پاکستانتازہ ترینکالم

امریکا ،بھارت اربوں ڈالر کے جنگی سودے اور پاکستان

انعام علوی:سینئر صحافی،تجزیہ کار

امریکا کا بھارت کو 35F اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فرہم کرنے اور دیگر اربوں ڈالر کے معاہدوں سے پاکستان کی سلامتی کو سنجیدہ خطرات پیدا ہو گئے ہیں اور خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے جبکہ امریکا نے انڈیا کو امریکی پیٹرول، گیس اور امریکی جوہری ری ایکٹروں کی فروخت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔منصوبے کے مطابق امریکہ بھارت سے ہونے والے تجارتی خسارہ 100 ملین ڈالر کو بھی ختم کرے گا اور دونوں ممالک باہمی تجارت کو آئندہ پانچ برس میں 500 ارب ڈالر تک پہنچائے گے ۔ٹرمپ نے ممبئی حملوں میں مبینہ ملوث پاکستانی کینیڈین تہور رانا کو امریکا سے بھارت کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ٹرمپ مودی مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکا نے ممبئی حملوں منصوبہ ساز کی بھارت حوالگی کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا وہ ممبئی، پٹھان کوٹ حملوں کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے،پاکستان نے ٹرمپ مودی ملاقات کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان سے متعلق حوالے کو یکطرفہ، گمراہ کن، حیران کن اور سفارتی اقدار کے منافی قرار دے دیا اوربھارت کو جدیدہتھیاروں کی فراہمی پرشدید تشویش کا اظہار کر دیا ۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ نئی دہلی کو جدید امریکی ہتھیاروں کی فراہمی باعث تشویش ہے۔
پاکستان کو امریکا بھارت جنگی سودوں پر تو تشویش ہے لیکن اگر تجزیہ کاروں اور زمینی حقائق کو
دیکھیں اور بھارتی وزیر اعظم کی امریکی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کو سنیں تو مودی بھائی کافی کنفیوز اور دبائو کا شکارنظر آئے ۔ ٹرمپ کو رام کرنے کے لیے مودی ٹی وی کیمروں کے سامنے بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے رہے ناقدین نے اس پر ان پر خوب تنقید بھی کی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر مسکراتے رہے ۔ ٹرمپ نے بھارت کے زیادہ محصولات کی تنقید کی اور بھارت کے بلند تجارتی محصولات (ٹیرِف) پر تحفظات کا اظہار کیا کہا ہم بھارت کیساتھ مساوی تجارتی پالیسی چاہتے ہیں اگر بھارت ہم پر زیادہ محصولات عائد کرتا ہے تو ہم بھی ان پر اتنا ہی عائد کرینگے۔
بھارتی میڈیابھی اس دورے کو کامیاب دکھانے کی بھرپور کوشش کرے گا لیکن بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نیانیما باسو کہتی ہیں کہ یہ دورہ بھارت سے زیادہ امریکہ کے حق میں رہا۔امریکی صدر نے بھارت کو تیل اور گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر یہ کہا گیا کہ امریکہ بھارت کو تیل سپلائی کرنے والا بڑا سپلائر بننا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف روس اس وقت بھارت کو تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس لیے روس سے خریداری فوراً بند کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ دوسر ی جانب بھارت اور امریکا میں طویل فاصلہ اور دیگر وجوہات پر امریکہ کا تیل روس اور کئی دوسرے ملکوں سے مہنگا ہے۔ نیانیما باسو کے مطابق بھارت کے لیے آئندہ چار پانچ برس تک خارجہ پالیسی میں یہ چیلنج رہے گا کہ ایک طرف وہ چین اور روس کے ساتھ کس طرح نبھاتا ہے اور دوسری جانب وہ امریکہ کے ساتھ کیسے ڈیل کرتا ہے۔ یہ آئندہ برسوں میں بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہے گا۔جبکہ جہازوں کی خریداری کے معاملہ بھی طویل ہو سکتا ہے کیونکہ بھارتی فضائیہ کی ایسی بہت سی تجاویز پہلے سے برسوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔غیرقانونی انڈین تارکین وطن پر بھارت کی حمایت اور خاموشی پر بھی مودی پر بہت تنقید ہو رہی۔
پاکستان ان حالات میں اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، ایک تو اسے چین سے اسٹیلتھ طیاروں کے حصول کو ممکن بنانا ہو گا اور چین سے مزید جنگی سودوں اور روسی تیل کے حصول کی کوشیش بھی تیز کرنا ہوں گی ۔اس کے علاوہ سفارتی پراپنے بیانیے کو مضبوط بنا کر پیش کرنا ہو گا ۔ اور دفتر خارجہ کے بیان "کہ بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی، محفوظ پناہ گاہوں اور اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ماوارائے عدالت قتل کی وارداتوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتاـ” کو دنیا کے سامنے ثبوتوں سمیت پیش کر کے سوشل میڈیا پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا سمیت دیگر فورمز پر اس کی تشہیر کرنا ہو گی ۔تاکہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button