پاکستان میں حالیہ دنوں میں جس موضوع نے طبی ماہرین، پالیسی سازوں، والدین اور سماجی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے وہ سروائیکل کینسر کی ویکسین ہے۔ یہ سوال عام بحث و مباحثوں اور میڈیا مباحثوں کا مرکز بن چکا ہے کہ آیا چھوٹی بچیوں کو یہ ویکسین لگوانا ضروری ہے یا نہیں۔ بظاہر یہ ایک سیدھا سا طبی معاملہ لگتا ہے مگر درحقیقت یہ سوال کئی پرتوں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف سائنسی اور طبی دلائل ہیں جو عالمی ادارہ صحت اور ماہرین امراض نسواں و آنکولوجی کی تحقیق سے جڑے ہیں دوسری طرف معاشرتی و ثقافتی عوامل ہیں جو اس ویکسین کی قبولیت یا مزاحمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی وسائل کی تقسیم صحت کے نظام کی ترجیحات اور عوامی آگاہی کے مسائل بھی اس بحث کا حصہ ہیں۔اگر ہم بیماری کی سائنسی حقیقت پر نظر ڈالیں تو سروائیکل کینسر دنیا بھر میں خواتین کو متاثر کرنے والے کینسرز میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ ہر سال دنیا میں لاکھوں خواتین اس مرض کا شکار ہو کر علاج کی مشکلات اور بالآخر موت کا سامنا کرتی ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق سالانہ قریباً پانچ لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور ان میں سے دو سے تین لاکھ خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مرض کتنا مہلک اور کتنا وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ اس کینسر کی سب سے بڑی وجہ ایک وائرس ہے جسے ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس جسم میں داخل ہو کر لمبے عرصے تک خاموش رہ سکتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ خلیوں کو متاثر کر کے کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے برسوں پہلے HPV ویکسین متعارف کرائی جا چکی ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور جاپان جیسے ممالک نے اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں اسے شامل کیا اور آج ان ممالک میں سروائیکل کینسر کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آسٹریلیا نے تو اعلان کر رکھا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں وہ اس مرض کو مکمل طور پر ختم کرنے کی دہلیز پر ہوگا۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا کہ وہاں ویکسینیشن کو سنجیدگی سے لیا گیا عوام کو آگاہی دی گئی اور صحت کے نظام کو مضبوط بنایا گیا۔اس کے برعکس پاکستان کی صورتحال کچھ مختلف ہے۔ یہاں سروائیکل کینسر کے اعداد و شمار عالمی اوسط کے مقابلے میں کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ ساڑھے پانچ سے چھ ہزار کے قریب کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سےقریباً تین ہزار خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان کی کل آبادی جو بائیس کروڑ سے زائد ہے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ شرح نسبتاً کم ہے۔ مگر اس کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ اعداد و شمار اصل حقیقت کا مکمل عکس نہیں دکھاتے۔پاکستان میں بیماری کی شرح صوبوں، شہروں اور دیہی و شہری علاقوں کے حساب سے مختلف ہے۔ بڑے شہروں خصوصاً کراچی لاہور اور اسلام آباد میں جہاں تشخیصی سہولتیں زیادہ ہیں وہاں کیسز کی رپورٹنگ بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس دیہی علاقوں میں اعداد و شمار کم دکھائی دیتے ہیں مگر اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں تشخیص اور ریکارڈ رکھنے کا نظام کمزور ہے۔ اکثر خواتین بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود کسی مستند ڈاکٹر تک نہیں پہنچ پاتیں اور نتیجتاً بغیر تشخیص اور علاج کے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔ یوں سمجھنا چاہئے کہ پاکستان میں جو کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں وہ دراصل اصل شرح کا ایک حصہ ہیں جبکہ خاموش اموات اور تشخیص نہ ہونے والے مریض کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان جیسے ملک کے لئے جہاں پہلے ہی صحت کا نظام کمزور ہے اور وسائل محدود ہیں سروائیکل کینسر کی ویکسین کو قومی سطح پر متعارف کرانا واقعی ضروری ہے؟ یہاں بحث کئی پہلو رکھتی ہے۔ایک دلیل یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے وسائل اُن بیماریوں پر لگانے چاہئیں جو زیادہ عام اور فوری طور پر مہلک ہیں۔ مثال کے طور پر پولیو کے خلاف مہم دہائیوں سے جاری ہے مگر آج تک مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ خسرہ، ہیپاٹائٹس بی اور سی، تپ دق، ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں ہر سال ہزاروں جانیں لیتی ہیں۔ غذائی کمی ماں اور بچے کی اموات اور صاف پانی کی کمی جیسے مسائل ہمارے صحت کے ڈھانچے کو پہلے ہی چیلنج کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایک ایسی ویکسین کو قومی پروگرام میں شامل کرنا جس کی بیماری کی شرح نسبتاً کم ہے بعض ماہرین کے نزدیک ترجیحات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس کے برعکس طبی ماہرین کا موقف یہ ہے کہ ویکسین ہمیشہ مستقبل کے تحفظ کے لئے دی جاتی ہے نہ کہ صرف موجودہ شرح کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ HPV ویکسین اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب بچیوں کو اوائل عمری میں دی جائے یعنی اس وقت جب وہ وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات سے پہلے کی زندگی گزار رہی ہوں۔ یوں یہ ویکسین ایک طویل المدتی حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ اگر پاکستان آج یہ قدم اٹھا لے تو آئندہ بیس سے تیس سالوں میں ہزاروں خواتین کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔یہاں ایک اور پہلو نہایت اہم ہے اور وہ ہے معاشرتی و ثقافتی رویہ۔ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں جنسی صحت کے موضوعات کو کھلے عام زیر بحث لانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ HPV بنیادی طور پر جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اس لئے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ اس ویکسین کا مطلب غیر اخلاقی رویوں کو قبول کرنا ہے۔ بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچیوں کو یہ ویکسین لگوانا ان کے اخلاقی دائرے پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر اس موضوع پر مزاحمت زیادہ ہے۔ مگر یہ سوچ حقیقت میں ایک غلط فہمی ہے۔ بیماری کسی معاشرتی سوچ یا مذہبی اقدار کی پابند نہیں ہوتی۔ وائرس اپنی فطری طریقے سے پھیلتا ہے اور اگر اس کے خلاف مؤثر اقدام نہ کیا جائے تو نقصان معاشرے کو مجموعی طور پر ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی سفارش یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک مرحلہ وار ویکسینیشن پروگرام شروع کریں۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ پہلے بڑے شہروں میں یا زیادہ شرح والے علاقوں میں اسے رضاکارانہ بنیادوں پر شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران عوامی آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہے تاکہ والدین کو یہ سمجھایا جا سکے کہ یہ ویکسین ان کی بچیوں کی طویل المدتی صحت کے لئے ہے نہ کہ کسی غیر اخلاقی رجحان کو فروغ دینے کے لئے۔ میڈیا، دینی رہنما، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکن سب مل کر یہ کردار ادا کر سکتے ہیں کہ عوامی مزاحمت کو کم کیا جائے اور درست معلومات عام ہوں۔پاکستان میں خواتین کی صحت ہمیشہ سے ایک کم ترجیح یافتہ شعبہ رہا ہے۔ ماں اور بچے کی صحت کے مسائل، زچگی کے دوران اموات اور تولیدی صحت سے متعلق لاعلمی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ اگر اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ویکسین کے ساتھ ساتھ خواتین کی صحت کے بارے میں وسیع تر آگاہی مہم چلائی جائے تو یہ دوہرا فائدہ دے سکتی ہے۔ ایک طرف مستقبل میں سروائیکل کینسر کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے دوسری طرف خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں شعور حاصل ہوگا۔اس کے علاوہ سروائیکل کینسر صرف ایک بیماری نہیں بلکہ معاشرتی و معاشی بوجھ بھی ہے۔ جب کسی گھر میں ایک عورت کینسر کا شکار ہو جاتی ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کے لئے جدوجہد کرتی ہے بلکہ پورا خاندان اس کے علاج کے اخراجات و سماجی دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ ایک عام پاکستانی خاندان کے لئے مہنگا علاج اور کینسر کے خلاف طویل جدوجہد برداشت کرنا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اگر ویکسین کے ذریعے ہزاروں خواتین کو اس کینسر سے بچایا جا سکتا ہے تو یہ قومی معیشت پر بوجھ کم کرنے کا بھی ذریعہ ہوگا۔اب یہ فیصلہ آسان نہیں کہ ویکسین کو فوری طور پر قومی پروگرام کا حصہ بنایا جائے یا نہیں۔ تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل کی صحت کے تحفظ کے لئے اس پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ حکومت ایک درمیانی راستہ اختیار کرے۔ ویکسین کو مرحلہ وار متعارف کرایا جائے عوام کو آگاہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ تشخیصی مراکز اور خواتین کی صحت کے دیگر پروگراموں کو بھی مضبوط کیا جائے۔ یوں ایک متوازن حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا بلکہ خواتین کو ایک جان لیوا مرض سے محفوظ بنانے کی سمت میں بھی پیش رفت ہوگی۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ سروائیکل کینسر کی ویکسین پاکستان میں فی الحال ایک متنازع مگر نہایت اہم موضوع ہے۔ بیماری کی شرح اگرچہ کم ہے مگر صفر نہیں اور آنے والے وقت میں اس کے بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ویکسین لگوانی چاہئے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کب کہاں اور کس پیمانے پر لگوانی چاہئے۔ اگر اس فیصلے کو بروقت سمجھ داری اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے تو پاکستان کی آنے والی نسلوں کو ایک بڑی آزمائش سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جسے اختیار کرنا اصل دانشمندی ہوگی۔



