جنگ بندی مذاکرات ناکام :مزید 62فلسطینی شہید: غزہ میں شدید غذائی بحران، لوگ چلتی پھرتی لاشیں بن لگے
حماس کے لیڈروں کا شکار کرکے نجات حاصل کرنا ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی، اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد منظور، اسلامی ممالک کی شدید مذمت
غزہ، دوحہ، نیویارک، پیرس، لندن، اسلام آباد (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیل کے جاری محاصرے اور حملوں کے باعث بدترین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، جہاں غذائی قلت کی وجہ سے پانچ میں سے ایک بچہ غذائی کمی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور خود مقامی افراد اس صورتحال کو ’’ انسانی پیدا کردہ قحط‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی ( انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں لوگ نہ زندہ ہیں نہ مردہ بلکہ چلتی پھرتی لاشیں بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک 100سے زائد افراد صرف بھوک کی وجہ سے شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، مقامی شہری ہانا المدہون نے بتایا کہ مارکیٹوں میں کھانا دستیاب نہیں اور اگر ہو بھی تو وہ اتنا مہنگا ہے کہ لوگ سونا اور ذاتی سامان بیچ کر آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ایک ماں نے بتایا کہ اس نے بچوں کو کچرے کے ڈھیر سے کھانے کے ٹکڑے تلاش کرتے دیکھا ہے، جب کہ ایک امدادی کارکن طہانی شہادہ نے کہا کہ کھانا پکانا اور نہانا بھی اب پرتعیش کام بن چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ میں بھوک کی ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور یہ انسانوں کی بنائی ہوئی قحط ہے۔ دیئرالبلح سے حاملہ خاتون ولا فتحی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دعا کر رہی ہیں کہ ان کا بچہ ان حالات میں دنیا میں نہ آئے، کیونکہ یہ حالات ناقابلِ تصور آفت سے کم نہیں۔
فرانس کا تاریخی قدم، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: امدادی جہاز ’’ حنظلہ‘‘ سے رابطہ منقطع، صیہونی حملے کا خدشہ، پاکستان کا اسرائیل کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ
غزہ میں امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی حملوں میں صرف گزشتہ دو ماہ میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ امداد کے لیے جانے والے عام شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ خوف کے مارے امدادی مراکز تک جانے سے بھی قاصر ہیں۔ برطانوی فلاحی ادارے سے وابستہ ایک ڈاکٹر نے کہا کہ غزہ قحط کے قریب نہیں بلکہ ’’ قحط زدہ‘‘ ہو چکا ہے۔ غزہ میں موجود عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اسرائیلی محاصرے کے باعث پیدا ہونے والی بھوک اور قحط پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہاں صحافی گولیوں سے نہیں بلکہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق خبر رساں ادارے اے ایف پی، اے پی، بی بی سی اور رائٹرز سمیت کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں صحافی خوراک نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی کھانے کا بندوبست کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ ان کے جسم میں مزید کام کرنے کی طاقت نہیں رہی۔ ادارے کے مطابق شدید بھوک، تھکن اور خطرناک حالات کے باعث رپورٹنگ ممکن نہیں رہی۔
اے ایف پی، بی بی سی اور دیگر اداروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو غزہ سے نکالنے کی اجازت دی جائے اور انسانی بنیادوں پر فوری امداد پہنچائی جائے، تاکہ صحافت کی یہ آخری آوازیں بھی ختم نہ ہو جائیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ صحافی بھی بھوک سے دم توڑ دیں گے۔ ادھر فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بحری جہاز ’’ حنظلہ‘‘ سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا ہے، جبکہ جہاز کے اردگرد ڈرونز کی موجودگی نے حملے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے تصدیق کی ہے کہ ان کا جہاز، جو غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے اور متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچانے کے مشن پر روانہ ہوا تھا، اب کسی بھی قسم کے مواصلاتی رابطے میں نہیں ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 62فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ جبکہ اسرائیل نے ایک اور متنازعہ قدم اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد منظور کرنے پر سعودی عرب، بحرین، مصر، انڈونیشیا، اردن، نائجیریا، فلسطین، قطر، ترکیے، متحدہ عرب امارات، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم نے شدید مذمت کی ہے۔ اسلامی ممالک کی جانب سے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ قرار دادوں کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی قابض حکومت کے ایسے اشتعال انگیز اقدامات 2ریاستی حل کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ادھر جنگ بندی کیلئے اسرائیل اور حماس کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے ہیں۔ نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹامی پگٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کا اعتراف کر لیا، انہوں نے کہا کہ دوحہ میں مذاکرات کے دوران حماس کا رویہ شرمناک رہا۔ ٹامی پگٹ کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے مکین حماس کی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں، غزہ میں متاثرین تک امداد پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔ امریکی ایلچی نے بھی جنگ بندی معاہدہ ناکام ہونے کا ذمہ دار حماس کو قرار دے دیا۔ سٹیووٹکوف کے مطابق لگتا ہے غزہ میں جنگ بندی حصول کی کوئی خواہش موجود نہیں، امریکی ایلچی نے مزید کہا کہ ہم اب یرغمالیوں کو گھر لانے کے لئے متبادل آپشنز پر غور کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی نہیں چاہتی، ان کے لیڈروں کا شکار کرکے نجات حاصل کرنا ہوگی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی خواہاں نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حماس کے لوگ مرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی سمت اہم پیش رفت کرتے ہوئے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کرنے کا عندیہ دے دیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے نام خط میں جو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا فرانسیسی صدر نے واضح کیا کہ پائیدار اور منصفانہ امن کے حصول کے لیے ریاستِ فلسطین کا قیام ناگزیر ہے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ فرانسیسی عوام مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ ثابت کیا جائے کہ امن ممکن ہے۔ مزید برآں پاکستان نے اسراءیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کی کوشش بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینی عوام کے حقوق کو مسلسل پامال کر رہا ہے، یہ یکطرفہ اقدامات امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ اقدامات خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے اسرائیل کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے، ایسے اقدامات فلسطین کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ادھر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور خوراک کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فرانس اور جرمنی کے ساتھ ہنگامی مشاورت کریں گے۔



