پاکستان میں3مئی کو یوم صحافت منایا گیا، وہی صحافت جسے ریاست کا چوتھا ستون بھی کہتے ہیں۔ یہ ستون تین سال قبل مکمل مسمار کردیا گیا۔ ستون کی مسماری کے بعد ملبہ کو باقاعدہ پیکا ایکٹ کے تابوت میں ڈال کر نامعلوم قبر میں اُتار دیا گیا۔
یوں اس ملک میں عملی صحافت اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ مجھے ادب کے ساتھ آج کے دن یہ اختلاف کرنے دیجیئے ہم صحافی تو دُور قلم مزدور بھی نہیں رہے۔ قلم مزدو تو کچھ نہ کچھ اپنی مرضی سے لکھ لیتا ہے لیکن ہم نہیں، میں آج کے دن خود کو ’کاپی مزدور‘ کا نام دیتا ہوں یعنی جو الفاظ نامعلوم ذرائع سب کو معلوم ذرائع سے ملتے ہیں اُن کو بغیر کوئی اختلاف، شوروغوغا کیے بغیر’ پیسٹ ‘یعنی تحریر یا شائع کردیے جائیں۔
ہماری صحافتی تنظیمیں:
سوری! کاپی مزدوروں کی تنظیموں کے کرتا دھرتاؤں نے آج یوم صحافت پر اظہار رائے کی آزادی کے سیکشن 19 اور سکیشن18 پر لمبے لمبے لیکچرز دیے ہیں۔
لیکن اِن میں بیشتر کرتا دھرتا اِنہی کے نمائندے ہیں جنہوں نے پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد دو دھاری تلوار ہماری گردنوں پر رکھی ہوئی ہے، جس میں اور آپ نے ذرا بھی حرکت کی تو کاٹ دیئے جائیں گے ، بیروزگارکر دیے جائیں گے یا غائب کردیے جائیں گے اور ہمارے کرتا دھرتا صرف مذمتی بیان جاری کرکے لمبی تان کا سو جائیں گے یا پھر سیاسی مقصد کے لیے ہمارا نام استعمال کرکے اُن سے اپنا ریٹ بڑھائیں گے جن کے وہ نمائندے ہیں۔
آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں’ ڈکٹیشن ازم ‘ ’ چاپلوس ازم‘ ’ ذاتی مفاد ازم‘ ‘ میڈیا مالکان پروٹیکشن ازم‘ اور کچھ کا نام میں نہیں لکھا سکا وہ ازم ہورہی ہے، جرنلزم نہیں ۔۔۔۔۔ لہٰذا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں خدایا ! ہمیں صحافی نہ کہیں، ہمیں آج سے ’کاپی مزدور‘ لکھا اور پکارا جائے۔



