
کسی گائوں میں دو اکڑ خان رہتے تھے دونوں پورے گائوں میں اپنی دھاگ بٹھانا چاہتے تھے اور ایک دوسرے کو گھورتے رہتے تھے اکثر لوگ ان سے کنی کتراتے تھے اور ان کے معاملات کو نظر انداز کر دیتے تھے لیکن دونوں کے درمیان جاری خار بازی جب حد سے بڑھنے لگی تو پورے گائوں نے انھیں سمجھایا کہ دیکھو تم دونوں کی عزت بنی ہوئی ہے لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں اپنی اپنی حدود میں رہو ایک دوسرے کو بلاوجہ تنگ نہ کرو تمہاری خار بازی کی وجہ سے پورا گائوں متاثر ہو رہا ہے لیکن وہ کہاں باز آنے والے تھے ۔
ایک دن دونوں دست وگریبان ہو گئے گائوں والوں نے بھی فیصلہ کیا کہ ان کو لڑائی کا چائو پورا کر لینے دو ان کو کوئی نہ چھڑوائے آخر دونوں لڑ لڑ کر ہف گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے لیکن کوئی بھی انھیں چھڑوانے کے لیے تیار نہ تھا پھر دونوں حیلوں بہانوں سے وہاں سے بھاگ جانے کی ترکیبیں نکالنے لگے ایک کہے میرے گھر میں بہت اہم مسئلہ ہے ورنہ میں تمھیں کسی صورت نہ چھوڑتا دوسرا کہنے لگا تم ادھر ہی ٹھرو مجھے ضروری کام ہے میں وہ کرکے واپس آ کر سبق سیکھاتا ہوں اسی طرح کا احوال امریکہ اور ایران کا ہے حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہف چکے ہیں اور جنگ بندی کے لیے باعزت راستہ چاہتے ہیں لیکن دونوں اس کوشش میں ہیں کہ اس جنگ کا وائنڈ اپ ان کی فتح سے ہو تاکہ وہ دنیا کو باور کرا سکیں کہ ہم فتح یاب ہو کر آئے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بری طرح اس دلدل میں پھنس چکا ہے اور جان چھڑوانا چاہ رہا ہے لیکن اسے باعزت راستہ نہیں مل رہا حالانکہ یہ جنگ امریکہ نے اسرائیل کے کہنے پر ایران پر مسلط کی تھی لیکن ایران اس کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوا اب اگر وہ چباتا ہے تو دانت ٹوٹتے ہیں اگلتا ہے تو چودھراہٹ ختم ہوتی ہے صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا ٹرمپ کو کہہ چکی ہے کہ یہ جنگ بلامقصد ہے اب تو کوئی اس کا ساتھ دینے کو بھی تیار نہیں یورپی یونین، اقوام متحدہ، برطانیہ چین جاپان سب اسے انکار کر چکے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ امریکہ یہیں سے واپس مڑ جائے تو کچھ نہ کچھ عزت باقی رہ جائے گی ورنہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ وہ دلدل میں دھنستا چلا جائے گا ۔
اب تو اس کا ایٹم بم مارنے کا ڈراوا بھی کارگر نہیں رہا اب تو کئی ممالک کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر ایٹمی حملہ کیا تو وہ جواب میں اسرائیل پر ایٹمی حملہ کر کے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے دوسری جانب اگر ایران کا جائزہ لیا جائے تو اس کا انفراسٹرکچر بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے مزید جنگ اس کے لیے بھی بہت مشکل کام ہے لیکن طویل جنگ میں زیادہ نقصان امریکہ کا ہے اس کے اخراجات بھی زیادہ ہیں اور دنیا کا سارا دباو بھی امریکہ پر ہے چونکہ 100 سے زائد ممالک براہ راست اس جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں لہذا وہ تمام ممالک امریکہ پر دباو ڈال رہے ہیں کہ جنگ بند کی جائے جبکہ ایران پر اس قسم کا کوئی دبائو نہیں ۔
پاکستان نے دونوں ملکوں کو ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا دونوں کے لیے باعزت واپسی کا راستہ دکھایا تھا لیکن لگتا ہے کہ انا کا مسئلہ حقائق سے روگردانی کروا رہا ہے حالانکہ دونوں ملکوں کو ایک میز پر بٹھانا کوئی آسان کام نہ تھا دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ ہی کوئی ملک ان کی گارنٹی دینے کے لیے تیار تھا پاکستان نے بہترین سفارتکاری کے ذریعے دونوں کو اعتماد دلوایا امریکہ کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی ایران کو غیر مشروط طور پر آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ کو دوہفتوں کے لیے جنگ بندی پر آمادہ کیا جس سے دونوں فریقین کے لیے ایک میز پر بیٹھنے کی راہ ہموار ہوئی خوفناک کشیدگی کے ماحول میں دونوں فریقین کو ایک جگہ پر اکھٹا کر لینا کسی معجزہ سے کم نہ تھا پاکستان نے نہ صرف سہولت کاری کی بلکہ ثالثی اور بہترین میزبان کا فریضہ بھی احسن طریقے سے سرانجام دیا آج دنیا پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔
