انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

جنگ بندی کی خلاف ورزی، اسرائیل کی غزہ پر شدید بمباری،12فلسطینی شہید

رفح، خان یونس میں درجنوں حملے، اسرائیل کا رفح بارڈر کھولنے سے انکار: حماس کے غیر مسلح ہونے تک جنگ ختم نہیں ہوگی، نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی

غزہ، تل ابیب، واشنگٹن (ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی غزہ کو متعدد فضائی اور غزہ پر فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا ہے جس میں مزید 12فلسطینی شہید ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی علاقوں میں درجنوں اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کئے ہیں۔ عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے نے وسطی غزہ کے البریج مہاجر کیمپ میں ایک مکان کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ایک اور فضائی حملے میں خان یونس کے شمال مغرب میں واقع اسدا علاقے میں بے گھر افراد کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے اباسن کے علاقے میں شدید فائرنگ کی جبکہ دوپہر کے وقت رفح پر فضائی حملے جاری رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ کے خان یونس کے مشرقی علاقوں عبسان اور الزنہ پر بھی گولہ باری کی۔ غزہ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 21 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ حماس نے اسرائیلی فوج پر راکٹ اور اسنائپر سے حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس پر جواب دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔حماس کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کی بندش یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے، یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی رفح کراسنگ کھلنے سے مشروط ہے۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے آفس کے مطابق اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کی واپسی اور طے شدہ فریم ورک کو نافذ کرنے میں حماس کے کردارکو دیکھتے ہوئے رفح بارڈر کھولنے پر غور کیا جائے گا۔د ریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اور غزہ کی پٹی میں موجود دیگر تنظیموں کے غیر مسلح ہونے تک جنگ ختم نہیں ہو گی۔


دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کر سکتا ہے، حماس کی جانب سے جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی مستند اطلاعات ملی ہیں۔
محکمہ خارجہ نے حملی کی نوعیت سے متعلق تفصیل دیئے بغیر کہا کہ ضامن ممالک کو جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق آگاہ کر دیا گیا، اگر حماس نے ایسا کیا تو غزہ کے عوام کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ اپنے بیان میں حماس نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کئے گئے تمام دعووں کو مسترد کرتی ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ حماس پر حملے یا جنگ بندی کی خلاف ورزی کے تمام الزامات جھوٹ ہیں۔
حماس نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہم نہیں اسرائیل کر رہا ہے۔ حماس نے کہا کہ یہ بے بنیاد باتیں مکمل طور پر اسرائیلی گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہم آہنگ ہیں۔ حماس نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں، بالخصوص ان گروہوں کی پشت پناہی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔ادھر جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں ہونے والی ایک حملے میں 2اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3زخمی ہوگئے۔


ییلو لائن کے مشرق میں واقع یہ علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں ہے اور حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج یہاں تعینات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت میجر یانیو کولا اور اسٹاف سارجنٹ ایتائے یاویٹس کے طور پر ہوئی ہے دونوں ناحل بریگیڈ کی 932ویں بٹالین سے تعلق رکھتے تھے۔ فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور ایک سرنگ سے نکلے اور آر پی جی راکٹ سے ایک ایکسکویٹر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2فوجی موقع پر ہی مارے گئے۔
اسی دوران ایک دوسرے ایکسکویٹر پر سنائپر فائر ہوا جس سے 2مزید فوجی زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ کچھ دیر بعد ایک اور فوجی کو بھی سنائپر فائر سے زخمی کیا گیا، تاہم آوروں نے کسی اسرائیلی فوجی کو اغوا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ فوجی اس علاقے میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کے خاتمے کے آپریشن پر مامور تھے کیونکہ شبہ تھا کہ کچھ مسلح افراد اب بھی سرنگوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔
حملے کے فوراً بعد اسرائیلی فضائیہ اور زمینی دستوں نے علاقے میں جوابی کارروائیاں شروع کیں اور بعد ازاں، جنوبی غزہ کے مختلف حصوں پر شدید فضائی حملے کیے گئے۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے اور رفح میں ہونے والی جھڑپوں سے لاعلم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہمیں رفح کے علاقے میں کسی جھڑپ یا واقعے کی معلومات نہیں ہیں، کیونکہ یہ علاقے قابض افواج کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں موجود ہمارے باقی مزاحمت کاروں سے رابطہ رواں سال مارچ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے منقطع ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button