پاکستان کے بڑے شہروں میں زمین کی بڑھتی ہوئی قیمت اور ہاؤسنگ کی طلب نے گزشتہ چند دہائیوں میں ایک ایسا رجحان پیدا کیا جس نے نہ صرف شہری منصوبہ بندی کے بنیادی اصولوں کو متزلزل کیا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ۔گزشتہ چند برسوں میں لاہور کے نواحی علاقے خصوصاً دریائے راوی کے کنارے ایسے منصوبوں کا مرکز بنے جہاں ہزاروں کنال زمین پر ہاؤسنگ اسکیمیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان منصوبوں کے پیچھے محض نجی شعبے کے چند کاروباری لوگ نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے وہ عناصر بھی ملوث پائے گئے جو اس زمین کے محافظ ہونے کے بجائے اس کی غیر قانونی فروخت کے سہولت کار بن گئے۔
روڈا اور ایل ڈی اے کے درمیان ریکارڈ کی طلبی اور کارروائی کا آغاز اس پورے معاملے کے منظر عام پر آنے کی پہلی کڑی ہے مگر اس کہانی کے کئی پہلو ایسے ہیں جو برسوں کی غفلت اور کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں۔پاکستان میں ہاؤسنگ کے شعبے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ زمین ہمیشہ سے سرمایہ کاری کا سب سے محفوظ ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1980 کی دہائی سے لے کر آج تک بڑے شہروں کے اطراف زمین کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں آبادی کے دباؤ نے شہری حدود کو وسیع کیا اور اسی دوران غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں نے بھی جنم لیا۔ پنجاب حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں صوبے بھر میں 6,000 سے زائد ہاؤسنگ اسکیموں میں سےقریباً 1,500 ایسی پائی گئیں جو یا تو غیر قانونی تھیں یا قانونی تقاضے پوری طرح نہیں کر رہی تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد لاہور اور اس کے گرد و نواح کی تھی۔ یہ محض چند افسران کی لاپرواہی نہیں بلکہ ایک ایسا منظم رجحان ہے جو دہائیوں سے پنپتا رہا ہے۔دریائے راوی کے اطراف کی زمین کی نوعیت مختلف ہے۔ یہ علاقہ سیلابی خطہ کہلاتا ہے اور یہاں کے ماحولیاتی نظام کو بین الاقوامی ماہرین بھی حساس قرار دیتے ہیں۔
عالمی ادارہ ماحولیات (UNEP) نے 2018 کی ایک رپورٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ لاہور جیسے شہروں کے اطراف دریائی خطوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل میں شدید ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ برسوں میں ان علاقوں میں زمین کی الاٹمنٹ اور سکیموں کی منظوری ایسے دی گئی جیسے یہ محض کمرشل پلازہ کی تعمیر کا معاملہ ہو۔ نہ تو ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کو اہمیت دی گئی نہ زیر زمین پانی کے توازن پر تحقیق کی گئی اور نہ ہی دریائی بہاؤ کے قدرتی راستوں کو محفوظ رکھا گیا۔روڈا کا قیام ہی اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ دریائے راوی کے اطراف ترقیاتی منصوبوں کو ایک منظم حکمت عملی کے تحت لایا جائے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اس کے قیام کے بعد بھی غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق ان کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ روڈا اور ایل ڈی اے کے درمیان اختیارات کی کشمکش رہی۔
ایک طرف ایل ڈی اے پرانی حدود اور منظوری کے طریقہ کار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف روڈا نئے منصوبوں کو اپنے دائرہ اختیار میں لانا چاہتا ہے۔ اس باہمی اختلاف کا فائدہ نجی ہاؤسنگ مافیا نے اٹھایا اور اس دوران ہزاروں کنال زمین پر غیر قانونی تعمیرات وجود میں آئیں۔قانونی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ہاؤسنگ اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے متعدد قوانین موجود ہیں۔ پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 ،لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ، پنجاب لینڈ یوز رولز اور ماحولیاتی تحفظ کے قوانین سبھی یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی بھی ہاؤسنگ اسکیم اس وقت تک منظوری نہیں پا سکتی جب تک وہ زمین کے استعمال کی زمرہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور عوامی مفاد کے معیار پر پوری نہ اترے۔ لیکن عملی طور پر یہ قوانین اکثر صرف کاغذوں میں رہتے ہیں۔
