پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ججزایک دوسرے کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے:سپریم کورٹ

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کا سابق ڈپٹی رجسٹرار نذر عباس کیخلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق ڈپٹی رجسٹرار نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ممبران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی غیر پائیدار ہےاسے کالعدم قراردیا جاتاہے۔

فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے دیا، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ کے 21 اور 27 جنوری کے احکامات مؤثر نہیں رہے، آرٹیکل 204 کے تحت ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ججز کو آئینی تحفظ حاصل ہے، صرف سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرسکتی ہے، ججز کے مابین توہین عدالت کارروائی انصاف کے نظام کو نقصان پہنچائے گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ کو آئینی ترمیم کے بعد مقدمات سننے کا اختیار نہیں تھا، پارلیمنٹ کی 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیسز صرف آئینی بینچ ہی سن سکتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریگولر بینچ نے آئین کی شقوں کے برعکس کارروائی جاری رکھی۔

خیال رہے کہ رواں سال 21 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو عہدے سے ہٹانے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے۔

مزید کہا گیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

خیال رہے کہ وفاق نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کیخلاف توہین عدالت کیس کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی، جس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

وفاق نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل میں موقف اپنایا تھا کہ 2 رکنی بینچ کا 27 جنوری کا فیصلہ اختیار سے تجاوز ہے، مرکزی مقدمےمیں بھی بینچ کےدائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کےبعد ریگولربینچ قانون چیلنج کرنے پر مبنی مقدمہ نہیں سن سکتا، کسی بینچ کو اختیار نہیں کہ بینچ تشکیل دینےکا حکم دے، فیصلےمیں سپریم کورٹ ججزکمیٹی کو عملی طورپر غیرفعال کردیاگیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button