دنیا بھر کے میڈیا نے اسلام آباد سے براہ راست مذاکرات کی کوریج کی اور اس طرح 48 گھنٹوں تک پاکستان مسلسل دنیا بھر کے میڈیا پر چھایا رہا اب بھی پاکستان سب سے زیادہ زیر بحث ہے بعض لوگ مذاکرات کی ناکامی کی بات کو خوب اچھال رہے ہیں انھیں شاید ادراک نہیں کہ یہ مذاکرات کے درمیان میں تعطل آیا ہے پاکستان اب بھی دونوں فریقین کے ساتھ آن بورڈ ہے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے تین ادوار میں بہت سارے معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور بظاہر تین نکات ایسے ہیں جہاں ڈیڈ لاک پایا جاتا ہے امریکہ نفسیاتی حربے کے طور پر ڈائیلاگ سے اٹھ کر گیا ہے دراصل وہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم اس کے حوالے کر دے آبنائے ہرمز کسی تیسرے ملک کی نگرانی میں دے دیا جائے یا پہلے کی طرح اوپن کر دیا جائے وہ نہیں چاہتا کہ ایران وہاں سے ٹول وصول کرے اور تیسرا وہ اپنا میزائل پروگرام ختم کر دے۔
توقع ہے کہ جوہری پروگرام پر ایران سمجھوتہ کرلے گا اور معاملات طے پا جائیں گے اس کا جواز بھی ہے کہ ان کے شہید سپریم لیڈر اس بارے فتوی دے چکے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا لیکن باقی دو معاملات پر ایران کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اس سے دونوں ملکوں کو فیس سیونگ مل جائے گی ایران کا موقف ہے کہ اگر وہ ان معاملات پر سمجھوتہ کرتا ہے تو اس کی قوم اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی صورتحال یہ ہے کہ ایران میں ایک کروڑ سے زائد لوگ جنگ کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروا چکے ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ میں جنگ بندی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں امریکہ نے اب نئی چال چلی ہے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا تھا اب بند کروانا چاہ رہا ہے اس نے سمندروں کی نئی ناکہ بندی کرلی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو لاکھوں ڈالر ٹول دے کر آنے والے جہازوں کو روکے گا ۔
اس صورتحال میں توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا اور اس سے پاکستان، چین، بھارت، جاپان، بنگلہ دیش اور خطے کے دیگر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے امریکہ کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے چین اور پاکستان ایران کو امریکہ کی بات ماننے پر مجبور کریں گے لیکن ایسی صورتحال ایران کی اہمیت اور زیادہ بڑھا سکتی ہے اس کی بارگینگ پوزیشن کو بہتر کر سکتی ہے امریکہ کے پاس جنگ بندی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں جتنی جلدی اس کا حل نکال لیا جائے گا اتنا ہی ڈیمج کم ہو گا ہر گزرتے وقت کے ساتھ بحران شدت اختیار کرتا جائے گا اور پھر یہ بحران کوئی بھی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان اب بھی پر امید ہے کہ وہ دونوں فریقین کو جنگ بندی کے معاہدہ پر لے آئے گا پاکستان کے اس امن مشن میں دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور بہت سارے ممالک نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر صورت امن مشن کے لیے پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہیں پاکستان ایک سپر پاور کو اس کے 42 سال بعد اس کے بدترین دشمن کے ساتھ بٹھانے میں کامیاب ہو گیا ہے یہ امریکہ اور ایران کے پہلے اعلی سطحی مذاکرات تھے پاکستان نے بہت بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں اپنے ازلی دشمن بھارت کو معاملات سے لاتعلق کر دیا ہے ایک جاری جنگ کو مذاکرات کی طرف موڑ دیا ہے اب لارج سکیل جنگ کے خدشات کم ہو چکے ہیں اب بات مذاکرات کی طرف ہی جائے گی توقع ہے کہ پاکستان اس امن مشن میں ضرور سرخرو ہو گا ۔



