اٹل حقیقت ہے کہ جنگ کو اچھی چیز نہیں سمجھا جاتا یہ تباہی لاتی ہے، متاثرہ ممالک کو کئی سال پیچھے دھکیل دیتی ہے، عالمی دنیا میں تنہا کر سکتی ہے، افرادی قوت کی وجہءتخصیص بنتی ہے لیکن معرکہ حق نے تو جنگی حقائق کی تاریخ پلٹ دی ، یہ جنگ تھی یا عنایت رب کہ نعمتوں کے خزانے اللہ نے ہم پر کھول دیئے۔
جہاں پاکستانی قوم کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا وہیں بھارت نے دوران جنگ اور بعد از شکست باطل بیانات کی ایسی تیر اندازی شروع کی جس کی بوچھاراب تک جاری ہے اس معرکے کو باران رحمت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس نے پیاسی خشک زمین کو سیراب کر دیا، اٹھارہ ماہ سے فلسطین پر ہوتے مظالم دیکھ کر جو جمود وجودات پر طاری تھا اسے توڑ ڈالا، اتحاد جو لگتا تھااغیار کی سازشوں کے نرغےمیں پھنس کردم توڑ چکا ہے اس کوزندہ ہوتے دیکھا گیا،جذبہ حب الوطنی اور قوت ایمانی کا عملی مظاہرہ کرکے قوم نے ثابت کر دیا کہ سازشی گیجڈز ہمیں اپنے اصل مقام سے ہٹا نہیں سکتے۔
اپنی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکالنے میں ہم لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کریں گے۔ اس دن کوئی سندھی، بلوچی، پٹھان پنجابی اور مہاجر دکھائی نہ دیا بلکہ صرف پاکستانی نظر ائے۔ دیوبندی ،اہل حدیث اور بریلوی اپنے مسلک کا نہیں بلکہ مسلمان اسلام کا دفاع کرتے دکھائی دئیے۔ شجاعت و بہادری سے لبریز اسلامی تاریخ پڑھتے ہوئے جو جزبہ خون کو گرماتا ہے، وہی جذبہ ہرمسلمان پاکستانی نے مانند بحر بیکراں اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس کیا۔
فتح بنیان مرصوص نے جہاں پاکستانی عوام کوایک مٹھی بنایا وہیں پوری امت مسلمہ کو سر اٹھانے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرللکارنے کا موقع دیا۔ایسے ممالک جو پاکستان کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اب بانہیں کھول کر ہمارے منتظر ہیں، تجارت کے خواہاں ہیں ہمارے مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کا برملا اظہار کر رہے ہیں،ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کی قدرو قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے، خانہ کعبہ کی فضائوں میں گونجتے پاکستان زندہ باد کے نعرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مہارت و صلاحیت میں پاک افواج کا مد مقابل کوئی نہیں، غیر ملکی سفر پر جانے کیلئے دوران چیکنگ پاکستانیوں کو علیحدہ کرکے ہتک آمیز سلوک کرنے والے اب ہماری بہادری کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ہم پر کڑاوقت پڑا فتنوں نے سر اٹھایا مسلمانوں نے یکجان ہو کر اس کا قلع قمع کیا الحمدللہ یہ جذبہ اب بھی زندہ ہے۔
بھارت اپنی کم عقلی ،جہالت اور کینہ پروری کے باعث دھول چاٹ چکا ہے ،دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے، اس کے دفاعی طاقت، فوجی صلاحیت اور ظرف کی قلعی کھل چکی ہے، عالمی دنیا میں مودی سرکار نے بھارت کو بلیک لسٹ کروا دیا ہے، یہودو نصاری نے مسلمانوں با لخصوص پاکستان کو دست نگر بنانےاور مسائل میں الجھانے کی سازشوں میں جو برسوں میں کامیابی حاصل کی تھی اس پر چار گھنٹوں میں پاک فوج نے پانی پھیر دیا۔ ایک ہی جھٹکے میں مودی نے پاکستان کو دنیا میں وہ عزت دلا دی جسکی بحالی میں برسوں لگ جاتے۔
