پاکستانتازہ ترینکالم

بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور مسلم طالبہ کی تذلیل

طاہر امبر

آج جب دنیا انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار اور تعلیم کی مساوی فراہمی کے دعوؤں سے گونج رہی ہے، عین اسی وقت بھارت جیسے ملک سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جو اس کی نام نہاد جمہوریت، سیکولرازم اور آئینی اقدار کو کھوکھلے نعروں سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہونے دیتے۔ صوبہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم طالبہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا ناروا، تحقیر آمیز اور غیر اخلاقی سلوک محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ یہ اس منظم مسلم دشمن سوچ کا تسلسل ہے جو برسوں سے بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

ایک طالبہ، جو علم کے حصول کے لیے سوال کرنے کا حق رکھتی ہے، اگر اسی سوال کی پاداش میں تذلیل، تمسخر اور بدتمیزی کا نشانہ بنے تو یہ صرف اس طالبہ کی توہین نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام، آئین اور انسانی وقار پر حملہ ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلوک کسی عام شخص نے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ ریاستی عہدے پر فائز فرد نے روا رکھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں طاقت، اقتدار اور مذہبی تعصب کس حد تک ایک دوسرے میں ضم ہو چکے ہیں۔
بھارت آج جس تیزی سے ہندوتوا کے نظریے کی طرف بڑھ رہا ہے، اس میں مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے سانس لینا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔ کبھی حجاب پر پابندی، کبھی مدارس کو نشانہ بنانا، کبھی مساجد کی شہادت اور اب طالبات کی کھلی تذلیل—یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ بہار کا حالیہ واقعہ دراصل اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں مسلمان کو برابر کا شہری نہیں بلکہ ایک مشتبہ وجود سمجھا جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی ضمیر کہاں سو رہا ہے؟ وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جو معمولی واقعات پر بھی بیانات جاری کرتی ہیں، بھارت میں ہونے والی اس کھلی زیادتی پر خاموش کیوں ہیں؟ اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر اداروں کی یہ خاموشی اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ انسانی حقوق اب اصول نہیں بلکہ مفادات کے تابع ہو چکے ہیں۔
مسلم طالبہ کے وقار کو مجروح کرنا دراصل آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر تم مسلمان ہو تو تمہارے سوال جرم، تمہاری شناخت بوجھ اور تمہارا وجود ناقابلِ قبول ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے، مگر بھارت میں اسے اقتدار کی طاقت سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ظلم جب ریاستی سرپرستی میں ہونے لگے تو وہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اپنے ہی شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر ذلیل کرتی ہیں، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ طاقت کے نشے میں چور حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ مظلوم کی آہ خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر بے اثر نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان دنیا، بالخصوص اسلامی ممالک، محض رسمی مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اور سفارتی سطح پر مؤثر آواز بلند کریں۔ خاموشی اب مجرمانہ غفلت کے مترادف بنتی جا رہی ہے۔ اگر آج ایک طالبہ کی تذلیل پر آواز نہ اٹھی تو کل یہ دائرہ مزید وسیع ہوگا اور پھر شاید بولنے کا موقع بھی نہ ملے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کا یہ طرزِ عمل قابلِ نفرت، قابلِ مذمت اور قابلِ احتساب ہے۔ بھارت کو اگر واقعی خود کو جمہوری اور مہذب ریاست ثابت کرنا ہے تو اسے اقلیتوں، بالخصوص مسلم طالبات کے وقار اور حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا، ورنہ تاریخ اسے ایک متعصب، ظالم اور دوغلی ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button