کئی عدالتی فیصلوں میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2021 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں قرار دیا تھا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری میں سرکاری افسران اور نجی ڈویلپرز کی ملی بھگت واضح طور پر پائی جاتی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں سخت اقدامات کرے۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے 2019 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں کہا تھا کہ ملک کے شہری ڈھانچے کو غیر قانونی منصوبہ بندی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ریاست کو اس کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
عوامی پہلو سے یہ مسئلہ سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ان سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے عام شہری ہوتے ہیں جو اشتہارات اور سرکاری اجازت ناموں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو قانونی تقاضوں کی پیچیدگیوں کا علم نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر ایک گھر کا خواب دیکھتے ہیں لیکن جب برسوں بعد انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی اسکیم غیر قانونی ہے تو ان کے پاس قانونی چارہ جوئی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
لاہور میں 2015 سے 2024 کے دوران درجنوں سکیموں کے متاثرین عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے لیکن انصاف کا عمل طویل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مایوسی کا شکار ہوئے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ کارروائی محض زمین واگزار کرانے کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس سارے عمل کو سیاسی عینک سے نہ دیکھا جائے۔ پاکستان میں اکثر اوقات ایسی کارروائیاں مخصوص سیاسی ادوار میں زور پکڑتی ہیں تاکہ مخالفین کو دباؤ میں لایا جا سکے یا کسی خاص گروہ کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اگر روڈا اور ایل ڈی اے کے درمیان موجودہ کشمکش بھی اسی نوعیت کی نکلی تو اس کے نتائج دیرپا نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر یہ عمل غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے مکمل ہوا تو یہ نہ صرف مستقبل کے لیے ایک مثال قائم کرے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اس مسئلے کا حل چند بنیادی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔ سب سے پہلے ان تمام غیر قانونی سکیموں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے لائی جائے۔ ہر سکیم کے قانونی و ماحولیاتی پہلوؤں کی تفصیل فراہم کی جائے تاکہ سرمایہ کار خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کہاں سرمایہ کاری کریں۔ دوسرا ان افسران اور ڈویلپرز کے خلاف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہوں جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ تیسرا حکومت ایک ایسا ریگولیٹری نظام تشکیل دے جو ہر منصوبے کے آغاز سے اختتام تک نگرانی کرے اور اس میں سیاسی مداخلت نہ ہو۔ چوتھا عوامی آگاہی کی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ صرف اشتہارات پر انحصار کرنے کے بجائے قانونی تقاضوں کی جانچ پڑتال کر سکیں۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ دریائے راوی کے اطراف زمین کی یہ جنگ محض ایک شہر یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔ اسلام آباد میں بھی ایسے کئی منصوبے ہیں جنہیں بعد میں غیر قانونی قرار دیا گیا۔
کراچی میں بحریہ ٹاؤن کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ بڑے پیمانے پر زمین کی الاٹمنٹ اور منصوبہ بندی کے نام پر کس طرح بے ضابطگیاں کی گئیں۔ اسی طرح ملتان اور فیصل آباد کے گرد بھی غیر قانونی ہاؤسنگ کا جال بچھتا رہا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے جسے کسی ایک شہر کی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔آخر میں یہ معاملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے ترقیاتی ماڈل کی سمت کیا ہے۔ کیا ہم محض زمین کو بیچنے کا کاروبار جاری رکھیں گے یا ایک پائیدار شہری منصوبہ بندی کی طرف بڑھیں گے؟ اگر حکومت اس موقع کو استعمال کر کے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام لے آئے تو یہ نہ صرف دریائے راوی بلکہ پورے ملک کے لیے مثبت مثال قائم کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ بھی ایک اور فائل کی شکل میں بند ہو جائے گا اور چند سال بعد یہی کہانی کسی اور مقام پر دہرائی جائے گی۔



