پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سفلی خطرناک ، ہلاکت خیز عملیات میں ملوث(پانچویں قسط)

لاہور:(رپورٹ/محمد قیصرچوہان) سفلی جادو میں گندے بیر یا موکلات کا حصول بنیادی جز قرار دیا جاتا ہے۔ سفلی علوم کے قریبی ذرائع کے مطابق گندے موکلات کے حصول کے دو بنیادی طریقے رائج ہیں۔پہلے طریقے میں کافر جنات کی تعریف و توصیف بیان کر کے انہیں خوش کیا جاتا ہے تاکہ وہ مختلف عملیات کی کامیابی کیلئے عامل کی مدد کریں۔ دوسرے طریقے میں عامل بھٹکتی روحوں، شمشان گھاٹ میں مدفون مردوں کے ہمزاد اور کافر جناب کو اپنے کنٹرول میں لے کر ان سے اپنے احکامات پر عمل کراتا ہے۔

دوسرے طریقے کو اپنانے کیلئے سفلی عامل شمشان گھاٹ میں چاند کی پہلی سے 8 تاریخ کی درمیانی راتوں کی چلہ کشی کرتا ہے۔ ”ایسے لوگ جو اپنی کسی شدید خواہش کی تکمیل کے دوران موت کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی روحیں بے قرار رہتی ہیں اور دنیا میں بھٹکتی پھرتی ہیں“ ہندو دھرم کی کتاب ”سری گرو گرنتھ سہائے“ میں درج عبارت ”انت کال جو لکشمی سمرے، ایسی چنتا میں جو مرے، سرب جون دل دل اترے“ کو بنیاد بنا کر ہندﺅ سفلی عامل کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے مکان کی تعمیر کے دوران مر جائے تو اس کی روح اسی مکان میں بھٹکتی رہتی ہے۔اس کے علاوہ شمشان گھاٹ یا ہندو قبرستانوں میں مسلمانوں کی طرز پر سیدھی لٹا کردفنائے گئے ہندوﺅں کی لاشیں بھی سفلی عاملوں کیلئے آسان ہدف ہوتی ہیں۔

سفلی عامل شمشان گھاٹ میں چلہ کشی کر کے ان بھٹکتی روحوں کو قابو کرتے ہیں۔ تاہم ہندو عقائد کے مطابق سیدھی بیٹھی حالت میں دفن کئے گئے ہندو عاملوں کی روحوں کو قابو کرنا سفلی عاملوں کی دسترس میں نہیں ہوتا۔ شمشان گھاٹ میں قائم سمادھیوں (قبروں) کے قریب بیٹھ کر روحوںح کو قابو کرنے کے عمل کو ”سمادھیوں میں ہند آتماﺅں کو پرکٹ (قابو) کرنے کا عمل“ کہا جاتا ہے۔ اسے شمشان گھاٹ جگانے کا عمل بھی کہا جاتا ہے۔

ہندی علوم کے ماہرین کے مطابق سفلی عامل بننے کیلئے بھیروں اور کالی ماتاکے منتروں کا مخصوص جاپ کرنا پڑتا ہے۔ اس میں صرف تجربہ کار اور منجھے ہوئے سفلی عامل ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اس عمل میں ناکام ہو جانے کی صورت میں عامل، ہلاک یاپاگل ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندو اپنے مردوں کو جلانے کے بعد سلامت رہ جانے والی ہڈیوں کو بانس کی مدد سے توڑ دیتے ہیں۔ خاص طور پر کھوپڑی کو لازمی توڑا جاتا ہے تاکہ سفلی عملیات کرنے یا کرانے والے اسے جادو گری کیلئے استعمال نہ کر سکیں۔ اس کے باوجود چتاکی راکھ ٹھنڈی ہونے کے بعدسفلی عاملین یا سفلی عامل کرانے والے شمشان گھاٹ آکر ورثا سے مردے کے جسم کی مختلف ہڈیوں کی راکھ طلب کرتے ہیں۔ پہلے پہل راکھ کے بدلے پیسوں کی آفر کی جاتی ہے۔ نہ ماننے پر دھونس دھمکی سے یا زبردستی راکھ لینے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔

