پاکستانتازہ ترینکالم

پھر عوام پر ریاستی یلغار

حسنین جمیل (لندن)

کوئٹہ اوربلوچستان کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کےلاشیں رکھ کردیئے گئے دھرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھاوا بول دیا ،اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تادم تحریر کسی عدالت کے سامنے پیش کر کے ان کا جرم نہیں بتایا گیا ۔

پچھلے چندہ ماہ میں مبینہ طورپر یہ دوسرا ریاستی دھاوا ہے 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلوس پر بھی رات دھاوا بولا گیا تھا، پہلے اسلام اباد میں یلغار اور اب کوئٹہ دھاوا پتہ نہیں کیوں ریاست کو ماں بننے کی بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت محسوس ہور ہی ہے ۔

یاد رہے دو سال قبل دہلی میں سراپا احتجاج کسانوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کر دی تھی مگر بھارتی ریاست نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا ، مگر نہ جانے کیوں ہماری ریاست کی مامتا کیوں بیدار نہیں ہوتی ۔

ابھی کچھ دن قبل ہی ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو نوبل انعام کیلئے نامزد کیا گیا ہے ایک تو ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی عالمی اعزاز قبول ہی نہیں ہم نے ڈاکٹر عبدالاسلام کے نوبل انعام کو کھلے دل سے قبول نہیں کیا ملالہ یوسف زئی کے نوبل انعام کو شک کی نطر سے دیکھا ایک ڈاکیو مینٹری فلم میکر شرمین عبید کے آسکر ایوارڈ کا بھی خیرمقدم نہیں کیا اب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔

مشرقی پاکستان کا سانحہ سب کے سامنے ہے ، بلوچستان میں آگ لگی ہے خیبر پختوانخواہ شدید ناراض ہے گلگت بلتستان اور کشمیر میں بے چینی ہے جبکہ سندھی عوام دریائے سندھ میں سے نہریں نکالنے پر سراپا احتجاج ہیں پنجاب میں بھی حکمران طقبے کے حوالے سے رائےعامہ اچھی نہیں ہے ۔

صدر آصف علی زرداری نے عید کے بعد بلوچستان میں کیمپ آفس بنانے کا اعلان کیا ہے ، فارم 47 کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی انکی جماعت سے ہیں آصف علی زرداری جب دوہزار آٹھ میں صدر تھے تب بھی بلوچستان میں انکی جماعت کے ایک غیر سنجیدہ وزیر اعلی ٰاسلم رئیسانی تھے تب صدر زرداری نے آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا تھا جو بری طرح ناکام رہا تھا ۔

اب بھی یہ سب سیاسی شعبدہ بازی ہے آصف علی زردای کبھی بھی عوامی سیاست کے قائل نہیں رہے انہوں نے پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر عوامی جماعت کو اپنی محلاتی جوڑ توڑ والی سیاست کے باعث سندھ کے چند اضلاح تک محدود کر دیا ہے ، حرف آخر ملک میں انارکی کی صورتحال ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف ، وزیر اعلیٰ مریم نواز بھی بظاہر طاقت کے استعمال میں مگن ہیں ، سابق وزیر اعظم عمران خان پابند سلاسل ہیں ، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ لاپتہ ہے مگر حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ،خدا جانے اس سیاسی ہڑبونگ کا نتیجہ کیا نکلے گا۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button