الحمد اللہ ہم خوش ہیں، خوشیاں مناناہمارا حق ہے مگر ان خوشیوں کے درمیان یہ فراموش نہیں کرنا کہ یہ فتح اللہ کا احسان ہے جلتے ہوئے انگاروں کے درمیان سے گزر کر ہمارے طیارے بحفاظت واپس آئے تو بے شک یہ انسانی امر نہیں اللہ کی خاص مدد تھی جس نے سرخرو کیا ،ورنہ ذرا سوچئے جلتے ہوئے فلسطین اور لہو لہو اجسام دیکھ کر بھی بے حس بنے رہنے پر اللہ ہماری پکڑ بھی تو کر سکتا تھا ،ان کے درد کا احساس دلانے کیلئے یہ درد ہمیں بھی تو دے سکتا تھا درحقیقت اللہ نے تباہی کے دہانے پر کھڑی امت مسلمہ کو ایک موقع دیا ہے خود کو گرنے سے بچانے اور اپنے بہن بھائیوں کو مصائب سے نکالنے کا خود کو خسارے سے بچانے اور غزہ کے لیے آواز اٹھانے کا ،سارا وقت یہ کمی شدت سے محسوس ہوئی کہ اپنی فتح کے نشے میں ہم ان کو بھول گئے ان کے لیے بات کرنا تو درکنار وہ احساس بھی معدوم ہوتا دکھائی دیا جو ان کو تڑپتا دیکھ کر دل میں ابھرتا تھا ہم محض فتح کا جشن منانے میں مگن ہیں،لیکن خوش ہونے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں،ناچ گا کر،ڈھول ڈھماکے بجا کر خوشیاں منانا ہمارا معیار نہیں ہوسکتا۔ میمزبنا کر جوابی کاروائی کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔
غرور و تکبر کے الفاظ منہ سے نکال کر اس فتح کو خود سے منسوب کرنا اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے۔خدارا سوچیئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اللہ نے ہمارا رتبہ بہت بلند رکھا ہے، ہم ان چھوٹے اور خلاف شریعت کاموں کا حوالہ نہیں بن سکتے، ہمیں رب نے خلیفہ بناکر بلند مرتبہ عطا کیا ہے ،سطحی لوگوں کی طرز پر جیت کا جشن منانا ہمارا خاصہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سیرت کو سامنے رکھیں کیا انہوں نے فتح کا جشن اسی طرح منایا تھا ؟کیا وہ ایک فتح کے بعد غافل ہو کر بیٹھ گئے تھے؟ کیا وہ خوشی میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا بھول گئے تھے؟ یقینا نہیں وہ ہر فتح رب سے منسوب کر کے سجدہ شکر بجا لاتے ،استقامت طلب کرتے، اگلے محاذ کیلئے تیار ملتے،انھوں نے ایک نصرت پر قناعت کر کے اس کی خوشی میں گم ہو کرکبھی اپنے مقصد کو فراموش نہیں کیا بلکہ اپنے سفر کو جاری رکھا، اسی طرح ہمیں بھی اپنا سفر جاری رکھنا ہے ہم وہی امت ہیں جس کیلئے اللہ نے سورہ آل عمران میں فرمایا”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘ ‘ ۔
یہ ہے ہمارا مقصد جس کیلئے اللہ تعالی نےہمیں پیدا کیا ہے ہم معمولی لوگ نہیں پیروکار اسلام ہیں اور اسلام غالب ہونے آیاہے، یہی وہ وقت ہے جب ہم بڑی بڑی طاقتوں سے فلسطین کے مسئلے پر بات کر سکتے ہیں،ظلم سے نجات کا مطالبہ منوا سکتے ہیں ، مگر افسوس صد افسوس کہ اللہ نے ہمیں بلند رتبہ عطا کیا عزت بخشی مگر ہمارے دیگر مسلم ممالک اپنے عزت و وقار پامال کر کے یہود و نصاری کے غلامیوں میں مصروف نظر آئے سید ابو الاعلی مودودی رحمت اللہ علیہ نے مغرب کی مرعوبیت ختم کرنے کیلئے بہت جدوجہد کی مگر یہ مرعوبیت کسی حد تک ختم تو ہوئی مگر اب لگتا ہے کہ شاید خون میں شامل ہو چکی ہے یہ وقت جب فلسطین کیلئے سب کچھ کیا جا سکتا تھا ،ان کو اس بھنور سے نکالا جا سکتا تھا،مصائب کا اختتام کیا جا سکتا تھا، سرمایہ کاری کیلئے فلسطین کی سلامتی کی شرائط رکھی جا سکتی تھیں مگر ایسا نہ ہو سکا یو اے ای، قطراور سعودی عرب نے بانہیں کھول کرڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال کیا۔