سفلی عملیات سے واقف عاملین کے مطابق چتاکی راکھ سے نہ صرف سفلی نقوش تحریر کئے جاتے ہیں بلکہ اس کو مٹی میں ملا کر اس سے بنائے گئے پتلوں پر سوئیاں چبھو کر کسی مطلوبہ شخص کو ہلاک کرنے کے علاوہ جسمانی اعضاءاور بیماریوں میں بھی مبتلا کیا جاتا ہے۔ جبکہ چتا کی راکھ سفلی عملیات کا شکار بنائے جانے والے افراد کو گھول کر بھی پلائی جاتی ہے۔ شمشان گھاٹ میں کئے جانے والے سفلی عملیات میںخواتےن کو بانجھ کرنے کا سفلی عمل بھی شامل ہے جس کیلئے تازہ انسانی لاش کا جگر جلا کر اس پر طلسمی عملیات کئے جاتے ہیں۔
سفلی عملیات کی کامیابی کیلئے ”گوروچند“ نامی جز کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ گورو چند ”کپلا گائے“ (8 دانتوں والی گائے) کے پتے میں پائے جانے والے زہر میں پرورش پاتا ہے۔ جسے ماہر ”کمیل دار“ (قصاب) پتے سے نکالتے ہی اپنے منہ میںرکھ لیتے ہیں۔

اپنی زندگی داﺅ پر لگا کر حاصل کئے گئے ” گورو چند“ کو قصاب اپنی جان سے بھی عزیز رکھتے ہیں۔ سفلی عامل اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یا موکلات کے ذریعے بھی اسے حاصل کرتے ہیں۔ ہندو عاملوں کا موقف ہے کہ جس عمل میں ”گورو چند“ شامل کر لیاجائے اس کی کامیابی سو فیصد یقینی ہو جاتی ہے۔ سفلی عامل ”پشے نقشتر“ (جادوئی ساعتوں کی گھڑی) کی ڈیڑھ گھڑی میں گورو چند کی مدد سے انتہائی مہلک عملیات سر انجام دیتے ہیں۔ بھارت میں ”گورو چند“ کی بہت تھوڑی سی مقدار بھی لاکھوں روپوں تک فروخت ہوتی ہے۔

سفلی عملیات کی کامیابی کا دارومدار جادوگر کی مہارت اور تجربے کے علاوہ سفلی عملیات کے لیے استعمال کئے جانے والے مرکبات پر بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر ”دھوپ“ (ایک خاص قسم کی دھونی) تقریباً ہر سفلی عمل میں استعمال کی جاتی ہے۔ دھوپ کی دھونی کا مرکب گھگھر، کوڈیا،لوبان، آساپوری، ہرمل اور گورو چند کی آمیزن سے تیار کیا جاتا ہے۔ دھوپ کی دھونی تیار کرنے کیلئے مذکورہ بوٹیوں اور گورو چند کا اصلی ہونا بھی ضروری شرط ہے۔

ہندو عاملوں کے قریبی ذرائع کے مطابق کسی ایک بھی جز کے جعلی یا غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے عمل ناکام ہو جاتا ہے۔ تاہم سفلی عملیات اور ہندو مذہب کے تعلیم کردہ دیگر عملیات میں گورو چند کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ گورو چند کپلا گائے کے پتے میں پائے جانے والے زہر میں پرورش پاتا ہے۔

کپلا گائے 8 دانت والی اس بوڑھی گائے کو کہا جاتا ہے جو عمر کی آخری حد پر ہو۔ 8 دانت کی حامل ہر بوڑھی گائے، کپلا نہیں ہوتی بلکہ اوسطاً 50 سے 70 گائیوں میں سے کوئی ایک کپلا گائے ہی اپنے پتے کے اندر گورو چند پالتی ہے۔ گورو چند کی اہمیت سے واقف قصاب گائے کا پیٹ چیر کرسب سے پہلے پتے کو ٹنول کر گورو چند کی موجودگی کا پتہ لگاتا ہے۔ اگر پتے میں گورو چند موجود ہو تو ٹنولنے پر پتے کے اندر ڈلی یا لڈو نما سے محسوس ہوتی ہے۔ قصاب، اس خاص پتے کو چیرا لگا کر فوری طور پر پانی کی دھار میں ڈبو دیتا ہے۔ پتے کے زہر کو پانی میں بہہ جانے کے بعد قصاب ’گورو چند“ کو پھرتی سے منہ میں بند کر لیتا ہے۔ چند لمحوں تک بندر رہ کر منہ کی گرمی سے ”گورو چند“ برف کی سخت ڈلی جیسی حالت میں آجاتا ہے جبکہ پتے سے نکلتے وقت گورو چند کسی بلبلے کی طرح نازک ہوتا ہے۔

گورو چند کی 2 اقسام ایک قسم گہرے کھتئی رنگت کی اوردوسری ہلکی بھورے رنگت کی ہوتی ہے۔ گورو چند کا حصول قصاب کی چابک دستی پر منحصر ہوتا ہے۔ چند لمحوں کی تاخیر سے گورو چند ضائع ہو جاتا ہے۔ گہرے کھتئی رنگ کا گورو چند، پتے سے نکال کر فوری طور پر منہ میں نہ رکھا جائے تو فوری طور پر تحلیل ہو جاتا ہے۔جبکہ ہلکی بھوری رنگت کا گورو چند فوری طور پر منہ میں نہ رکھنے سے پتھر کی مانند سخت ہو کر اپنا اثر کھو کر بے کار ہو جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورو چند کا حصول صرف جدی پشتی، خاندانی قصائیوں کا ہی خاصہ ہے، عام پیشہ ور قصاب اس معاملے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر حاصل کیا گیا گورو چند قصاب اپنی جان کی طرح عزیز رکھتے ہیں اور اسے بطور خاص اپنے گھروں میں سنبھال کے رکھتے ہیں۔

