بیٹی کی شادی تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ مصروفیت رہی شکر الحمدللہ اللہ نے سرخرو کیا سب سے بڑا فرض پورا ہوا اللہ سب کی بیٹیوں کے رشتوں میں آسانیاں پیدا فرمائے آمین پچھلے دو ماہ شادی کی تیاریوں میں مصروفیات کے باعث کالم اور پروگرام پر توجہ نہ دے سکا لیکن میں قارئین اور ناظرین کا مشکور ہوں کہ انھوں نے پھر بھی پذیرائی بخشی آج کا کالم بھی افراتفری میں لکھ رہا ہوں لیکن اس میں میں اپنے تجربات شیئر کر رہا ہوں سب سے زیادہ مجھے جو تکلیف دہ تجربہ حاصل ہوا وہ خریداری کا تھا ہمارا کاروباری نظام سارا کا سارا جھوٹ پر مبنی ہے۔
اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ دوسروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں اور چند ایک دکاندار جو اپنی ساکھ پر سمجھوتہ نہیں کرتے باقی سب جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں ہر لمحہ چکر دیتے ہیں اور اتنا تنگ کرتے ہیں کہ انسان چڑا چڑا بن کر لڑنے پر آمادہ ہو جاتا ہے سب سے پہلے تو ملبوسات کی تیاریوں کی بات ہو جائے کام والے کپڑے تیار کرنے والوں نے عجیب ایکا کیا ہوا ہے کوئی دوکاندار ڈیڑھ دو ماہ سے کم وقت پر آرڈر نہیں پکڑتا اور آدھے پیسے ایڈوانس میں لے لیتے ہیں وہ پیسے دو تین ماہ استعمال کرتے ہیں اس سے اپنا کاروبار کرتے ہیں اور جان بوجھ کر چکر لگواتے رہتے ہیں کہ آپ کا سوٹ اڈے پر لگا ہوا ہے کاریگر بیمار ہو گیا ہے ہماری فوتگی ہو گئی تھی بجلی نہ آنے کی وجہ سے کام وقت پر نہ ہو سکا اور اگر آپ نے کسی کام والے کو غلطی سے شادی کی درست تاریخ بتا دی تو پھر تو وہ آپ کو خوب بلیک میل کرے گا پھر کچھ دوکانداروں کا وطیرہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر آخری وقت میں ڈیلیوری دیتے ہیں تاکہ یہ نقص نکالنے کی بجائے جیسا تیسا بنا ہے لے جائیں۔
میں نے اکثر دوکانداروں سے خواتین کو لڑتے دیکھا ہے اس میں سارے دوکاندار ایک جیسے نہیں بعض ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے وعدے کی پاسداری کی نہ صرف کام معیاری اور توقع کے مطابق کیا بلکہ بروقت فون کرکے خود آگاہ کیا کہ آپ کا کام تیار ہے آ کر لے جائیں اور اگر انھیں چھوٹی موٹی تبدیلی کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے ماتھے پر بل ڈالے بغیر وہ کام کر دیا خریداری میں کچھ ایسا تجربہ بھی ہوا کہ جو چیز آپ نے خرید لی اگر وہ آپ کو پسند نہیں آئی یا اس سے بہتر چیز کہیں آپ کو پسند آ گئی ہے تو دوکاندار کو تبدیل یا واپس کرتے ہوئے موت واقع ہو جاتی ہے حالانکہ پائیدار کاروبار کا بنیادی اصول گاہک کا اطمینان ہوتا ہے یہاں دوکاندار تھوپنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک دفعہ آپ نے پیسے دوکاندار کو پکڑا دیے تو پھر بے شک اگر آپ وہیں بیٹھے ہوئے کہیں کہ یہ واپس کر لیں تو دوکاندار کہتا ہے کہ وہ دیکھیں ہم نے لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ خریدی ہوئی چیز واپس یا تبدیل نہیں ہو گی حالانکہ اس کے مقابلے میں اگر آپ دوسرے معاشروں کا موازنہ کریں تو بغیر استعمال کی ہوئی چیز سال بعد بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔
کچھ لوگ بچت کے چکروں میں تھوک مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں لیکن وہ اتنے کاریگر قسم کے لوگ ہوتے ہیں انھیں لینگوئج سے ہی اندازہ ہو تا ہے کہ یہ دوکاندار نہیں انفرادی طور پر خریداری کرنے آیا ہے وہ اس سے من مانی قیمت وصول کر لیتا ہے فرنیچر والے تو کمال ہی کرتے ہیں انھوں نے جا کر سیٹ کرنا ہوتا ہے اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے ٹائم کے ٹائم ہی جا کر سیٹ کیا جائے تاکہ اگر کوئی کمی بیشی بھی ہو تو اس پر سمجھوتہ کر لیا جائے جیولری چونکہ سب سے مہنگا آئٹم ہے اس پر پرافٹ کا بھی اپنا ہی