ناران ،کاغان ، شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی پریم کہانی
ایبٹ آباد: (رپورٹ سی این این اردوڈا ٹ کام )وادی کاغان کا سب سے زیادہ حسین اور دلفریب مقام ناران ہے ، مانسہرہ سے ناران کا فاصلہ 122کلو میٹر ہے ۔ کاغان سے ناران کی دوری صرف 23کلو میٹر ہے ۔ سطح سمندر سے 7904فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہاں پر ناران سے 10کلومیٹر سطح سمندر سے 10500فٹ کی بلندی پر واقع گہرے نیلے سبز پانی سے مزین پیالہ نما جھیل ’’ سیف الملوک ‘‘ کا دلفریب نظارہ دلوں کو مول لیتی ہے ۔

شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کے عشق کی داستان بھی یہاں ہی پروان چڑھی ایڈونچز بھرے جیپ کے ایک گھنٹے کے سفر کے بعد پہاڑوں میں گھری ہو ئی دیو مالا ئی اور طلسماتی جھیل کے نیلگوں پانی اور ارد گرد کے خوش کن مناظرنے اپنے سحر میں جکڑ لیا ۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جھیل سیف الملوک کے اندر جانے والے پہاڑی ملبے کو نہ روکا گیا تو شدید بارشوں کے دوران جھیل کا پانی اوور فلو ہو کر ناران کے قصبے اور بازار کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔کاغان میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور آلودگی کی وجہ سے وہاں کی طلسماتی جھیلوں کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ جھیل کے دہانے پر واقع پل کو پار کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے ہر طرف لوگ ایک دوسرے کی تصاویر اور اپنی سیلفیاں لیتے نظر آتے ہیں۔ناران سے 48 کلومیٹر دور واقع وادیِ کاغان کی سب سے بڑی جھیل لولوسر کا بھی تقریباً یہی حال ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ وادیِ ناران بالخصوص دیو مالائی قصوں کا حامل جھیل سیف الملوک پاکستان کا اہم ترین سیاحتی مرکز ہے جس کی بین الاقوامی اہمیت مسلمہ ہے،کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بورڈ کو مزید فعال بنایا جائے گا، نقشہ منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہو گی اور تجاوزات کرنے والوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
سیاح دریائے کنہار کے کنارے خوشگوار موسم میں ٹھنڈی ہواؤں اور کھلی فضاؤں میں بیٹھ کر وادی ناران کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے، لامچر، سجاکوٹ، نوری، چجیاں ہری پور، جاروگو سوات، لانچھ دیر اور امبریلا ایبٹ آباد کے آبشاروں کو ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ کے آبشاروں کو جوڑنے کے لیے سیاحتی مقامات، جیپ ٹریک اور سڑکیں تیار کی جا رہی ہیں،گلیات، کاغان، ناران، کالام، مالم جبہ اور دیر میں سیاحوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے 500 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے 15 علاقوں میں جیپ ایبل ٹریکس بنائے جا رہے ہیں، اس کے قریب کیمپنگ پوڈز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اسی طرح پی ٹی ڈی سی کے 19 سے زائد ہوٹل/ موٹل جن میں گھرام چشمہ، پیر مفلشٹ، بونی، چترال میں کالاش، اوشو کالام، مانکیال، سیدو شریف، سوات میں میاندم، بالاکوٹ مانسہرہ، ایوبیہ ایبٹ آباد کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔
گھنول مانسہرہ، مانکیال سوات، مدقلش چترال اور ٹھنڈیانی ایبٹ آباد میں انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز ورلڈ بینک کے تعاون سے بنائے جائیں گے جبکہ گھنول مانسہرہ 59.6 ایکڑ، مانکیال سوات 29.5 ایکڑ، مدقلش 540 کنال اور ٹھنڈیانی بالترتیب 640 کنال اراضی پر قائم کیا جائے گا۔
پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سب سے پہلے 5.5 بلین روپے کی مجوزہ لاگت کے ساتھ انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز گھنول اور 2.9 بلین روپے کی تخمینہ لاگت سے مانکیال کو تیار کیا جائے گا۔

مانکیال اور گھنول آئی ٹی زیڈز کے لیے قواعد و ضوابط تیار کیے گئے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے آئی ٹی زیڈز کی طرز پر مکمل کیے جائیں گے۔ ان انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز ITZs سے 200,000 براہ راست اور بالواسطہ ملازمت کے مواقع اور 2.8 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔دیر اپر سے مدکلشت چترال تک کیبل کار منصوبے کی فزیبلٹی مکمل کر لی گئی ہے اور اس کی مالی معاونت عالمی بینک خیبرپختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورازم پراجیکٹ (کائیٹ ) کے ذریعے کرے گی۔



