بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

وزیر اعظم کا کسانوں اور صنعت کاروں کیلئےروشن معیشت پیکج

عقیل انجم اعوان

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو وسائل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود دہائیوں تک معاشی عدم استحکام، توانائی کے بحران اور انتظامی کمزوریوں کا شکار رہا۔ کبھی عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ نے معیشت کو جھنجھوڑاتو کبھی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے نے ترقی کی رفتار روک دی۔ مگر اب ایک بار پھر قومی معیشت میں نئی روح پھونکنے کی سنجیدہ اور منصوبہ بند کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ’’روشن معیشت پیکیج‘‘ کے اعلان کے ساتھ اس سمت میں عملی قدم اٹھایا ہے جو پاکستان کے صنعتی اور زرعی مستقبل کو ایک نئی سمت دے گا۔ یہ منصوبہ محض ایک وقتی ریلیف نہیں بلکہ ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہے جو معیشت کو خود انحصاری کی بنیادوں پر استوار کرنے کا عزم رکھتا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک صنعتوں اور کسانوں کو 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی رعایتی شرح پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔

یہ رعایت محض چند پیسوں کا فرق نہیں بلکہ ہزاروں صنعتی یونٹس اور لاکھوں کسانوں کے لئے زندگی بدل دینے والا فیصلہ ہے۔ پہلے جو صنعتی شعبہ 34 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی حاصل کر رہا تھا اب اسے کم نرخوں پر اضافی توانائی دستیاب ہوگی۔ اسی طرح زرعی شعبے کو جو 38 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی ملتی تھی اب وہ قریباً 40 فیصد کم قیمت پر دستیاب ہوگی۔ اس پالیسی کا براہ راست فائدہ یہ ہوگا کہ پیداوار کے اخراجات گھٹیں گے پیداواری صلاحیت بڑھے گی اجناس سستی ہوں گی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا اور سب سے بڑھ کر عوام کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ اس رعایت کا بوجھ نہ گھریلو صارفین پر پڑے گا نہ کسی دوسرے شعبے پر۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کا وژن عوام دوست ہے جس میں ترقی کا بوجھ عوام کے کندھوں پر نہیں ڈالا جا رہا بلکہ ریاستی وسائل اور بہتر نظم و نسق کے ذریعے اسے ممکن بنایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی ایک ایسے وزیراعظم کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو محض نعروں پر یقین نہیں رکھتا بلکہ عملی اقدامات کو اپنی پہچان سمجھتا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ شہباز شریف نے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے کوئی انقلابی قدم اٹھایا ہو۔

ان کی سیاسی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ محض وعدے نہیں کرتے بلکہ منصوبوں کو زمین پر اُتارنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ پنجاب میں بطور وزیرِاعلیٰ ان کے ادوار میں جو ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے وہ آج بھی ان کی انتظامی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لاہور، راولپنڈی اور ملتان کی میٹرو بسیں، اورنج لائن ٹرین، دانش اسکول سسٹم، جدید اسپتالوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک یہ سب اس عزم کی علامت ہیں کہ عوامی خدمت ان کے نزدیک سیاست نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔

بطور وزیراعظم انہوں نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بھی ایک مربوط حکمت عملی اپنائی۔ شمسی توانائی کے منصوبے ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری نہیں کریں گے تو ترقی کی کوئی کوشش پائیدار نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے انہوں نے تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جس سے قومی گرڈ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نیلم جہلم، داسو اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے بھی ان کے تسلسل اور عزم کی روشن مثال ہیں۔

یہ وہ اقدامات ہیں جو مستقبل میں پاکستان کو توانائی کے میدان میں خودکفیل بنا سکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ’’روشن معیشت پیکیج‘‘ کا اثر صرف صنعت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ زراعت، ہنرمند طبقے اور برآمدی شعبوں تک پھیلے گا ایک حقیقت پسندانہ نکتہ ہے۔ کیونکہ جب صنعتوں کو سستی بجلی ملے گی تو پیداوار بڑھے گی، کارخانے بند ہونے کے بجائے دوبارہ چلیں گے۔ مزدوروں کے گھروں میں چولہے روشن ہوں گے اور ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ یہی وہ میکانزم ہے جس کے ذریعے معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے۔

گزشتہ برس سردیوں میں جب حکومت نے محدود پیمانے پر اسی نوعیت کا رعایتی پیکیج دیا تو صرف چند ماہ میں صنعتی اور زرعی شعبے نے 410 گیگا واٹ اضافی بجلی استعمال کی۔ اس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا برآمدات بہتر ہوئیں اور ہزاروں افراد کو روزگار ملا۔ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ریاست سنجیدہ نیت سے رعایتی پالیسی اپنائے اور اسے بروقت لاگو کرے تو اس کے ثمرات فوری طور پر معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی تجربے کی بنیاد پر اب ’’روشن معیشت بجلی پیکیج‘‘ کو زیادہ بڑے پیمانے پر لاگو کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پالیسیوں میں ہمیشہ صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کو بھی مرکزی حیثیت دی ہے۔ ان کے نزدیک کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسان پیکیج کے تحت زرعی قرضوں میں اضافہ کیا گیا، کھادوں پر سبسڈی دی گئی، جدید مشینری کی فراہمی ممکن بنائی گئی اور زرعی تحقیقی اداروں کو فعال کیا گیا۔ اب جب کسانوں کو سستی بجلی دستیاب ہوگی تو ٹیوب ویل چلانے کے اخراجات کم ہوں گے، آبپاشی کے نظام میں بہتری آئے گی اور فصلوں کی نگہداشت مزید آسان ہو جائے گی۔ اس طرح زراعت میں پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا جو عام صارف تک فائدہ پہنچائے گا۔وزیراعظم نے اس پیکیج کے اجرا کے موقع پر پاور ڈویژن کے وزیر سردار اویس لغاری اور ان کی ٹیم کو سراہا۔

