراچی / پشاور(ویب ڈیسک ) ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث کئی شہروں میں اربن فلڈنگ، بجلی کی بندش، ٹریفک کی روانی متاثر اور مختلف حادثات میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور ممکنہ سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
لاہور میں ریکارڈ بارش، شہر کے متعدد علاقے زیر آب
صوبائی دارالحکومت لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش نے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کر دی۔ متعدد نشیبی علاقوں، رہائشی آبادیوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، جبکہ کئی مقامات پر بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔
بارش کے باعث:
- متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں۔
- ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا۔
- کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں بند ہوگئیں۔
- لیسکو کے متعدد فیڈرز ٹرپ ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی گھنٹوں معطل رہی۔
لاہور میں کہاں کتنی بارش ریکارڈ ہوئی؟
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش:
- ایئرپورٹ: 262 ملی میٹر
- مناواں: 200 ملی میٹر
- تاج پورہ: 151 ملی میٹر
- کاہنہ: 142 ملی میٹر
- شادی پورہ: 129 ملی میٹر
- مغل پورہ: 127 ملی میٹر
- اپر مال: 111 ملی میٹر
بارش کے دوران حادثات، 3 افراد جاں بحق
لاہور میں سینٹر پارک سے قصور جانے والی سڑک پر بارش کے دوران موٹر سائیکل پھسلنے سے دو سگے بھائی جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت 18 سالہ حمزہ اور 16 سالہ حسن کے نام سے ہوئی۔
ادھر فیصل آباد کے علاقے کھڑیانوالہ میں بارش کے باعث بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے 30 سالہ مدثر جاں بحق ہوگیا، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی چھتیں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ، سیلاب کا خدشہ
این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے۔
شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، نشیبی علاقوں سے محتاط رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق:
- ہیڈ مرالہ، خانکی اور ہیڈ قادرآباد پر دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
- ہیڈ قادرآباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔
- دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ 73 ہزار 635 کیوسک ہے۔
بلوچستان کے سبی ڈویژن میں دریائے لہڑی کے ہیڈ گوگی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیوسک تک پہنچ گیا۔
سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے 5 افراد محفوظ ریسکیو
ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ میں دریائے چناب میں کشتی خراب ہونے کے باعث پھنس جانے والے تمام پانچ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
مون سون بارشوں سے اموات میں اضافہ
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق رواں مون سون سیزن میں:
- 21 افراد جاں بحق
- 154 افراد زخمی
- 38 مکانات جزوی متاثر
- 1 مویشی ہلاک
ہلاکتوں کی وجوہات میں آسمانی بجلی، عمارتیں گرنا، کرنٹ لگنا اور ڈوبنے کے واقعات شامل ہیں۔
ادھر خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور سیلابی حادثات کے باعث:
- 22 افراد جاں بحق
- 23 افراد زخمی
- 37 مکانات متاثر، جن میں 8 مکمل جبکہ 29 کو جزوی نقصان پہنچا۔
پروازیں بھی متاثر
لاہور میں شدید بارش کے باعث علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا۔ کراچی، دبئی، جدہ، ابوظہبی اور استنبول جانے اور آنے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔
پی ڈی ایم اے کا مؤقف
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عمر عباس میلہ کے مطابق بعض ندی نالوں میں طغیانی کے باوجود فی الحال صوبے میں کہیں بھی بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوئی، جبکہ جمعرات سے موجودہ مون سون اسپیل کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے۔



