پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سی این این اردو کا ایک اور اعزاز: ڈی پی او حافظ آباد کو ہٹانے کی خبر سب سے پہلے بریک

ڈی پی او حافظ آباد کی تبدیلی کی خبر درست ثابت، سینئر صحافی فیاض ملک کی بریکنگ نیوز

 لاہور:(بیوروچیف)آفس ٹوائلٹ کے استعمال پر لیگی ایم پی اے کے بیٹےکے ساتھ تنازع؛ ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا



پنجاب میں 18 گریڈ کے پولیس افسر کامران حامد کو مبینہ طور پر سیاسی طور پر بااثر تارڑ خاندان سے بھی قریبی تعلق رکھنے والے حکمران جماعت کے مقامی ایم پی اے کے ساتھ جھگڑے کے بعد حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے بعد آئی جی پنجاب کے حکم پر ہونے والی انکوائری میں ڈی پی او کو قصوروار قرار دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو ہدایت کی  کہ وہ دونوں فریقین کو سنیں اور یہ معلوم کریں کہ ’ن لیگ کے ایم پی اے کے بیٹے کی جانب سے ڈی پی او آفس کے بیت الخلا کے استعمال پر تنازع‘ کا ذمہ دار کون ہے۔

Get Lost سے You Get Lost تک کا سفر

 

نوٹ: یہ خبر سینئر صحافی، اینکر، کرائم رپورٹر اور کالم نگار نے CNNURDU.COM پر اپنے کالم میں لکھی تھی، آپ اس مضمون کو اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں

 

تفصیلات بتاتے ہوئے سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے شاہد بھٹی اپنے نوجوان بیٹے اور اپنے حلقے کے کچھ شکایت کنندگان کے ساتھ حافظ آباد ڈی پی او کے دفتر گئے۔

 

 

 

 

ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے ڈی پی او کامران حامد کے دفتر کا دورہ کیا کیونکہ وزیراعلیٰ نے حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ متعلقہ ضلعی پولیس کے سربراہ کی موجودگی میں مقامی لوگوں کے پولیس سے متعلق معاملات کو حل کریں۔

افسر کا کہنا ہے کہ جب میٹنگ جاری تھی، تو ن لیگ کے ایم پی اے کا جوان بیٹا موبائل فون پر کال اٹینڈ کرتے ہوئے دفتر میں داخل ہوا، ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے ڈی پی او آفس میں موبائل فون استعمال کرنے پر اپنے  بیٹے کو ڈانٹ کر کال منقطع کرنے کا  کہا۔

افسر کا کہنا ہے کہ نوجوان بعد میں ڈی پی او کے ریٹائرنگ روم میں ان کا بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے گیا،  جب وہ ریٹائرنگ روم سے باہر آیا تو ڈی پی او نے استفسار کیا کہ ان  کی اجازت کے بغیر ان کا "ذاتی” واش روم کیوں استعمال کیا۔

ایم پی اے کے بیٹے نے اسی لہجے میں جواب دیا کہ یہ پبلک آفس ہے، ڈی پی او کا ’’ذاتی‘‘ واش روم نہیں، ڈی پی او کو حاضرین کی موجودگی میں ایسے شرمناک ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

 

افسر کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقین میں سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور مبینہ طور پر پولیس افسر نے غصے میں آکر ایم پی اے کے بیٹے سے کہا کہ ’یہاں سے نکل جاؤ‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے نے مداخلت کی اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں اپنے بیٹے کو پرسکون رہنے اور دفتر چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

 

جیسے ہی ایم پی اے ڈی پی او کے دفتر سے باہر نکلا، علاقے کے کچھ لوگوں نےتو ان کے ہمراہ موجود لوگوں نے ڈی پی او کے طرز عمل کو "علاقے کی اہم سیاسی شخصیت” کی توہین قرار دیتے ہوئے کشیدگی کو ہوا دی۔

افسر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے ٹوائلٹ کموڈ کی تصویر کے ساتھ،  تنقیدی پوسٹ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی، جس کا عنوان "گیٹ لاسٹ” تھا، جس سے تنازعہ کو مزید ہوا ملی۔

افسر کا کہنا ہے کہ ایم پی اے بعد میں یہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر سیاستدان سائرہ افضل تارڑ کے نوٹس میں لایا، جنہوں نے یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اٹھایا۔

دریں اثنا بااثر سیاسی خاندان نے ڈی پی او کے تبادلے کے لیے لابنگ شروع کردی کیونکہ یہ معاملہ حافظ آباد میں زبان زد عام ہوگیاجہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پہلے ہی پولیس افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی تھی۔

بعد ازاں ایم پی اے نے اپنے بیٹے کے ہمراہ پنجاب انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) عبدالکریم کے دفتر کا دورہ کیا اور ڈی پی او حافظ آباد کے "ناقابل قبول رویہ” کی شکایت کی۔

پوچھ گچھ پر، ڈی پی او نے مبینہ طور پر آئی جی پی کو بریف کیا کہ انہوں نے اپنے دفتر کے واش روم کے استعمال پر صرف اس لیے اعتراض کیا تھا کہ ان کے ریٹائرنگ روم میں سرکاری فائلوں کے علاوہ ان کا کچھ ذاتی سامان پڑا ہوا تھا۔

تاہم، افسر کا کہنا ہے کہ آئی جی پی پولیس افسر کی طرف سے دی گئی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو دی۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی جی پی کی رپورٹ کی روشنی میں کامران حامد کو بعد میں وزیراعلیٰ کے حکم پر عہدے سے ہٹا دیا گیا، انہیں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) میں تعینات کیا گیا جو کہ نسبتاً کم اہم عہدہ ہے۔

 

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button