ان کا یہ کہنا کہ معیشت کی بحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کنجی صنعت و زراعت کی مضبوطی میں ہے ایک حقیقت پر مبنی بیان ہے۔ کیونکہ اگر صنعتیں بند رہیں اور کھیت بنجر ہوں تو کسی ملک کی معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکتی۔شہباز شریف کا وژن ہمیشہ یہی رہا ہے کہ پاکستان کو ترقی کے ایسے ماڈل پر ڈالا جائے جو پائیدار ہو جس میں خود انحصاری، شفافیت اور کارکردگی بنیادی اصول ہوں۔ ان کے حالیہ اقدامات جیسے روشن معیشت پیکیج، شمسی توانائی کے منصوبے اور زرعی اصلاحات اسی وژن کی عملی تعبیر ہیں۔وزیراعظم نے حال ہی میں سیلاب متاثرین کے لئے 100 ارب روپے کا تاریخی امدادی پیکیج منظور کیا۔ یہ محض وقتی امداد نہیں تھی بلکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے مستقل منصوبہ بندی کی گئی۔

متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد، مکانات کی تعمیر اور زرعی زمینوں کی بحالی جیسے اقدامات نے شہباز شریف کے انسان دوست مزاج کو واضح کر دیا۔ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں صفائی، نکاسیِ آب، سڑکوں کی تعمیر اور شہری ترقی کے منصوبے بھی ان کی گورننس ماڈل کی علامت ہیں۔ وہ منصوبے شروع کرنے سے پہلے ان کی تکمیل کے راستے ہموار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’پرفارمنس کے وزیراعظم‘‘ کہا جاتا ہے۔’’روشن معیشت بجلی پیکیج‘‘ کے معاشی اثرات نہ صرف بڑے کارخانوں بلکہ چھوٹی صنعتوں، گھریلو کاروباروں اور زرعی مزدوروں تک پہنچیں گے۔

بجلی کے کم نرخوں سے کاروباری لاگت کم ہوگی ہنرمند طبقہ زیادہ منافع کما سکے گا اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی۔ جب ملک کے اندر پیداوار بڑھے گی تو برآمدات بھی فطری طور پر بڑھیں گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے اور حکومت کے پاس عوامی فلاح کے مزید منصوبے شروع کرنے کے وسائل آئیں گے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں ترقی خود ترقی کو جنم دیتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جب دنیا توانائی کے بحران، عالمی کساد بازاری، اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، پاکستان کے لئے روشن معیشت پیکیج جیسا فیصلہ ایک دانشمندانہ اور جرات مندانہ قدم ہے۔ کیونکہ موجودہ حالات میں صنعتی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالا جا سکتا ہے۔

شہباز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جب صنعت ترقی کرے گی اور کسان خوشحال ہوگا تو ملک خودبخود قرضوں سے نجات حاصل کرے گا۔یہ پیکیج دراصل ایک سوچ، ایک وژن اور ایک عہد کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ عہد جس میں پاکستان کے ہر مزدور، ہر کسان، ہر صنعت کار کو ایک نئی امید دی جا رہی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگر حکمران خلوصِ نیت سے کام کریں تو چند سالوں میں قوموں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں۔ شہباز شریف نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ باتوں سے زیادہ عمل کی طاقت اہم ہوتی ہے۔ ان کے وژن میں سیاست نہیں خدمت ہے، اقتدار نہیں ذمہ داری ہے اور وعدہ نہیں عمل کی قوت ہے۔پاکستان جیسے ملک کو ایسے ہی وژنری قیادت کی ضرورت ہے جو بحرانوں کے شور میں بھی حل تلاش کرے۔

’’روشن معیشت پیکیج‘‘ اسی وژن کی عملی تصویر ہے۔ یہ صرف بجلی کے نرخ کم کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی ہے جو صنعت، زراعت، توانائی، روزگار، اور عوامی فلاح کے تمام پہلوؤں کو ایک لڑی میں جوڑتی ہے۔اگر یہ منصوبہ تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا، اگر توانائی کے میدان میں اصلاحات اسی رفتار سے جاری رہیں، اگر کسان کو سہولت، صنعت کار کو استحکام اور مزدور کو عزت ملتی رہی، تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ چند برسوں میں پاکستان خود انحصاری اور خوشحالی کے نئے دور میں داخل نہ ہو جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button