لاہور ( ویب ڈیسک ) پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر دوبارہ 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) عائد کرنے کی کسی بھی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف یہ تجویز واپس لی جائے بلکہ سولر پینلز پر موجودہ 10فیصد کم شرح ٹیکس کو بھی ختم یا کم کرکے 8فیصد کیا جائے۔
اس کے علاوہ لیتھیم بیٹریز، انورٹرز، کیبلز اور سولر سیکٹر سے وابستہ دیگر مصنوعات پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں بھی نمایاں کمی کی جائے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کا فروغ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ مطالبات پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص موسی، صدر ناصر خان، وائس چیئرمین شہاب قریشی، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فاروق گجر، فنانس سیکرٹری سعد ایوب خان، صارفین کے نمائندہ شاہد عثمان اور دیگر رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیش کیے۔
مقررین نے کہا کہ ملک میں بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کے باعث لاکھوں صارفین گھریلو، تجارتی اور صنعتی سطح پر سولر توانائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات پر اضافی ٹیکس عائد کرنا عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا اور حکومت کے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے دعوئوں سے بھی متصادم ہوگا۔ چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن وقاص موسیٰ نے کہا کہ سورج سے فائدہ اٹھایا جائے، اس پر ٹیکس نہ لگایا جائے۔
اگر گزشتہ چند برس میں سولر توانائی کا متبادل دستیاب نہ ہوتا تو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے باعث عوام اور صنعتوں کی مشکلات کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سولر سیکٹر میں کھربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوئیں جبکہ ٹیکس وصولیوں سے حاصل ہونے والا ریونیو مجموعی کاروباری حجم کے مقابلے میں انتہائی محدود رہا۔ اس کے باوجود ٹیکسوں کے باعث سولر نظام عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوا اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سولر سیکٹر سے حاصل ہونے والے ریونیو کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن پر خرچ کیا، جبکہ اگر قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کی جائے تو درآمدی تیل پر انحصار کم کرکے قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیتھیم بیٹریز، انورٹرز اور دیگر ضروری آلات پر عائد ڈیوٹیز ختم کی جائیں تاکہ سولر نظام کی مجموعی لاگت کم ہو اور زیادہ سے زیادہ صارفین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔صدر پاکستان سولر ایسوسی ایشن صفدر نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے سولر سیکٹر کی تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے مثبت اقدامات کیے تھے، تاہم پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں سے سرمایہ کاروں اور صارفین میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سولر توانائی کے فروغ کے لیے کم از کم دس سالہ جامع اور مستقل پالیسی متعارف کرائی جائے تاکہ سرمایہ کاری، مقامی صنعت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر رہنمائوں نے حکومت، وزارت خزانہ اور پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ توانائی کے بحران، عوامی مشکلات اور ماحولیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتی ہوئے سولر پینلز اور اس سے منسلک صنعتوں کو خصوصی ٹیکس ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طویل المدتی اور قابلِ عمل پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ پاکستان میں صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور توانائی کے بحران پر بھی موثر قابو پایا جا سکے۔ دوسری جانب آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل سولر پینل پلیٹس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق فی سولر پلیٹ پلیٹس کی قیمت میں 7سے 9 ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا۔ 585واٹ کی پلیٹ 18ہزار سے بڑھ کر27ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔
مارکیٹ میں 645واٹ کی پلیٹ 22ہزار سے بڑھ کر31 ہزار200روپے کی ہوگئی جبکہ 720واٹ کی پلیٹ25 ہزار سے بڑھ کر33ہزار500روپے کی ہوگئی۔ انورٹر کی قیمت بھی بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔



