جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی پر قبضے کی کوشش ،اساتذہ کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مخصوص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں:صدر فپواسا پنجاب ڈاکٹر محمد اسلام
لاہور :(بیوروچیف/سیدظہیر نقوری) فیڈریشن آف یونیورسٹیز پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (FUPASA) پنجاب چیپٹر کے صدر ڈاکٹر محمد اسلام نے گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کو 2013 میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے توسیع کے لیے الاٹ کی گئی 200 ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضے کی منظم کوششوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر محمد اسلام نے کہا کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مختص اس قیمتی تعلیمی اثاثے کو مختلف حیلوں بہانوں سے ہتھیانے کی کوشش نہ صرف افسوس ناک بلکہ قومی مفاد، تعلیمی ترقی اور آئینی اصولوں کے خلاف کھلی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ریکارڈ کا حصہ ہے کہ مذکورہ 200 ایکڑ اراضی باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کے نام منتقل ہو چکی ہے، اس پر بعض شعبہ جات کی توسیع اور مستقبل میں مزید تعلیمی و تحقیقی شعبہ جات کے قیام کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی موجود ہے۔ اس کے باوجود وائس چانسلر پر “اراضی کی عدم ضرورت” کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا صریحاً غیر قانونی، غیر آئینی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خودمختاری، وقار اور مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔
صدر فپواسا پنجاب نے وائس چانسلر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے اصولی، جرات مندانہ اور دیانت دارانہ مؤقف کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فپواسا پنجاب اس معاملے میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلوں کے مطابق سرکاری اراضی جس مقصد کے لیے الاٹ کی جائے، اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا آئینی و قانونی تقاضا ہے، اور خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مخصوص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔فپواسا پنجاب خواتین کی تعلیم پر یہ ڈاکہ کسی کو نہیں ڈالنے دے گی۔
ڈاکٹر محمد اسلام نے حکومتِ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور تمام متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا سخت نوٹس لیں، لینڈ مافیا اور بااثر عناصر کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کریں اور گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی 200 ایکڑ اراضی کے مکمل، مستقل اور قانونی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے اعتماد، بیٹیوں کے محفوظ مستقبل اور خواتین کی تعلیم و خودمختاری کی علامت ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ وقت آگیا گیا ھے کہ حکومت جامعات اور ان کے اساتذہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے ورنہ اساتذہ ملک گیر احتجاج کی کال دیں گے۔