ہندی علوم کے ماہر کے مطابق سفلی عامل عام سفلی عملیات سمیت پشے نقشتر کی ڈیڑھ گھڑی میں کئے جائے والے ہلاکت خیز عملیات میں ”گوروچند“ کو بطور خاص استعمال کرتے ہیںتاہم گورو چند کی افادیت اور اہمیت سے صرف تجربے کار سفلی جادو گر ہی واقف ہیں۔ اسی بنا پر ان کے عملیات میں طاقت اور کامیابی کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔27نقشتروں (ستاروں) کے دورانیوں میں سے پشے نقشتر کی ڈیڑھ گھڑی (ڈیڑھ گھنٹہ) تمام نقشتروں کے دورانیوں پر فوقیت رکھتا ہے۔

سفلی علوم کے ماہرین نے سفلی عملیات کیلئے 27 مخصوص ستاروں کے طلوع کے دورانیوں کا نقشہ تیار کر رکھا ہے۔ ان میں شامل ہر نقشتر کے طلوع کے دورانیے کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ تاہم ستائیسویں نقشتر کے طلوع کے ڈیڑھ گھنٹے اور گورو چند کی مدد سے کئے جانے والے عملیات کے ملاپ سے سفلی عامل خطرناک ترین اور ہلاکت خیز عملیات سر انجام دیتے ہیں۔ پشے نقشتر کی ڈیڑھ گھڑی میں گورو چند کی مدد سے کی جانے والا سفلی عمل عموماً کسی کو کلی طور پر برباد کرنے جسم کو مفلوج کرنے یا کسی کو اذیت ناک موت سے ہمکنار کرنے کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔

مذکورہ ڈیڑھ گھڑی میں سفلی عامل کسی سنسان مقام پر بیٹھ کر انسانی کھوپڑی کو لٹکا کر اس کے نیچے دھوپ کی دھونی جلانے کے بعد، گورو چند کے محلول سے انسانی کھال یا ہڈیوں پر سفلی نقوش بناتا ہے۔ عام طور سے اس عمل کیلئے کسی تازہ مردے کی نوچی ہوئی کھال یا بائیں ٹانگ کا گوشت اور بائیں ران کی ہڈی پر طلسمی عملیات کرتا ہے۔ اس مکروہ عمل کو ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔ جس کے بعد سفلی عمل پڑھی ہوئی کوئی شے عمل کرانے والے کو دے کر اسے قبرستان میں پھنکتے، باندھنے یا قبر میں گاڑنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

گورو چند کو ”گﺅ لوچن“ اور ”گھگروچن“ بھی کہا جاتا ہے، سفلی عامل اسے مختلف طریقوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر کوئی قصاب فروخت کرنے پر آمادہ ہو جائے تو منہ مانگی قیمت پر خرید لیتے ہیں۔ بصورت دیگر انپے کسی گرگے کے توسط سے کسی حیلے بہانے سے حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ سفلی عملیات میں عروج کی حد تک مہارت رکھنے والے سفلی عامل اپنے موکلات کے ذریعے کپلا گائے کو ہلاک کرا کے گورو چند حاصل کر لیتے ہیں۔ گورو چند ایک چھٹانک سے لے کر ایک پاﺅکے وزن کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سفلی عامل، سفلی عملیات کےلئے گہرے کھتئی رنگ والا گورو چند ہی استعمال کرتے ہیں ۔ بھارت میں گورو چند کی اہمیت پاکستان کی بہ نسبت بے حد زیادہ ہے۔ اسی سبب گورو چند وہاں ماشے اور تولے کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔ جس کی قیمت لاکھوں روپے فی تولہ تک مقرر ہے۔ اندرون سندھ کے کئی شہروں میں بھارت سے درآمد کردہ گوروچند دستیاب ہے۔ تاہم اس کے اصل یا جعلی ہونے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

دریں اثنا کالے جادو کے حوالے سے پہلی قسط19اگست2025 بروزبدھ جبکہ دوسری قسط 20اگست 2025،تیسری قسط 22اگست ،چوتھی قسط 24اگست کوناظرین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کوwww.cnnurdu.comپروزٹ کیا جاسکتا ہے آج 25اگست 2025بروز پیر اس سلسلے کی پانچویں قسط پیش کی جارہی ہے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button