کوئی شک نہیں کہ مہمان نوازی ایمان کا حصہ ہے مگر مہمان کی کھوکھلی شان وشوکت سے متاثر ہوکر اتنا نہیں بڑھنا کہ اپنی اقدار، تہذیب و تمدن کو بھول بیٹھیں۔ یہی ان ممالک نے کیا یو اے ای 6۔1 ٹریلین ڈالر قطر2۔1 ٹرلین ڈالر اور سعودی عرب نے 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کی مد میں ٹرمپ جیسے خود غرض انسان کو بلا شرائط رقوم پیش کیں۔ قطر نے 400 ملین ڈالر کا طیارہ تحفہ متکبر شخص کی خدمت میں پیش کیا یہی سرمایہ اگر غزہ پر خرچ کیا جاتا تو آخرت میں کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا۔متحدہ عرب امارات نے تو حد کر دی اسلامی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر اپنی بے پردہ بال کھولے اور رقص کرتی خواتین کو تعصب پرست ٹرم کے سامنے پیش کر دیا اور وہ چہرے پر تکبر سجائے ماتھے پر بل ڈالے بے نیازی سے اس طرح ان کے درمیان سے گزرا جیسے اس کے سامنے اس سب کی کوئی اہمیت نہیں، اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی جانے کے بعد احسان فراموش ، بد دماغ اور خود غرض ٹرمپ نے سخت تنقیدی اور درحقیقت توہین آمیز بیانات کے ذریعے دن میں تارے دکھا دیئے۔
عزت نفس مجروح کرکے اس کے سامنے بچھ جانے والوں کو بہت بڑا سبق ملا جب اس نے کہا ” میں تو انکو غیرت مند سمجھتا تھا مگر انکی عورتیں تو میرے سامنے ناچنے لگیں‘ ‘ ۔اپنی عزت تار تار کرکے آخر کیا ملا تو خدارا اپنا مرتبہ پہچانیے ، یہ لوگ ہمارے سامنے کوئی اوقات نہیں رکھتے تاریخ بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام نہایت کسمپرسی کے عالم میں ہوتے ہوئے بھی بڑے سے بڑے باطل حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے سے نہ ہچکچاتے، نمرود ہو یا فرعون پیغمبر اسلام باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور حکم الہی کو مقدم رکھا ، کیونکہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال تھے۔یہی دولت اللہ نے ہمیں بخشی ہے اسے اپنی طاقت بنا کے ڈٹ جائیے۔
اللہ نے ہمیں بنیان مرصوص کہا تو مصمم یقین ہونا چاہیے کہ ہم ہیں۔پاکستان پر اب بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اللہ کے اس کرم کا شکرانہ یہی ہے کہ ہم غزہ کے مظلوموں کیلئے آہنی دیوار بن جائیں۔االلہ اتنی نافرمانیوں کے بعد بھی نصرت عطا کرسکتا ہے تو مغلوب کر کے سبق بھی سکھا سکتا ہے ہر کامیابی اللہ کا احسان ہے اس کواللہ سے منسوب کر کے حریف کو لمحہ فکریہ دیجیے کہ ایمان کی وہ لازوال طاقت ہمارے ساتھ ہے جس کا مقابلہ کرنا یہود و نصاری کے بس کی بات نہیں۔چھوٹا سا غریب پاکستان بھارت جیسی بڑی ریاست کے دانت کھٹے کر سکتا ہے تو 57 ممالک ہاتھوں کی زنجیر بنا کر دنیا فتح کیوں نہیں کر سکتے ؟معرکہ حق وہ روشنی ہے جس کے ذریعے اپنی راہ کا انتخاب کرکے دنیا فتح بھی کرنی ہے اور اس میں دین کا نفاذ بھی کرنا ہے۔ انشاءاللہ



