بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

بسنت: آسمان پر رنگ، زمین پر مہنگائی

تحریر: فنیحاس کنول

وہ نوجوان جو آج بیس برس کے ہو چکے ہیں، اُن کی اکثریت نے بچپن میں بسنت کا اصل رنگ نہیں دیکھا۔ یہ سچ ہے کہ حالیہ برسوں میں لاہور میں بسنت ایک بار پھر محدود اور مخصوص دائروں میں نظر آ رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ بسنت واقعی عوام کی بسنت ہے یا صرف مخصوص طبقے کی ایک تقریب بن کر رہ گئی ہے؟
بسنت کبھی صرف پتنگ اُڑانے کا تہوار نہیں تھا۔ یہ سردیوں کے بعد بہار کی آمد کا جشن تھا، چھتوں پر اکٹھے ہونے کا بہانہ، اور غریب و امیر کے درمیان وقتی طور پر مٹ جانے والی ایک لکیر تھی۔ آج مگر یہ لکیر پہلے سے زیادہ گہری ہو چکی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں، جب ایک عام مزدور کی آمدن بجلی، گیس اور راشن کی نذر ہو جاتی ہے، تو بسنت کے رنگ بھی اس کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

آج لاہور کے کچھ علاقوں میں بسنت کی رونق تو دکھائی دیتی ہے، مگر یہ رونق اونچی عمارتوں، محفوظ چھتوں اور مہنگے انتظامات تک محدود ہے۔ رنگین کپڑے، مہنگی پتنگیں، محفوظ ڈور اور تقریبات—یہ سب کچھ اُس طبقے کے لیے ممکن ہے جس کے لیے مہنگائی صرف ایک خبر ہے، روزمرہ کا مسئلہ نہیں۔ غریب آدمی کے بچے کے لیے آج خوشی منانا بھی ایک مشکل بن چکا ہے۔ جس گھر میں مہینے کے آخر میں فیس ادا کرنے کا سوال ہو، وہاں تہوار محض ایک خواہش رہ جاتا ہے۔

ریاست اور معاشرے نے کچھ مثبت اقدامات کے ذریعے بسنت کو نسبتاً محفوظ بنانے کی کوشش ضرور کی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ کیا ہم نے اس تہوار کو عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی بنایا؟ کیا ہم نے یہ سوچا کہ خوشی بھی ایک سماجی حق ہے؟ تہوار اگر صرف اشرافیہ کے لان اور چھتوں تک محدود ہو جائیں تو وہ روایت نہیں رہتے، نمائش بن جاتے ہیں۔

نئی نسل کے لیے بسنت اب ایک ایسی تقریب بن چکی ہے جو وہ دور سے دیکھتی ہے، سوشل میڈیا کی اسکرین پر یا کسی اور کی چھت پر۔ ان کے پاس نہ کھلا آسمان ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی وہ بے فکری جو خوشی منانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ مہنگائی نے ان کے ہاتھوں سے خوشیوں کی ڈور کھینچ لی ہے۔
بسنت کو واقعی زندہ رکھنا ہے تو اسے صرف لاہور کے چند علاقوں کی رونق نہ رہنے دیا جائے۔ محفوظ انتظامات کے ساتھ عوامی سطح پر ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جہاں عام شہری اور غریب طبقے کے بچے بھی اس تہوار کا حصہ بن سکیں۔ کیونکہ تہوار کا مقصد صرف آسمان پر رنگ بکھیرنا نہیں، بلکہ دلوں میں امید جگانا ہوتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ بسنت ہو رہی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ بسنت کس کے لیے ہو رہی ہے؟ اگر خوشی صرف چند لوگوں تک محدود رہے تو معاشرہ رنگین نظر آ کر بھی اندر سے بے رنگ ہی رہتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button