سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973ءمیں اتفاق رائے سے منظور شدہ آئین میں 27 ویں ترمیم کی منظوری دے دی۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بجا طور پر عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ ترمیم دینی، آئینی، جمہوری، سیاسی اور سماجی اعتبار سے ”شرمناک“ ہے اور یہ ترمیم آئین اور نظام عدل کی عصمت دری ہے۔
27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد ایک بات یقینی ہو گئی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی طاقت اور سیاسی کنٹرول سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ وہ جیسا چاہیں اور جب چاہیں اپنی مرضی اور منشا کے مطابق سیاست، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ استثنیٰ کی سیاست نے کئی چہروں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے پورا حکومتی ڈھانچہ متاثر بھی ہوا ہے۔ یہ سارا منظر نامہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ریاست، حکومت اور عوام کے مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفادات کی اہمیت زیادہ ہے۔
پیپلز پارٹی نے اس کھیل میں آصف علی زرداری کے لیے فوجداری مقدمات سے بچنے کے لیے استثنیٰ حاصل کر لیا ہے۔ اسی طرح حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو عدلیہ کے اندر سے جس مزاحمت کا سامنا تھا اس کے بھی پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ پہلے 26 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کیا گیا اور اب 27 ویں ترمیم میں بچی کچی عدلیہ کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے مقابلے میں آئینی عدالتوں کا قیام ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں اور عدالت عظمیٰ کے مقابلے میں آئینی عدالتوں کو اہمیت دے کر حکومت اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی خواہشمند ہے۔
ساری دنیا میں جرنیل اپنی قوم کا حصار ہوتے ہیں اس دعوے کا ثبوت جرنیلوں کی تاریخ ہے۔ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور جرنیلوں کو ملک کے نظریے کا حصار ہونا چاہیے تھا مگر صورتحال مختلف ہے ،پاکستان کے کسی بھی جرنیل نے قرآن و سنت کو بالادست بنانے کے لیے کچھ نہیں کیاہمارا معاشی اور مالیاتی نظام سود پر کھڑا ہوا ہے۔
پاکستان میں عدلیہ کی بالا دستی ہنوز ایک خواب ہے، ملکی اقتدار پر شب خون مار کر مسند ِ اقتدار پر قابض ہونے والے آمروں نے آئین اور عدلیہ کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے، ملک میں آئین شکنی کا عمل آئین کی تشکیل کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا تھا اور المیہ یہ رہا کہ آئین شکنی کے اس قبیح فعل میں سول و فوجی حکمرانوں، سیاسی جماعتوں حتیٰ کہ خود عدلیہ نے بھی حصہ بقدرِ جثہ اپنا کردار ادا کیا۔
ایک جانب جہاں آمروں نے پے در پے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیریں تو وہیں دوسری جانب سیاسی حکومتوں نے عدلیہ کو اپنا تابع مہمل بنائے رکھا، ایسے میں سیاسی جماعتیں کیسے اور کیونکر آئین و قانون کا احترام کرتیں سو کسی نے عدالت کو کینگرو کورٹ قرار دیا اور کسی نے عدالت پر دھاوا بولا۔ مگر آئین شکنی کی سب سے تاریک روایت وہ ہے جوطالع آزماﺅں نے ڈالی ہے۔
پاکستان کا پہلا آئین 1956 میں نافذ ہوا لیکن 1958 میں اس وقت کے صدر اسکندر مرزا نے فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اسکندر مرزا نے آئین معطل کر دیا اور ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا، کچھ ہی دن بعد جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو بھی برطرف کر کے اقتدار خود سنبھال لیا اور آئین ختم کر دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف مارچ 1977 میں حزب اختلاف نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا، سیاسی بحران کے نتیجے میں 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاءالحق نے مارشل لا لگا دیا، آئین معطل کر دیا گیا، اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور ضیاءالحق نے اقتدار سنبھال لیا۔ 12 اکتوبر 1999 کو فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا، نواز شریف نے پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، آئین معطل کر دیا گیا اور پرویز مشرف نے خود کو چیف ایگزیکٹو قرار دیا۔
3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی اور آئین معطل کر دیا، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت کئی ججوں کو برطرف کر دیا گیا۔ یہ تو آئین سے کھلواڑ کی وہ مثالیں ہیں جو آمروں نے قائم کی ہیں مگر خود عدلیہ نے اپنی آزادی اور خودمختاری کا سودا کیا۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نظریہ ضرورت خود عدلیہ نے وضع کیا جس کے ذریعے آئین شکن طالع آزماﺅ ں کو عدالتی چھتری فراہم کی گئی، اس نظریہ ضرورت کو مختلف مواقع پر عدالت عظمیٰ نے آمروں اور غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا۔
پاکستان کے پہلے آئینی بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد نے قومی اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین کی سربراہی میں اسمبلی تحلیل کر دی، مولوی تمیز الدین نے عدالت میں درخواست دی کہ اسمبلی تحلیل کرنا غیر آئینی ہے تاہم چیف جسٹس منیر احمد نے نظریہ ضرورت کا سہارا لیتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ قانون ساز اسمبلی نے آئین ساز قانون کو صحیح طور پر نافذ نہیں کیا تھا، اس لیے اسمبلی کی تحلیل کو قانونی حیثیت حاصل ہے، یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب نظریہ ضرورت کا اصول استعمال کیا گیا۔
1958 میں جب ایوب خان نے آئین معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا اور عدالت میں یہ معاملہ پہنچا کہ آیا مارشل لا نافذ کرنا آئینی تھا یا نہیں تو اس موقع پر چیف جسٹس منیر احمد نے دوبارہ نظریہ ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے مارشل لا کو جائز قرار دیا، عدالت نے کہا کہ ”ملک کو بڑے خطرے سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہیں“۔1969 میں جب جنرل یحییٰ خان نے آئین معطل کر کے مارشل لا نافذ کیا اور خود کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر قرار دیاتو اس وقت عدالت عظمیٰ نے یحییٰ خان کے مارشل لا کو غیر آئینی قرار دے دیا لیکن چونکہ ان کے اقدامات ایک عرصے تک نافذ رہے اس لیے عدالت نے نظریہ ضرورت کے تحت ان کے اقدامات کو جزوی طور پر درست قرار دیا۔
1977 میں بھی جب جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لا نافذ کیا تو عدالت عظمیٰ نے ضیاءالحق کے مارشل لا کو نظریہ ضرورت کی چھتری فراہم کی، پھر جب ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو نے جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا کے خلاف عدالت عظمیٰ میں مقدمہ دائر کیا تو اس موقع پر بھی چیف جسٹس انوار الحق نے نظریہ ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے ضیاءالحق کی فوجی حکومت کو جائز قرار دیا اور کہا کہ ”ملک کو انارکی اور بحران سے بچانے کے لیے ضیاءالحق کا اقدام ضروری تھا“۔ پھر 1999 میں جب پرویز مشرف آئین شکنی کر کے اقتدار پر قابض ہوئے اور عدالت میں مشرف کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تو چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے12 اکتوبر 1999 کے مارشل لا کو نظریہ ضرورت کے تحت نا صرف جائز قرار دیا دیا بلکہ مشرف کو تین سال تک حکومت کرنے اور آئین میں ترامیم کا اختیار بھی دے دیا۔
یہ واقعات آئین شکنی اورمداخلتوں کی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ تو بھلا ہو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا جنہوں نے 2009 میں مشرف کی ایمرجنسی اور پی سی او کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نظریہ ضرورت کے خاتمے کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان میں نظریہ ضرورت اب کبھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ صورتحال ہے جس پر کہا جاسکتا ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔
ملک کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں ہے، خارجہ پالیسی ان کے قبضے میں ہے، داخلہ پالیسی ان کے قبضے میں ہے، معیشت ان کے قبضے میں ہے، عدالتیں ان کے قبضے میں ہیں، ذرائع ابلاغ ان کے قبضے میں ہیں۔پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور اسے اسلام کا قلعہ بننا تھا پاک سرزمین پر اللہ کی حاکمیت قائم ہونا تھی مگر آمریت نے چوں چوں کا مربہ بنادیا۔بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے پورے سیاسی نظام کو مذاق بنادیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی بحران اور ناکام طرز حکمرانی اور عوام کے حالات کی خرابی کا سبب سیاسی اداروں پر ایک ادارے کی بالادستی اور سیاسی امور میں مداخلت ہے۔ جو دستور اور آئین کے خلاف ہے۔
وطن عزیز میں حالات سیاسی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے بدتر ہیں۔ نوجوان نسل بے مقصدیت کے ساتھ نشے اور جرائم کی عادی بن رہی ہے، مایوسی کے بادلوں نے گہرا اثر ڈالا ہوا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ عام آدمی کی زندگی میں ہر لمحہ درد اور تکلیف بڑھتی ہی جارہی ہے۔ جرنیلوں ، ججوں ، سیاست دانوں ، بیورو کریٹس اور میڈیا مالکان کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ملک کے معاشی حالات اتنے خراب ہیں کہ تقریباً ملک کی آدھی آبادی خط غربت سے نیچے جا چکی ہے۔
عوام بلک اور سلگ رہے ہیں، عوام کی اکثریت غربت، محرومی اور ذلت کی گہرائیوں میں غرق ہونے پر مجبور ہے ۔صنعتیں بڑے پیمانے پر بند ہورہی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنی آمدن کے تھوڑے بہت ذرائع سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں۔ علاج، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی انتہائی مشکل ہوچکی ہے۔ عوام مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ اس تناظر میںملک و قوم کو بحران سے نکال کر تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا نسخہ کیمیا یہ ہے کہ حکومت عدلیہ، پارلیمنٹ اور افواج سمیت ہر ادارے کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قوم کی سلامتی اور ترقی کا انحصار عدالتی نظام کی آزادی اور غیر جانبداری پر ہے، عدلیہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک مضبوط، آزاد، اور غیر جانبدار عدلیہ نہ صرف عوام کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے بلکہ ملک میں استحکام، انصاف، اور قانون کی حکمرانی و بالادستی کو یقینی بناتی ہے۔ ایسے نظام میں عوام اور ادارے مل کر ترقی کی منازل طے کرتے ہیں، اور ملک بقا و سلامتی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔آئین کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔تمام حکومتوں اور اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، حکومت عدلیہ، پارلیمنٹ، افواج سمیت ہر ادارے کے بارے میں آئین میں ایک ضابطہ اور فریم ور ک موجود ہے جسے فالو کیا جائے۔