جگاڑ ہے پالش اور میکنگ کے نام پر جس کا جتنا دائو لگتا ہے لگا لیتا ہے جب ہمیں اس پراسس سے گزرنا پڑا تو بے شمار چیزوں کا ادراک ہوا کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ کبھی دوکاندار کو آرڈر دیتے وقت شادی کی درست تاریخ نہ بتائیں بلکہ کوشش کریں ایک فرضی کارڈ ڈیزائن کرکے اپنے موبائل فون میں سیو کر لیں اور ہر ایک کو وہی دکھائیں تاکہ دوکاندار مطمئن ہو جائے اور اس تاریخ کے مطابق آپ کو آرڈر مل جائے میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں کوئی سچ بولنا بھی چاہے تو اسے مجبور کیا جاتاہے کہ تم جھوٹ کے کاروبار میں سچ نہیں بول سکتے۔
دوسرا یہاں نہ چیزوں کی کوالٹی جانچنے کا کوئی معیار ہے نہ قیمتوں کے تعین کا کوئی فارمولا ہے ہر کسی کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے آپ نے ہر فیصلہ اندھیرے میں کرنا ہے اور آپ کو کوئی پتہ نہیں کہ جو چیز دیکھنے میں اچھی لگ رہی ہے اس کے اندر کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر پروڈکشن کی سرٹیفیکیشن ہونی چاہیے اس پر قیمت کا تعین ہو سکے تاکہ دوکاندار بھی اور گاہک بھی فضول قسم کے بحث مباحثوں سے بچ سکیں ۔
ایک اور المیہ محسوس کیا کہ صوبائی دارالحکومت کی ساری مارکیٹیں دوپہر 12 بجے سے کھلنا شروع ہوتی ہیں بلکہ کئی تو تین چار بجے کھلتی ہیں اب جو کاروبار دوپہر کو شروع ہو گا اس کا اختتام کب ہو گا ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ تمام مارکیٹوں کو 9بجے سے رات 8بجے تک کاروبار کے لیے پابند کیا جائے بلکہ آخر میں میری تجویز ہے کہ اب ہمیں روایتی رسم و رواجوں سے باہر نکل آنا چاہیے دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر نئے ٹرینڈ متعارف کروانے چاہیں جہیز اور بری کی چیزوں کو بیگوں میں محفوظ رکھنے کی بجائے بچوں کو صرف ضرورت کی چیزیں دیں بلکہ شادی کی تقریبات کو دکھاوے کا ذریعہ بنانے کی بجائے وہ اخراجات بچا کر وہ رقم جوڑے کو دے دیں جس سے وہ اپنا کوئی کاروبار کر سکیں یا اس کی کہیں سرمایہ کاری کرکے اپنی زندگی کو آسان بنا سکیں۔
آخر میں میں اپنے ان تمام دوستوں کا بہت مشکور ہوں جنھوں نے میری رہنمائی فرمائی میری عزت بڑھائی بیٹی کے لیے دعائیں کیں کئی دوست عمرے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے انھوں نے خانہ کعبہ اور مسجد نبویﷺ میں دعائیں کیں کچھ دوست بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے لیکن کچھ دوستوں نے تو کمال ہی کر دیا آصف شہزاد صاحب نے کمال سرپرائز دیا وہ چپکے سے امریکہ سے آئے جب میں مہمانوں کو رسیو کر رہا تھا تو میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے اسی طرح پرویز اکبر بھٹی صاحب، مرزا عرفان بیگ صاحب ،میاں غفور صاحب لندن سے اسد آر چوہدری صاحب کینیڈا سے خصوصی طور پر شادی میں شرکت کے لیے آئے ڈاکٹر سعید الہی ،اعظم ملک بیٹوں اور رانا تنویر بیٹی کی شادی کے باعث شریک نہ ہو سکے لیکن کچھ دوست اب شرکت نہ کرنے پر معذرت خواہانہ فون کر رہے ہیں ۔
میرے لیے سب محترم ہیں میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہوں جسے اتنے لوگ پیار کرتے ہیں میں ان دوستوں سے بھی معذرت خواہ ہوں جن کو مدعو نہ کر سکا اب جن جن کو پتہ چل رہا ہے وہ گلے شکوے بھی کر رہے ہیں میں میاں سعید ڈیرے والا رانا مسعود حیدر اور راجہ منور صاحب کا بے حد مشکور ہوں جنھوں نے ہر لمحہ میری رہنمائی کی شادی کی تقریب میں مجھے ایک شخص نے بہت متاثر کیا وہ شکیل صاحب تھے جنھوں نے شادی کی تمام تقریبات کی کیٹرنگ کی انھوں نے نے ہماری توقعات سے زیادہ بہتر انتظامات کیے جس چیز کی ضرورت پڑی فوری لا حاضر کی کھانوں کی کوالٹی اتنی زبردست تھی ہر ایک نے تعریف کی اگر اسی طرح کی سروسز فراہم کی جائیں تو بہت ساری چیزیں آسان ہو سکتی ہیں۔



